-,-صاحب بصیرت مفکر ادیب جارج برنارڈ شا-                              فوزیہ مغل فرینکفرٹ -,- 0

-,-صاحب بصیرت مفکر ادیب جارج برنارڈ شا- فوزیہ مغل فرینکفرٹ -,-

0Shares

-,-صاحب بصیرت مفکر ادیب جارج برنارڈ شا- فوزیہ مغل فرینکفرٹ -,-

 

جارج برنارڈ شا انیسویں اور بیسویں صدی کے عظیم ترین ادیبوں اور ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں شیکسپر کے بعد سب سے زیادہ شہرت اور عزت حاصل کرنے والے شا کی زندگی جدوجہد خود اعتمادی اور فکری ارتقا کی ایک روشن مثال ہے محدود رسمی تعلیم ابتدائی ناکامیاں اور مسلسل معاشی مشکلات کے باوجود انہوں نے ادب کی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جو صرف غیر معمولی ذہنوں کا مقدر بنتا ہے۔جارج برنارڈ شا 26 جولائی 1856ء کو ڈبلن، آئرلینڈ میں پیدا ہوئے ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا ان کے والد شراب نوشی کے عادی تھے جس کی وجہ سے گھریلو ماحول خوشگوار نہ تھا بچپن ہی سے شا نے مالی تنگی اور گھریلو مسائل کا سامنا کیا یہی حالات ان کی شخصیت میں سنجیدگی خود داری اور غور و فکر کی عادت پیدا کرنے کا سبب بنےشا کی باقاعدہ تعلیم بہت محدود تھی انہوں نے صرف اسکول کی سطح تک تعلیم حاصل کی اور کسی کالج یا یونیورسٹی سے ڈگری حاصل نہیں کی وہ روایتی تعلیمی نظام سے مطمئن نہیں تھے اور اسے تخلیقی صلاحیتوں کے لیے غیر مؤثر سمجھتے تھے اس کے باوجود انہوں نے خود کو تعلیم سے محروم نہیں رہنے دیا وہ برٹش میوزیم کی لائبریری میں گھنٹوں مطالعہ کرتے رہے اور ادب فلسفہ تاریخ سیاست اور معاشیات میں گہری مہارت حاصل کی اگرچہ ان کے ہاتھ میں کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے کی ڈگری کی سند نہ تھی مگر ان کا دل و دماغ علم و آگہی کے نور سے جگمگا رہا تھا یہی خود تعلیم یافتہ ذہن بعد میں دنیا کو نئی سوچ عطا کرنے والا ایک عظیم مفکر بنایااپنے ادبی سفر کے آغاز میں شا نے ناول نگاری کو ذریعہ اظہار بنایاانہوں نے پانچ ناول لکھے جو اپنے دور کے روایتی سماجی تصورات سے ہٹ کر تھے اور سرمایہ دارانہ نظام طبقاتی فرق اور عورتوں کے حقوق پر تنقید کرتے تھے اسی وجہ سے اس زمانے کے پبلشرز نے ان ناولوں کو شائع کرنے سے انکار کر دیا یہ ناکامیاں ان کے لیے سخت آزمائش تھیں مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل لکھتے رہے ناولوں میں ناکامی کے بعد شا نے صحافت اور تنقید نگاری کی طرف توجہ دی انہوں نے موسیقی اور ادب پر تنقیدی مضامین لکھے جس سے ان کے اسلوب میں نکھار پیدا ہوا اور مکالمہ نگاری میں مہارت حاصل ہوئی یہی تجربہ بعد میں ان کی ڈرامہ نگاری کی بنیاد بنا شا نے جب ڈرامہ نگاری کا آغاز کیا تو ابتدا میں ان کے ڈرامے بھی متنازع سمجھے گئے کیونکہ وہ معاشرتی سچائیوں کو بے باکی سے پیش کرتے تھے تاہم جلد ہی ان کے ڈراموں کی فکری گہرائی طنز و مزاح اور حقیقت پسندی نے عوام اور نقادوں کی توجہ حاصل کر لی ڈراموں نے ہی انہیں عالمی شہرت دلائی ان کے ڈراموں میں عام انسان مضبوط عورت اور سماجی مسائل کو مرکزی حیثیت حاصل تھی جو اس دور میں ایک نیا تصور تھا جارج برنارڈ شا کی فکری زندگی میں کارل مارکس کے نظریات نے گہرا اثر ڈالا مارکس کی کتاب کے مطالعے کے بعد شا کے خیالات میں نمایاں تبدیلی آئی وہ سرمایہ دارانہ نظام کے شدید ناقد بن گئے اور سماجی مساوات کے حامی ہو گئے مارکسی فکر نے ان کی تحریروں کو مقصدیت اور سماجی شعور عطا کیاجارج برنارڈ شا نے اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی شخصیت کا بھی مطالعہ کیا انہوں نے حضرت محمد ﷺ کو ایک عظیم رہنما اور انسانیت کا مصلح قرار دیا اور ان کی قیادت کو ہر دور کے مسائل کے لیے مؤثر سمجھا شا کے نزدیک حضور ﷺ کی تعلیمات میں انسانیت کی فلاح اور معاشرتی انصاف کا مکمل تصور موجود ہے 1925ء میں جارج برنارڈ شا کو ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا یہ اعزاز انہیں ان کی اعلیٰ درجے کی ڈرامہ نگاری فکری گہرائی اور انسان دوست خیالات کے اعتراف میں دیا گیا انہوں نے نوبل انعام کی رقم لینے سے انکار کر دیا مگر اعزاز قبول کیا جو ان کی اصول پسندی اور بے نیازی کا ثبوت ہےجارج برنارڈ شا 2 نومبر 1950ء کو 94 برس کی عمر میں وفات پا گئے مگر ان کے خیالات ڈرامے اور نظریات آج بھی زندہ ہیں ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ کم رسمی تعلیم کم وسائل بھی انسان کی کامیابی میں رکاوٹ نہیں بنتے محنت خود مطالعہ اور بلند فکر انسان کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں