0

-,- مقبرہ اورنگ زیب عالمگیر اورہندو تعصب انتہا پر – صابر مغل -,-

0Shares

-,- مقبرہ اورنگ زیب عالمگیر اورہندو تعصب انتہا پر – صابر مغل -,-
دسمبر 1992میں بابری مسجد کے انہدام پر ہندوستانی عدالت اعظمیٰ کے حکم پر وزیر اعظم کے ہاتھوں رام مندرکی بنیاداس جیسے شرمناک مذہبی جنونیت انتہا پسندی کے شرمناک واقعات صرف بھارت میں ہی ممکن ہیں جن کی دنیا بھرمیں کہیں اور مثال نہیں گذشتہ منگل کی شام رقبہ کے لحاظ سے تیسری اور آبادی کے لحاظ سے بھارت کی دوسری بڑی ریاست مہاشڑاجس کی سرحدیں گجرات مدھئیہ پردیش چھتیس گڑھ اندراپردیش کرناٹک گوا اور بحیرہ عرب سے ملتی ہیں بھارت کا مشہور شہر بمبئی اسی ریاست میں ہے مہاشڑ اکے شہر ناگپور میں ہنگامے پھوٹ پڑے جب مغل دور کے عظیم شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے مقبرے کو منہدم کرنے کا نعرہ بلند ہوا اور بھارتی انتہا پسند تنظیموں بجرنگ دل اور وی ایچ بی کے احتجاج کے بعد خونی جھڑپیں شروع ہو گئیں اورنگ زیب عالمگیر پر سب سے زیادہ جابرانہ حکمرانی کا الزام عائد کیا گیاپر تشدد فسادات میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی،ان گنت گاڑیاں نذر آتش پورے مہاشڑا میں قرآنی آیات لکھے کپڑے اور اورنگ زیب عالمگیر کے پتلے جلائے گئے ہر طرف خوف و ہراس کی فضا دوسری جانب دنیا بھر میں نہ صرف مغل قبیلے بلکہ تمام مسلمانوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج جاری ہے اس صورتحال پر کمشنر ناگ پور ڈاکٹر رویندر کمار سنگھل نے دفعہ 163کے تحت متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا یہ کرفیو کوتوال گینش پیٹھ تحصیل لکڑ گنج بیچ بائدل شانتی نگر سکر درہ نندن وان امام واڑہ یشودھرانگر اور نگر دیس کے پولیس اسٹیشنز کی حدودمیں لگایا گیا، ناگ پور ریاست کے وزیر اعلیٰ دیونیندر فرنویس (بھارتی جنتیہ پارٹی) اور مرکزی وزیر نتن گڈکر ی کا شہر ہے،حکومتی وزیر سنجے برشاٹ کے مطابق ناگپور میں ہونے والے تشدد کے پیچھے مہاوکاس اکھاڑی کا ہاتھ ہے، مراٹھا بادشاہ چھتریتی شیوا جی کے یوم پیدائش کے حوالے سے جاری تقریبات کے موقع پر اس شرمناک تحریک کا آغازکیا گیا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی قیادت میں دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں نے مشترکہ طور پر مقبرہ منہدم کرنے کا مطالبہ بابری مسجد کی طرز پر شروع کر دیا مستقبل میں یہ معاملہ کسی بہت بڑے تنازع یا کسی سانحہ کی صورت اختیار کر سکتا ہے آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے سربراہ و حیدر آباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مہاشڑاکے وزیر اعلیٰ سمیت دیگر وزراء کے بیانات کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ اس کے برعکس سائبر سیل نے اقلیتی ڈیمو کریٹک پارٹی کے36 سالہ فہیم شمیم خان سمیت 5 افراد کے خلاف سوشل میدیا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا حکومتی ذرائع کے مطابق فہیم منصوبہ بندی کے پیچھے ماسٹر مائنڈ میں سے ایک ہے کیونکہ اس نے جھڑپیں شروع ہونے سے قبل انتہائی اشتعال انگیز تقریر کی تھی ڈی سی کے مطابق اس نے بہت سی ویڈیوز کو جوڑ کر اپڈیٹ کر کے گردش کیا پولیس نے فسادات میں میں شامل افراد کی شناخت کے عمل کو تیز کر دیا حکومتی ذرائع کے مطابق 18خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں کام کر رہی ہیں گرفتار افراد کو مجسٹریٹ میمونہ سلطانہ کے سامنے پیش کیا گیا جس نے انہیں جیل بھیجنے کا حکم دیا،قانونی طور پر مقبرہ کو مسمار کرنا ناممکن ہے نہ ہی مہاشڑا حکومت یہ اختیار رکھتی ہے اسے گرانے کی کوئی بھی کوشش خلاف قانو ن ہے کیونکہ موجودہ وراثتی قوانین کے تحت مسماری کا عمل ہی ناقابل عمل ہے مرکزی حکومت ایک تفصیلی قانونی اور انتظامی عمل کے ذریعے اسے ڈی نوٹیفائی کر سکتی ہے کیونکہ یہ قدیم یادگاروں اور آثار قدیمہ کی سائٹس اور باقیات ایکٹ) AMAASR)1958کے تحت یہ تاریخی اہمیت کے پیش نظر وزارت ثقافت کے ماتحت محفوظ ہیں مغل دور کے عظیم اور چھٹے حکمران عبدالمظفر محی الدین اورنگ زیب جو مغلیہ سلطنت کا اآخری عظیم شہنشاہ تھا جن کے زیرتسلط پورا بر صغیر تھاان کی وفات کے بعد مغل دور مسلسل زوال پذیر ہوتاچلا گیاتیموری خاندان سے تعلق رکھنے والے اورنگ زیب اپنے والد کے دور میں ایک قابل فوجی کمانڈر دکن کے وائسرائے اور گجرات کے گورنر بھی رہے ان کی حکمرانی میں ہندوستان دنیا کا امیر ترین ملک تھا جو دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی پیدا کرتا تب انگلستان صرف 2فیصد تک محدود تھااورنگ زیب نے ہندوستان کی سیاسی و ثقافتی تاریخ کو تشکیل دینے میں 49سال حکومت کی شریعت اور اسلامی معاشیات کو مکمل طور پر قائم کرنے والے دنیا کے چند بادشاہوں میں سے ایک تھے فتاویٰ عالمگیر سمیت متعدد کتابوں تصنیف کیں عظیم مغل حکمرانوں کے برعکس ان کی آخری سادہ آرام گاہ ان کے طرز زندگی کی عکاسی کرتی ہے وہ ٹوپیاں سیتے اور ہاتھ سے قرآن مجید بھی لکھا وہ ایک نہایت رحمدل اور وسیع الظرف انسان تھے اہل کمال کا قدر دان اچھے اخلاق سے پیش آنے والا حکمران تھا مغربی اسکالر سٹینلے لین پول کے مطابق وہ تاریخ میں سب سے پہلا بادشاہ تھا جو پکا مسلمان تھا اور ایک ایسا بادشاہ ہوا جس نے مذہب کی بدولت اپنے تخت کو خطرے میں ڈال دیا مغلیہ تاریخ میں مندروں کی دیکھ بھال کے لئے سب سے بڑھ کر گرانٹ انہوں نے دی مگر غیر قانونی مندروں کو مسمار بھی کروایا ان کے دور حکومت میں سینکڑوں ہندؤں کو اچھی ملازمتیں دی گئیں،اورنگ زیب عالمگیر کا انتقال احمد آباد کے قریب بھنگر میں اپنے فوجی کیمپ میں ہوا تب ان کے پاس صرف88روپے تھے جو ان کی ہدائت مطابق خیرات کر دیئے گئے انہیں مہاشڑا کے علاقے اورنگ آباد اب ضلع چھتری سماج نگر سے 35کلومیٹر دور خلد آباد جسے اس وقت زمین پر جنت کہا جاتا تھا وہاں کابل بخاراقندھار سمرقند ایران عراق سمیت دیگر مقامات سے صوفیہ آباد رہے ان کے روحانی رہنماء شیخ زین الدین کی درگاہ کے احاطے میں دفن کیا گیا ان کی وصیت کے مطابق ان کی سادہ سی قبر پر 14روپے12آنے خرچ ہوئے وہاں صرف مٹی ہے اور اس پرایک پودااوپر سفید کپڑا،شیخ سکھر نامی شخص اس وقت بھی اس کی دیکھ بھال میں مصروف رہتا ہے جس کا یہ سلسلہ پانچ نسلوں سے جاری ہے،اورنگ زیب بہت بہادر تھے صرف 17سال کی عمر میں وہ بپھرے ہوئے ہاتھی سے ڈرنے کی بجائے انہوں نے رک کر اس کے ماتھے پر نیزہ داغ دیا تھا ہندو بنیا جس نے بابری مسجد کو بھی نہ بخشا اگر اس وقت بھی عالمی سطح پر امت مسلمہ سخت ایکشن لیتی تو اس وقت نہ انڈیا میں مسلمانوں کی زندگی عذاب ناک ہوتی اور نہ ہی ایسے مزید گھٹیا کام سامنے آتے انڈیا فلمی دنیا میں عرو ج پر ہے اس کی مجموعی فلمیں مسلمانوں باالخصوص پاکستان کے خلاف بنائی جاتی ہیں اب بھی اورنگ زیب عالمگیر مزار کو منہدم کرنے کی یہ تحریک ہالی وڈ کی فلم چھاوا کا نتیجہ ہے جس میں انہیں ایک ظالم،متعصب ہندو مخالف حکمران اور لٹیرے کے طور پر دکھایا گیا،بھارت کے بالکل وسط میں قائم شہر ناگپور ناگ ندی کے کنارے آباد اس شہر(سنگتروں کے شہر)سے اٹھنے والی یہ آگ کسی بڑے طوفان کی دستک دے رہی ہے کیونکہ بھارت کے سب سے بڑے صاف ستھرے قرار دیئے جانے والے شہر ناگپور جو بھارت کا 13واں بڑاشہر ہے جہا ں ہندو شدت پسند تنظیم راشڑیہ سویم سیوک سنگھ کا مرکز بھی ہے،دنیا بھر میں پھیلی مغل قوم اپنے قائدین کے ساتھ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر اس متعصبانہ تحریک کی ہر محاذ پر مذمت کرتی عالمی عدالت کا درواہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا صدر پاکستان وزیر اعظم اور آرمی چیف اس سنگین مسلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں