لندن (نمائندہ خصوصی) پاکستان میں انسانیت کےلیے گراں قدر خدمات ادا کرنے پر بحریہ ٹاؤ ن کے بانی اور چیئرمین ملک ریاض کی فلاحی سرگرمیوں کا برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز میں اعتراف کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے یونائیٹڈ انٹرنیشنل کمیونٹیز فورم (یو آئی سی ایف، یوکے ) نے ملک ریاض کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعاد کیا۔ جس کا مقصد ملک ریاض کی فلاحی سرگرمیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا۔ جن کے ذریعے وہ ضرورت مندوں اور غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس موقع پر یو آئی سی ایف کے چئیرمین شہزادہ حیات، لیبر ایم پی خالد محمود اور لارڈ قربان حسین نے شرکت کی اور انہوں نے اپنی تقاریر میں ملک ریاض کی پاکستان کے مثبت خدمات کو سراہا۔ برٹش پاکستانی چیریٹی اداروں کے ارکان اور متعدد سماجی اور سیاسی اداروں کے نمائندے بھی ایونٹ میں موجود تھے۔ اس موقع پر برٹش پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے شہزادہ حیات نے ملک ریاض کو ’’سروس ٹو ہیومنٹی‘‘ ایوارڈ پیش کیا۔ ملک ریاض نے شرکا سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے پاکستان سے باہر ایک پینی کی بھی سرمایہ کاری نہیں کی ہے۔ ان کی تمام دولت پاکستان میں ہے اور پاکستان میں ہی رہے گی۔ ملک ریاض نے کہا کہ وہ عام لوگوں کی مشکلات کے بارے میں جانتے ہیں۔ انہوں نے شرکا کو بتایا کہ وہ ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والدین کےلیے دو وقت کے کھانے کا بندوبست کرنا بھی مشکل تھا۔ اللہ ان پر ہمیشہ مہربان رہا۔ جس کےلیے وہ اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں۔ یوآئی سی ایف کے صدر شہزادہ حیات نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک ریاض ایشیا کے بل گیٹس ہیں۔ انہوں نے پاکستان فلاحی شخصیات کے معاملے میں عالمی چیمپئن ہے جس کے پاس عبدالستار ایدھی، عمران خان اور ملک ریاض جیسے لوگ موجود ہیں۔ خالد محمود ایم پی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں اور انہوں نے ذاتی طور پر وہاں ملک ریاض کی فلاحی سرگرمیوں کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان دولت مند طبقہ محروم طبقے کی کفالت اور نگہداشت کرتے تو پاکستان کے زیادہ تر مسائل حل ہوجا ئیں گے لارڈ قربان حسین نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ زرمبادلہ بھیج کر پاکستان کی مدد کی ہے۔ مگر پاکستان میں رہنے والے کو مزید مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں مخیر افراد کو ملک ریاض کی مثال کو اپنانا چاہیے اور سماجی و فلاحی پراجیکٹس میں عطیات دینے چاہئیں۔