۔،۔ موسم برسات کے اختتام پر چاد میں مردوں کے لئے ہونے والا حُسن اور رقص کا مقابلہ۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ موسم برسات کے اختتام پر چاد میں مردوں کے لئے ہونے والا حُسن اور رقص کا مقابلہ۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ موسم برسات کے اختتام پر چاد میں مردوں کے لئے ہونے والا حُسن اور رقص کا مقابلہ۔ نذر حسین۔،۔

٭مردوں کا رقص،شادی کی اہل خواتین کی توجہ حاصل کرنا ہے، خواتین ناظرین کی صفوں میں بیٹھتی ہیں اور مردوں کے مظاہرے کو غور سے دیکھتی ہیں تا کہ وہ آزادانہ فیصلہ کر سکیں کہ کون سا مرد ان کے لئے موزوں شریک زندگی ہو سکتا ہے، کیونکہ ایک روایتی معاشرے میں خواتین کو اپنی زندگی کا ساتھی خود منتخب کرنے کا حق ملتا ہے٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/چاد۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، لیبیا، مصر،نائجر، سودان اور سینٹر افریقن ریپبلک میں گھرا ہوا چھوٹا سا ملک چاد جہاں موسم برسات کے اختتام پر چاد میں مردوں کے لئے ہونے والا حُسن اور رقص کا مقابلہ ہوتا ہے،مردوں کا رقص،شادی کی اہل خواتین کی توجہ حاصل کرنا ہے، خواتین ناظرین کی صفوں میں بیٹھتی ہیں اور مردوں کے مظاہرے کو غور سے دیکھتی ہیں تا کہ وہ آزادانہ فیصلہ کر سکیں کہ کون سا مرد ان کے لئے موزوں شریک زندگی ہو سکتا ہے، کیونکہ ایک روایتی معاشرے میں خواتین کو اپنی زندگی کا ساتھی خود منتخب کرنے کا حق ملتا ہے۔مرد خواتین کی توجہ حاصل کرنے کے لئے اجتماعی رقص پیش کرتے ہیں جس میں سب سے مشہور رقص ٭گیروول٭ ہے، اس میلے کے لئے مرد خوبصورت لباس اور زیورات پہنتے ہیں جبکہ اپنے چہروں اور ہاتھوں پر نفیس نقوش بھی بناتے ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق چاد کے اس علاقہ کے قدیم پرواہے اور کسان موسم برسات کے اختتام پر ٭رابطے کے رسوم٭ ادا کرتے تھے تا کہ موسم خشک ہونے سے پہلے دوسرے علاقوں کی چراگاہوں کی تلاش کے لئے قبائل میں بکھرنے سے پہلے رشتے اور تعلقات قائم کئے جا سکیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ رسومات ایک منظم میلے کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جو نوجوانوں کوصحرائے عظیم کے جنوبی کنارے پر جمع کرتا ہے، میلے کے دوران وہ اپنے ساتھی یا مدد گار تلاش کرتے ہیں جو انہیں سفر اور زندگی میں ساتھ دے سکے،قبل اس کے کہ وہ نئی چراگاہوں کی تلاش میں بکھر جائیں۔گیریول میلہ اسی مقصد کے لئے لگایا جاتا ہے کہ شادی کی اہل خاتون کو راغب کیا جا سکے، تا کہ وہ ایسے شوہر کا انتخاب کریں جس کے ساتھ وہ موسمی سفر کے دوران بارش کے اختتام پر ٭نائجیریا٭کیمرون یا وسطی افریقی جمہوریہ میں جا سکیں۔دوسر طرف چاد کے نوجوان سمجھتے ہیں کہ (بدوی) معاشرے میں شادی کے لئے آنے والی خواتین سے بات کرنا آسان نہیں۔ افریقا میں سفید دانت اور چمکتی آنکھیں کو صحت اور توانائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ رقص کے اختتام پر جس لڑکے کو عورت نے پسند کیا اور اس نے بھی اس انتخاب کو قبول کیا وہ لڑکی کے خاندان کو کپڑے اور رقم پیش کرتا ہے، خاندان کی رضامندی کے بعد شادی کا عقد مکمل ہوتا ہے، جبکہ وہ لڑکیاں جنہیں میلے میں موجود مرد پسند نہیں آتے انہیں اگلے میلے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں