
۔،۔ بارہ سالہ لڑکی ہاتھ میں چھری لئے سیڑھیوں پر کھڑی تھی،پولیس نے گولی چلا دی۔ نذر حسین۔،۔
٭جرمنی کے شہر بوخم میں بارہ سالہ لڑکی کو پولیس اہلکاروں نے گولی مار دی، اس میں ملوث پولیس اہلکاروں کو ممکنہ حملے کا خدشہ تھا،انہوں نے اپارٹمنٹ کے دروازے کے سامنے سیڑھیوں پر پوزیشن سنبھال لی جیسے ہی لڑکی ہاتھ میں دو چھریاں لئے دروازے پر نمودار ہوئی تو پولیس اہلکاروں نے گولی چلا دی جو لڑکی کے سینے پر لگی٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/بوخم۔ مقامی پولیس اور نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی داخلہ کمیٹی اور خاندانی امور کی کمیٹی کے مشترکہ خصوصی اجلاس میں سینئر پبلک پراسیکیوٹر (بن یامین کلوک) نے کہا کہ جب لڑکی دونوں ہاتھوں میں چھریاں لئے جیسے ہی درہازے پر نمودار ہوئی اہلکاروں نے گولی چلا دی جو لڑکی کے سینے میں پیوست ہو گئی۔ تاہم بارہ سالہ بچی کے وکیل کو تفتیشی حکام کو اس اکاونٹ پر شک ہے، لڑکی کی ماں اور بھائی سے بات کرنے کے بعد پتا چلا کے کوئی چاقو سے حملہ نہیں ہوا، اور یقینی طور پر چاقو سے حملہ نہیں کیا گیا جس سے پولیس افسران کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو۔ سائمن بیریراگو نزالیز نے کہا، انہوں نے ریاستی حکومت پر پولیس کا یک طرفہ ساتھ دینے کا الزام لگایا۔ لڑکی کو سترہ نومبر کی رات آپریشن کے دوران سینے پر گولی لگی تھی جس سے اس کی حالت تشویشناک تھی، نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے وزیر داخلہ (ہر برٹ ریول۔ سی۔ڈی۔یو) نے کہا کہ دو آپریشنز کے بعد بارہ سالہ بچی فیالحال بیدار اور جواب دہ ہے، تاہم آنے والے دنوں میں تیسرا آپریشن بھی ضروری ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس افسران کو روانہ کیا گیا تھا کیونکہ بارہ سالہ بچی (میونٹر) میں بہرے بچوں اور نو عمروں کے اپنے گروپ ہوم سے غائب تھی، وہ بوخم میں اپنی والدہ کے گھر گئی تھی، لڑکی کا بھائی بہن اور ماں تینوں افراد گھر میں موجود تھے جبکہ کہا گیا ہے کہ (تینوں بہرے ہیں)بہری بچی کو زندگی بچانے والی دوا کی ضرورت تھی اس لئے پولیس ماں کے گھر اسے لینے پہنچی تھی۔تقریباََ رات کے (ڈیڑھ بجے) ماں نے چار پولیس افسران کے لئے دروازہ کھولا، چیف پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق ماں جذباتی طور پر پریشان تھی اور ما رہی تھی جس پر دو پولیس اہلکاروں نے اسے زمین پر دبوچ کر لٹا دیا تھا، اس سارے ڈرامائی انداز کو بارہ سالہ لڑکی اور اس کا اکیس سالہ بھائی دالان سے سب کچھ دیکھ رہے تھے، اس دوران افسران نے آوازیں سنیں کے کچن کی درازوں سے چھریاں نکالی گئی ہیں لڑکی نے اپنے بھائی کو بھی چھری کی دھمکی دی، یہ ساری وارات کے دوران پولیس اسلحہ ہاتھ میں لئے تیار کھڑی تھی۔جیسے ہی بچی نے دروازہ کھولا ڈر کی وجہ سے پولیس نے گولی چلا دی، لڑکی کے ہکیل نے سائمن نے ریاستی حکومت اور تفتیشی حکام پر غیر جانبداری کے فقدان کا الزام لگایا، پولیس افسران لڑکی کی پہنچ سے بہت دور تھے۔وزیر کا کہنا تھا کہ ہم سب جانتے ہبں کہ چاقو ایک ہتھیار کے طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔


