
۔،۔ ایک بیلف (کورٹ کلرک)کو ڈیوٹی کے دوران شکاری چاقو سے ہلاک کر دیا گیا۔ نذر حسین۔،۔
٭کورٹ کلرک نے عدالتی حکم کے مطابق کرایہ دار کو اطلاع دی کہ اسے اس کے اپارٹمنٹ سے بے دخل کیا جا رہا ہے،اتنا سننا تھا کہ بیتالیس سالہ نوجوان نے شکاری چاقو سے پے در پے وار کر کے شدید زخمی کر دیا جس کی بنا پر اٹھیاون سالہ (کورٹ کلرک)چند منٹ بعد مر گیاے یہ واردات بہت سے سوالات پیچھے چھوڑ گئی٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/سارلینڈ اوبر بیکس باخ۔ پبلک پراسیکیوٹر(بیرنڈ واڈگ)نے واردات قتل کو کچھ اس طرح بیان کیا کہ منگل کی صبح تقریباََ (8:35آٹھ پینتیس) بجے ایک بیلف (کورٹ کلرک) اوبر بیکس باخ سارلینڈ کے پتے پر پہنچا جبکہ اس کے ساتھ پراپرٹی مینیجمنٹ کمپنی کے تین لوگ بھی تھے، تاہم وہ اکیلے ملٹی فیملی بلڈنگ کی پہلی منزل پر واقع اپارٹمنٹ پر پہنچا کورٹ کلرک نے عدالتی حکم کے مطابق کرایہ دار کو اطلاع دی کہ اسے اس کے اپارٹمنٹ سے بے دخل کیا جا رہا ہے،اتنا سننا تھا کہ بیتالیس سالہ نوجوان نے شکاری چاقو سے پے در پے وار کر کے شدید زخمی کر دیا جس کی بنا پر اٹھیاون سالہ (کورٹ کلرک)چند منٹ بعد مر گیاے یہ واردات بہت سے سوالات پیچھے چھوڑ گئی، (آٹھ انتالیس8:39) بجے ایک گواہ نے پولیس کو کال کی کہ کورٹ کلرک کی جائے وقوعہ پر موت واقع ہو گئی۔ جبکہ مشتبہ شخص (8:49آٹھ انچاس)جائے وقوعہ کے قریب موجود تھا جبکہ اس نے بغیر کسی مزاحمت کے گرفتاری دے دی۔ ملزم کو منگل تک اپارٹمنٹ خالی کرنا تھا، پولیس نے بیلف (کورٹ کلرک) کو اپارٹمنٹ کے داخلی علاقہ میں فرش پر بے جان پڑا پایا، ایمرجنسی سروسز نے صرف کورٹ کلرک کی موت کی تصدیق کر دی۔ رپورٹ کے مطابق بیتالیس سالہ جرمن ملزم زیر حراست ہے، تفتیش کار ابتدائی طور پر اس حوالہ سے بہت کم معلومات جاری کی گئیں۔ پبلک پراسیکیوٹر(بیرنڈ واڈگ)کا کہنا تھا کہ جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ بیتالیس سالہ شخص کو جرم کے دن اپارٹمنٹ کو خالی کرنا تھا کیونکہ یہ آخری تاریخ عدالت کی طرف سے مقرر کی گئی تھی۔ سارلینڈ کے وزیر انصاف (پیٹرا برگ۔ایس پی ڈی) نے کہا ہم ایک انتہائی قابل احترام ساتھی کے نقصان پر سوگ مناتے ہیں جس نے کئی دہائیوں تک ہمارے قانون کی حکمرانی کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا تھا ٭مقتول ایک شوہر ٭والد اور دوست تھا جو ڈیوٹی نبھاتے ہوئے اچانک غیر متوقع طور پر تشدد سے مار دیا گیا۔ ہمارے ساتھی کی موت سار لینڈ کی عدلیہ کے لئے ایک اہم موڑ ہے۔سار لینڈ کی عدلیہ بھی لہرے دکھ میں ہے۔ جرم کے ایک دن بعد بھی کچھ واضح نہیں ہے، جائے وقوعہ پر انفرادی طور پرپھول چڑھائے جا رہے ہیں جبکہ شمعیں بھی روشن کی گئیں۔ پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے جاری تحقیقات میں کہا گیا کہ تفتیش پوری رفتار سے جاری ہے، فی الحال اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ہے کہ مشتبہ مجرم منشیات یا اکحل کے زیر اثر تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران اس شخص نے کورٹ کلرک کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کر لیا۔ یہ بات بھی زیر بحث ہے کہبیلف (کورٹ کلرک) بنیادی طور پر پولیس یا کسی محافظ کے اپارٹمنٹ میں کیوں داخل ہوا، بنیادی طور پر وہ ہمیشہ حفاظتی بنیان یا جیکٹ بھی پہنے ہوتے ہیں اس دن اس نے جیکٹ نہیں پہنی ہوئی تھی۔




