۔،۔ جرمنی کے شہر ساربروکن میں ایک مسلمان کی لاش کو جلا دیا گیا۔کمیونٹی افراد غم و غُصے میں۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ جرمنی کے شہر ساربروکن میں ایک مسلمان کی لاش کو جلا دیا گیا۔کمیونٹی افراد غم و غُصے میں۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ جرمنی کے شہر ساربروکن میں ایک مسلمان کی لاش کو جلا دیا گیا۔کمیونٹی افراد غم و غُصے میں۔ نذر حسین۔،۔

٭سار بروکن کے علاقے (ڈوڈ وائلر Dudweiler) میں مقیم پاکستانی، پانچ بھائیوں کا بھائی دلشاد حسین کی لاش کو جلا دیا گیا، جس پر کمیونٹی افراد نے زبردست غم و غُصے کا اظہار کیا۔یہ ہوتا ہے جب ایک ددوسرے کا خیال نہ کیا جائے یا رابطہ منقطع ہو جائے تو؟٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ /ساربروکن/ڈووڈ وائلر۔ نہایت افسوس کے ساتھ کمیونٹی کو یہ خبر شیئر کی جا رہی ہے کہ ساربروکن ڈووڈوائیلر کا رہائشی دلشاد حسین کو مرنے کے بعد جلا دیا گیا، یہ افسوسناک خبر ساربروکن کی مشہور و معروف شخصیت توقیر بٹر صابری جو کسی تعارف کے محتاج نہیں نے شان پاکستان کے ایڈیٹر ان چیف شے شیئر کی، ایک اطلاع کے مطابق اس کے بھائی کو خبر دی جا چکی تھی لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے جب دوسرے دن بھائی پولیس آفس پہنچے تو اس سے پہلے ہی لاش کو جلایا جا چکا تھا، واضح رہے اگر دلشاد حسین پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر ہوتا تو یقیناََ پولیس قونصلیٹ جنرل آف پاکستان یا پاکستانی ایمبیسی سے ضرور رابطہ کرتے، توقیر بٹر صابری اس المناک خبر کے بعد دل برداشتہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم پاکستانی کمیونٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے جاننے والوں کی ضرور خبر رکھا کریں تا کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ پیش آئیں۔ اسی لئے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ٭جرمن پاکستانی ثقافت اور بہبود ایسوسی ایشن رجسٹرڈ۔Deutsche Pakistanischer Kultur und Wohlfahrtverein ٭کی بنیاد رکھی گئی تھی، پاکستانی کمیونٹی کی انفارمیشن کے لئے کہ ابھی تک ہمارے تقریباََ ایک ہزار سے زائد ممبران ہیں جن کو باقاعدہ طور پر ایسوسی ایشن کی طرف سے ممبرشپ کارڈ اشو کئے ہیں، صرف (دس یورو) میں آپ کا کی پوری فیملی انشورنس حاصل کر سکتی ہے۔سوسائٹی کا ایک بہت بڑا اور اہم نصب العین مشکل حالات میں اپنے ممیران اور ان کے اہل خانہ کو اخلاقی اور مادی مدد فراہم کرنا ہے۔ جس مقصد کے لئے سوسائٹی جرمنی،یورپ میں انتقال کر جانے والے ممیران کی میتیں پاکستان پہنچانے یا ان کی جرمنی ہی میں تدفین کے اخراجات مخصوص حد تک برداشت کرے گی، اگر متوفی کے لواحقین یہ فرائض خود ادا کرنا چاہیں تو انہیں سوسائٹی کو اس سلسلہ میں ذمہ داریوں سے بری کرنا ہو گا، جو ڈیڈ باڈی پاکستان بجھوائی جاتی ہے اس کے لواحقین کو ایک ہزار یورو نقد بھی دیئے جاتے ہیں تا کہ پاکستان میں اخراجات ادا کئے جا سکیں۔ اگر کسی رکن کی وصیت یا اس کے لواحقین کے فیصلہ کے تحت متوفی کی تدفین جرمنی میں ہی ہو گی تو سوسائٹی کی جانب سے تمام اخراجات اُٹھائے جاتے ہیں۔ جرمن پاکستانی ثقافت اور بہبود ایسوسی ایشن رجسٹرڈ جرمنی میں بسنے والے تمام پاکستانیوں سے اپیل کرتی ہے کہ اپنے ارد گرد جاننے والوں کی خیریت دریافت کرتے رہا کریں۔ یہ کیس پہلا کیس نہیں ہے اس لئے احتیاط برتیں اور مسلمانوں کو جلنے سے بچائیں اور آپس میں رابطہ رکھیں۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ قبرستان کے تندور میں درجہ حرارت ابتدائی طور پر (نُو سو ڈگری سیلسیس) کے اردگرد ہوتا ہے، آخری رسومات کے دوران اسے (بارہ سُو ڈگری) تک بڑھایا جاتا ہے، یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ تمام وآتش گیر مواد جلا دیا گیا ہے یہ عمل خود (پچاس منٹ سے نوے منٹ) تک جاری رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں