۔،۔کرسمس مارکیٹ پر حملہ کی منصوبہ بندی کے الزام میں پانچ افراد گرفتار۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔کرسمس مارکیٹ پر حملہ کی منصوبہ بندی کے الزام میں پانچ افراد گرفتار۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔کرسمس مارکیٹ پر حملہ کی منصوبہ بندی کے الزام میں پانچ افراد گرفتار۔ نذر حسین۔،۔

٭لوئر فاوفریا (ڈنگو فنگ) کے قریب کرسمس مارکیٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔یہ حملہ بظاہر ایک گاڑی کے ذریعہ کیا جانا تھا٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/میونخ/باویریا/ڈنگو فنگ۔ میونخ پبلک پراسیکیوٹر آفس جو اس کیس کی تحقیقات میں ملوث ہے نے ابتدائی طور پر یہ نہیں بتایا کہ وہ کس کرسمس پارکیٹ کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، حملہ کے منصوبے کتنے ٹھوس تھے یا اس میں ملوث افراد کو کہاں سے گرفتار کیا گیا، صرف یہ بتایا گیا کہ ایک اسلام پسند مقصد فرض کیا جاتا ہے کہ مشتبہ افراد نے بظاہر ڈنگو فنگ کے قریب کرسمس مارکیٹ کو نشانہ بنایا جاتا جبکہ یہ حملہ ایک گاڑی کے ذریعہ کیا جانے کا امکان تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان پانچوں افراد کو اسپیشل فورز کے نوجوانوں نے جمعّہ کے روز گرفتار کیا تھا، ان کے اپنے بیان کے مطابق سیکورٹی حکام کو دو دن پہلے علم ہوا تھا، پولیس نے ان کا سراغ کیسے لگایا یہ نہیں بتایا گیا۔تفتیش کاروں کے مطابق ایک فرد 56 چھپن سالہ مصری، ایک 37 سینتیس سالہ شامی، 22 بائیس سالہ۔28 اٹھائیس اور 30 تیس سالہ تینوں مراکشی باشندے ہیں۔مصری ایک اسلامی مبلغ نے مبینہ طور پر ڈنگو فنگ لانڈاوُ کے علاقہ میں ایک مسجد میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنے یا زخمی کرنے کے لئے حملہ کا مطالبہ کیا، اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق تینوں مراکشی اس حملہ کو سرانجام دینے کے لئے تیار تھے،ان پر اب الزام ہے کہ انہوں نے قتل پر آمادگی ظاہر کی تھی کہا جاتا ہے کہ شامی فرد نے بھی مردوں کی حوصلہ افزائی کی۔ دہشت گرد گروپ کا اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) سے کوئی تعلق نہیں پایا جاتا۔ رپورٹ کے مطابق اتوار کی صبح تک مزید کوئی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔ واضح رہے 19 دسمبر 2016 کو ایک بنیاد پرست اسلام پسند نے جرمنی کے شہر برلن Breitscheidplatz میں ہجوم پر ٹرک چڑھا دیا تھا جس سے 13 تیرہ افراد ہلا ہو گئے تھے، جن میں سے ایک برسوں بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔گذشتہ سال ایک ڈرائیور نے جان بوجھ کر اپنی کار جرمنی کے شہر (ماگڈے برگ) کرسمس مارکیٹ میں ہجوم پر چڑھا دی تھی جس میں چھ افراد ہلاک جبکہ تین سو سے زائد زخمی ہوئے تھے، اعتراف جرم کرنے والا ایک سعودی عرب تھا جو 2006 سے جرمنی میں مقیم تھا۔ ایسے ہی 14 جولائی 2016 کو نیزا Nizza میں دہشت گردانہ حملہ میں ایک ٹرک نے ہجوم کو(فرانس کے نیشل ڈے) کے موقع پر کچل ڈالا تھا جس میں بہت سے بچے بھی شامل تھے اس حملے میں 84 افراد ہلاک ہوئے تھے اس موقع پر خاندان آتش بازی کا جشن منا رہے تھے جو ان کی زندگی کا آخری جشن بن کررہ گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں