۔،۔ شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد شام میں پہلی جلاوطنی۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد شام میں پہلی جلاوطنی۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد شام میں پہلی جلاوطنی۔ نذر حسین۔،۔

٭افغان شہریوں کے لئے ملک بدری کا عمل موسم گرما سے جاری ہے، آ ایک اور سزا یافتہ مجرم کو افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا، اطلاعات کے مطابق اسے باویریا میں جان بوجھ کر جسمانی نقصان پہنچانے سمیت دیگر جرائم میں قید میں تھا٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/برلن۔ مقامی میڈیا اور وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد شام میں پہلی جلاوطنی کی گئی، اب ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلی بار کسی سزا یافتہ مجرم کو بھی شام واپس بھیجا گیا ہے،وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق جلا وطن ہونے والے شامی کو آج صبح دمشق میں حکام کے حوالے کر دیا گیا، یہ شخص نارتھ رائین ویسٹ فیلیا میں ٭ڈکیتی ٭حملہ اور بھتہ خوری کے جرم میں قید کی سزا کاٹ رہا ہے،،وفاقی وزارت داخلہ کے مطابقآج صبح ایک اور سزا یافتہ مجرم کو افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا جو گیلزن کرچن میں رہائش پذیر تھا، اطلاعات کے مطابق اسے باویریا میں جان بوجھ کر جسمانی نقصان پہنچانے سمیت دیگر جرائم میں قید میں تھا، ایس پی ڈی۔ SPD، سی ایس یو۔CSU، اور سی ڈی یو۔CDU نیاپنے اتحادی معاہدے میں اس طرح کی ملک بدری پر اتفاق کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ہم لوگوں کو افغانستان اور شام ڈی پورٹ کر دیں گے جن کی شروعات مجرموں اور عوامی تحفظ کے لئے خطرہ سمجھے جاتے ہیں،اس سے قبل دونوں ممالک میں سیکورٹی کی صورتحال کی وجہ سے ملک بدری کا عمل روک دیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرینٹ کے مطابق۔ سنگین اور انتہائی سنگین مجرم جن کی تعداد تقریباََ اکیاسی 81 بتائی گئی تھی افغان مردوں کو ان کے وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے کم از کم ایک فرد ایسا بھی تھا کہ کے اس کو بندھی ہوئی ٹانگوں سے ایئر پورٹ پہنچایا گیا۔وفاقی وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرینٹ کا مزید کہنا تھا کہ شام اور افغانستان میں ملک بدری ہونی چاہیئے، ہمارا معاشرہ اس بات کو یقینی بنانے میں ایک جائز مفاد رکھتا ہے کہ مجرم ہمارے ملک سے نکل جائیں، ہم کنٹرول،مستقا مزاجی اور مضبوط موقف کے لئے کھڑے ہیں۔ وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں شامی حکومت اور افغانستان میں حکام کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت ہو چکی ہے اور معاہدے بھی طے پا چکے ہیں کہ مستقبل میں مجرموں اور مشتبہ دہشت گردوں کی طے شدہ پرواز کے ذریعہ ملک بدری باقاعدہ سے ہو گی۔ ایک پینتیس 35 سالہ افغان شخص کو متعدد سزائیں بھی اس کے آبائی ملک میں حکام کے حوالے کر دی گئیں جبکہ اس خطرناک مجرم کے ساتھ ملک بدری کی پرواز میں وفاقی پولیس افسران بھی تھے۔ اسی دوران ایک اٹھائیس 28 سالہ نوجوان کو کابل جلاوطن کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں