۔،۔ سڑک پر غیر قانونی دوڑ کا اختتام(المیہ) دو خواتین کی موت پر ہوتا ہے۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ سڑک پر غیر قانونی دوڑ کا اختتام(المیہ) دو خواتین کی موت پر ہوتا ہے۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ سڑک پر غیر قانونی دوڑ کا اختتام(المیہ) دو خواتین کی موت پر ہوتا ہے۔ نذر حسین۔،۔

٭(پچاس کلو میٹر) فی گھنٹہ کے زون میں (ایک سو پچاس کلو میٹر) فی گھنٹہ کی رفتار غیر قانونی ریس تھی جس کا اختتام المیہ پر ہوتا ہے،اب عدالت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا دو خواتین کی موت کو بھی قتل قرار دیا جا سکتا ہے؟٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/لود وگس برگ۔ جرمنی کے شہر لودوگس برگ میں (بیس مارچ کی شام) کو دو ترک افراد نے تقریباََ ایک گھنٹے کی ریس میں حصّہ لیا جبکہ ایک کزن بھی گاڑی میں موجود تھا، استغاثہ کے مطابق ان دونوں افراد نے جو کے بھائی تھے نے اپنی اپنی گاڑیوں کو سڑک پر جہاں (پچاس کلو میٹر) فی گھنٹہ کی اجازت تھی نے (ایک سو پچاس کلو میٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑیاں بھگائیں جس کی بنا پر ایک المناک حادثہ پیش آیا جس میں (بائیس اور تئیس سالہ) لڑکیاں ہلاک ہو گئیں جو گیس اسٹیشن سے سڑک پر مڑنا چاہتی تھیں، فیصلو انفرادی کیس پر منحصر ہے، سٹٹگارٹ کی علاقائی عدالت سے پہلے پراسیکیوٹر کو یقین تھا کہ تصادم کی صورت میں کسی معصوم راہگیر کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ واضح رہے غیر قانونی اسٹریٹ ریسنگ پوری دنیا میں ممنوع ہے خصوصی طور پر جرمنی میں 2017 سے ایک مجرمانہ جرم ہے جبکہ یہ جرم سال میں سینکڑوں بار کیا جاتا ہے، غیر رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہے،، متعدد شرکاء کے ساتھ کلاسک ریس کے علاوہ، نام نہاد سولو یا سنگل ڈرائیور ریس بھی قابل سزا ہیں،یہ ایسے معاملات ہیں جن میں ایک ڈرائیور انتہائی لاپرواہی سے جتنی جلدی ممکن ہو گاڑی چلانے کی کوشش کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں