۔،۔ ہر روز 137 خواتین اور لڑکیوں کو شراکت داروں یا خاندان کے ہاتھوں قتل کیا جاتا ہے۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ ہر روز 137 خواتین اور لڑکیوں کو شراکت داروں یا خاندان کے ہاتھوں قتل کیا جاتا ہے۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ ہر روز 137 خواتین اور لڑکیوں کو شراکت داروں یا خاندان کے ہاتھوں قتل کیا جاتا ہے۔ نذر حسین۔،۔

٭خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں تقریباََ ٭پچاس ہزار٭ خواتین اور لڑکیوں کو قریبی ساتھیوں یا خاندان والے افراد کے ہاتھوں قتل ہوئیں یا کی گئیں ٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/اقوام متحدہ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم اور اقوام متحدہ برائے خواتین نے عورتوں پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 2024 میں تقریباََ ٭پچاس ہزار٭ خواتین اور لڑکیوں کو قریبی ساتھیوں یا خاندان والے افراد کے ہاتھوں قتل ہوئیں یا کی گئیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے طول و عرض میں (ساٹھ) فیصد خواتین اپنے ساتھیوں یا رشتہ داروں جیسے کہ (باپ، چچا، تایا یا ماموں، ماوُں اور بھائیوں کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کی گئیں) جبکہ اس کے موازنے کے طور پر قتل کے گیارہ فیصد مرد متاثرین کو ان کے قریبی لوگوں نے قتل کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹ (ایک سو سترہ ممالک) کے اعداد و شمار پر مبنی ہے یعنی یہ تعداد یومیہ۔۔ایک سو سینتیس۔۔خواتین یہ ہر دس منٹ میں تقریباََ ایک عورت کو قتل کیا جاتا ہے۔تحقیق میں اس بات کا بھی اعتراف کیا جاتا ہے کہ ہر سال ہزاروں خواتین اور لڑکیوں کی زندگیاں قتل نسواں کی نظر ہو جاتی ہے جس میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے اور قتل نسواں کے خطرے کے لحاظ سے خواتین اور لڑکیوں کے لئے خطرناک ترین جگہ ان کا گھر ہوتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا کا کوئی خطہ اس سے محفوظ نہیں لیکن گذشتہ سال تقریباََ (بائیس ہزار) کے ساتھ سب سے زیادہ تعداد افریقہ میں تھی۔ اقوام متحدہ برائے خواتین کے پالیسی ڈویثرن کی ڈائریکٹر سارہ ہینڈرکس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ٭قتل نسواں الگ حالت میں نہیں ہوتے، وہ اکثر تشدد کے ایک پیوستہ تسلسل کے باعث ہوتے ہیں جو قابو کرنے والا رویہ، دھمکیوں اور ہراسانی بشمول آن لائن کے ساتھ سروع ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں