۔،۔اُردو حکومتی زبان کیوں نہیں بن رہی؟۔میر افسر امان۔،۔
مشہور ہے انسان جس زبان میں خواب دیکھتا ہے وہ اگر اس کے نظامِ حکومت کی زبان ہو تو وہ ترقی کے منازل آسانی سے طے کر سکتا ہے۔ انسان کو جو بات اس کی مادری زبان میں سمجھ آ سکتی ہے وہ کسی دوسری زبان میں سمجھ آنا مشکل ہو تا ہے۔ کہتے ہیں جب جاپان پر غیروں نے قبضہ کیا تو جاپان کے بادشاہ نے ان سے ہاتھ باندھ کر درخواست کی۔آپ فاتح ہیں ہماری ہر چیز آپ کے قبضے میں ہے۔میری آپ سے ایک ہی درخواست ہے کہ میری قوم سے اُس کی زبان نہ چھیننا۔ جاپان نے اپنی مادری زبان کی وجہ سے وہ ترقی کی کہ وہ دنیا کی صف اوّل کی معیشت بن گیا۔ دنیا کے دوسرے کئی ملکوں نے بھی اپنی زبان رائج کر کے ترقی کی منازل طے کیں۔ لہٰذا پاکستان کی حکومتی زبان اُردو ہونی چاہیے۔انگریزی زبان سے کوئی دشمنی نہیں وہ ایک بین لا لقوامی زبان ہے۔ اسے بھی ملک پاکستان میں رہنا ہے۔ مگر اُردو ہماری پہچان ہے ہماری آن ہے۔ ملک میں بولی جانے والی زبان ہے۔ ملک کے سارے صوبوں کی رابطے کی زبان ہے۔ لہٰذا اسے پاکستان کی حکومتی زبان ہو نا چاہیے۔ بانی پاکستان نے پاکستان بننے کے بعد کہا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اُردو اور صرف اُردور ہی ہو گی۔ یہ بات کم طور پر سمجھی گئی کہ پاکستان کو قائم داہم رکھنے کے لیے اس کا اسلامی پاکستان ہونا ضروری ہے۔ جو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے دو قومی نظریہ کی اساس ہے۔ اسی طرح پاکستان کی زبان کابھی ایک ایسی زبان کاقومی اور حکومتی زبان ہونا ضروری ہے۔ یہ برصغیر کے مسلمانوں کی زبان ہے۔ اسی زبان کے ذریعے تحریک پاکستان اُٹھائی تھی۔ پاکستان بنانے کے لیے نعرے بھی اسی زبان میں تخلیق کیے گئے تھے۔ پاکستان کا مطلب کیا”لا الہ الا اللہ“۔ بن کے رہے گا پاکستان۔ لے کر رہیں گے پاکستان۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔جو اُردو زبان پورے ملک میں بولی جاتی ہو، سمجھی جاتی ہو اور رابطے کے زبان ہو، اسے پاکستان کی حکومتی زبان ہونا چاہیے۔ قائداعظمؒ نے کہا تھا، باقی صوبے اپنے اپنے مقامی زبان اپنے صوبوں میں رائج کر سکتے ہیں۔ اس کی ٹھوس وجہ تھی۔ ہمارے ملک کے صوبوں کی زبان ان کے صوبوں تک ہی معدود تھی۔ بنگالی پاکستان کے دوسرے صوبوں میں نہیں بولی جاتی تھی۔پشتو زبان بھی اپنے صوبے تک معدود تھی۔ اسی طرح پنجابی سندھی بلوچی اپنے اپنے صوبوں میں بولی جاتی تھیں۔ واحد ایک اُردو زبان تھی جو پورے پاکستان کے صوبوں کے اندر بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ سارے پاکستان میں رابطے کی زبان ہے اور تھی۔ بلکہ بھارت ارد گرد کے ممالک اس سے بڑھ دنیا کے کئی ممالک میں بھی بولی اور سمجھی جانے والی زبان تھی۔ اسی لیے متحدہ پاکستان کے ۶۵۹۱ء کے مشترکہ آئین میں بھی اُردو کو قومی زبان بنانے کا کہا گیا۔ اور اس کے عملی نفاذ کے پچیس سال مدت رکھی گئی تھی۔ اس کے بعد ۳۷۹۱ء میں شق نمبر ۱۵۲ میں کہا گیا کہ ملک کی حکومتی زبان اُردو ہو گی اور اس آئین میں بھی پچیس سال مدت رکھی گئی۔مگر نہ آئین بنانے والی پیپلز پارٹی اور نہ مسلم لیگ اُردو کو حکومتی زبان بنایا۔ دونوں نے چار چار بار پاکستان پر حکومت کی مگر اس نیک کام کو نہ کیا اور آج تک اُردو حکومتی زبان نہ بن سکی۔بدقسمتی ہے کہ جن کے پاس یہ کام کرنے کا اختیار تھا اور اب بھی ہے، انہوں نے پاکستانی عوام کی اُمیدوں پر پانی ڈالتے ہوئے پاکستان کے اندر اسلامی نظام حکومت قائم کیا اور نہ ہی پورے ملک میں بولی جانے والی سمجھی جانے والی اُردو زبان کو حکومتی زبان بنایا۔ اُردو کو بانی پاکستان کے حکم کے مطابق اور پاکستان کے آئین کے دفعات کے مطابق حکومتی زبان نہ بنانے پر جماعت اسلامی اور دیگر تنظیموں نے اپنے اپنی طور پر اُردو کے نفاذ کے لیے کام کیا۔ محمد کوکب اقبال ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑ کر یہ آڈر پاس کرایا کہ اُردو کو پاکستان کے آئین کی دفعات کے مطابق حکومتی زبان بنایا جائے۔ مگر پھر وہی بات کہ جن پاس اختیارات ہیں انہوں نے آج تک اس پر عمل نہیں۔ میرے علم کی حد تک محمدکوکب اقبال ایڈو کیٹ نے سپریم کورٹ میں کنٹیپٹنٹ آف کورٹ کابھی مقدمہ قائم کیاہوا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ گورے انگریز جاتے جاتے پاکستان میں کچھ لوگوں کو کالے انگریز بنا گئے ہیں۔ جن میں جاگیردار، سرمایا دار کارخانے دار شامل ہیں۔ یہ پیسے کی بنیاد پر الیکشن لڑتے ہیں اور پارلیمنٹ میں جاتے ہیں، ان کے پاس اختیارات ہیں۔ ان کالے انگریزوں کے بچے،گورے انگریز کے قائم کردہ مشنری اسکولوں سے انگریزی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ پھر پھر انگریزی زبان بولتے ہیں۔ ان کالے انگریزوں نے حکومت کرنے کے لیے مقابلے کے سارے امتحان انگریزی میں رکھے ہوئے ہیں۔ اُن کے بچے انگریزی میں امتحان دے کرپاس ہو جاتے ہیں اور بیروگریٹ بن کر پاکستان پر حکومت کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ پاکستان بنے کے بعد سے جاری و ساری ہے۔ اب کیسے ممکن ہے کہ یہ کالے انگریز ملک میں بولی جانی والی سمجھی جانے والے رابطے کی زبان اُردو کو رائج کریں گے۔ مقابلے کے امتحان انگریزی میں ہونے کی وجہ سے اُردو میڈم کے پڑھنے والے بچے یہ ا متحان پاس نہیں کرسکتے۔اس لیے وہ زندگی کے دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔ مقابلے کے امتحان اُردو میں کیے جائیں تاکہ پاکستان کے سارے بچے اس میں امتحان دیں اور پاکستان میں حکومتی اداروں میں جا کر ملک وقوم کی خدمت کریں۔کیونکہ دنیا اور پاکستان میں جمہورت رائج ہے۔ اس میں ہر کسی کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے تنظیم سازی اور اس سے اپنے مطالبات منوانے کا حق ہے۔ لہٰذا پاکستان میں نفاذاُردو تحریک پاکستان قائم ہے۔ اس کے منتظمین ملک بھر میں نفاذ اُردو کی کوششیں کر رہے ہیں۔ بااختیار لوگوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ ملک پاکستان میں بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کے حکم اور آئین پاکستان کی دفعات کے مطابق ملک میں اُردو کو حکومتی زبان بنائے۔ اسی طرح اُردو کے نفاذ کے لیے قانونی جنگ کوکب اقبال ایڈو کیٹ لڑ رہے ہیں۔جماعت اسلامی اپنے طور پر کوششیں کر رہی ہیں۔ ایک زرو دار تحریک سے ہی با اختیار لوگ اُردو کو حکومتی زبان بنانے پر مجبور ہوں گے۔ ہمیں چاہیے اپنے اپنے طور پر اور ملک میں جاری تحریک نفازاُردو کے ساتم مکمل تعاون کریں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ با اختیار لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائلکرے۔ آمین۔
