-,-“رجب کی خوشبو اور حضرت علیؑ کی روشنی”- واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,- 0

-,-“رجب کی خوشبو اور حضرت علیؑ کی روشنی”- واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,-

0Shares

-,-“رجب کی خوشبو اور حضرت علیؑ کی روشنی”- واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,-

 

رجب کی آمد صرف ایک مہینے کا آغاز نہیں، یہ روح کی دنیا میں کھلنے والا ایک مقدس دروازہ ہے۔ ایسا دروازہ جو دلوں کے اندھیروں میں یقین کے چراغ روشن کرتا ہے اور سوئی ہوئی روحوں کو بیدار کر دیتا ہے۔ یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں زمین نے اپنے سینے میں ایک ایسا راز چھپا رکھا تھا جو وقت کی گردش کو معنی دینے آیا، اور تقدیروں کے راستے بدلنے والا تھا۔اسی مہینے، اسی ساعت، خانۂ کعبہ کی خاموش دیوار شق ہوئی۔ پتھر نہیں ٹوٹے، بلکہ تاریخ نے ایک نیا باب کھولا۔ بیتُ اللہ کی آغوش میں ایک نور نے جنم لیا، جو علم، شجاعت، عدل اور تقویٰ کا مجسم اعلان تھا۔ یہ نور حضرت علیؑ علیہ السلام کی صورت میں جلوہ گر ہوا، جنہیں امتِ مسلمہ نے ہمیشہ عظیم صحابی، اہل بیت کے معزز رکن اور چوتھے خلیفہ کے طور پر یاد رکھا۔ اور جن کی زندگی عدل، علم اور تقویٰ کا روشن نمونہ ہے۔حضرت علیؑ کی ولادت کسی عام لمحے میں نہیں ہوئی تھی۔ یہ انسانیت کے لیے ایک روشن پیغام اور ہدایت کا آغاز تھا۔ ان کی زندگی علم، عبادت، عدل، شجاعت اور خدمت کے عملی نمونے سے بھری ہوئی تھی۔ بچپن میں رسولِ خدا ﷺ کی گود میں تربیت پائی، جوانی میں دین کی حفاظت اور امت کی رہنمائی کی ذمہ داری سنبھالی، اور بڑھاپے میں امت کے لیے عدل و انصاف کا معیار قائم کیا۔ ہر لمحہ ان کی زندگی میں عبادت، قربانی اور حق پسندی کا درس ملتا ہے۔آپؑ کی شمشیر ذوالفقار میدانِ جنگ میں دشمن کے لیے برق کی طرح تیز تھی، مگر یتیم اور محتاج کے لیے وہی ہاتھ شفقت اور محبت کا پیغام تھا۔ عدالت میں ہر انسان، چاہے طاقتور ہو یا کمزور، ایک صف میں کھڑا ہوتا۔ کوئی فرق نہ تھا سوائے حق کے۔ یہی حضرت علیؑ کی حکمرانی کی اصل روح تھی، جس میں محل و منازل اپنی روشنی سے نہیں، بلکہ عدل، اخلاق اور انصاف سے روشن تھے۔حضرت علیؑ کا زہد دنیاوی لالچ، خوف اور خودی کے فریب سے آزاد رہنے کی عملی تعلیم تھا۔ ان کی سادگی، عاجزی اور خدمت خلق آج بھی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی تقویٰ اور عبادت انسان کے کردار اور اعمال میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ فرماتے تھے:“لوگوں کے ساتھ ایسے رہو کہ اگر تم مر جاؤ تو وہ تم پر روئیں، اور اگر زندہ رہو تو تمہارے مشتاق ہوں”یہ صرف قول نہیں بلکہ عملی زندگی کا نمونہ ہے۔حضرت علیؑ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ عدل کو ہر جگہ اپناؤ۔ گھر کی چار دیواری سے لے کر بازار کی رونق تک، دفتر کی میز سے عدالت کے کمرے تک۔ حق کبھی رشتہ داری، مقام یا طاقت کی پرواہ نہیں کرتا۔علم حاصل کرو، مگر اسے صرف کتاب یا زبان تک محدود نہ رکھو۔ علم کی اصل قدر تب ہے جب وہ کردار اور عمل میں ڈھل جائے۔طاقت اور اختیار کو امانت سمجھو۔ اگر اختیار ملا تو کمزور کی حفاظت کا وسیلہ بنو، کسی پر ظلم کے لیے نہیں۔ دل کو پاک رکھو، دشمنی میں بھی اخلاقیات نہ چھوڑو،اور خدا کے ساتھ تعلق مضبوط رکھو، کیونکہ نماز محض ایک رسم نہیں بلکہ روح کی سانس ہے۔حضرت علیؑ ماضی کے کسی دور کی کہانی نہیں ہیں۔ وہ آج بھی ہمارے ضمیر میں زندہ سوال کی شکل میں موجود ہیں۔ کیا ہم حق کے ساتھ ہیں؟ کیا ہم عدل پر قائم ہیں؟ اور کیا طاقت حاصل ہونے پر ہم دوسروں کو سہارا دیتے ہیں یا انہیں دبا دیتے ہیں؟رجب کی یہ بابرکت راتیں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ حضرت علیؑ کو صرف قصیدہ خوانی یا تقریبات تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں ان کی تعلیمات، ان کی سیرت اور ان کی روشنی کو اپنائیں۔ اگر دل میں علیؑ کا چراغ جل جائے تو اندھیرے خود بخود راستہ چھوڑ دیں گے اور زندگی کی رہنمائی کے لیے روشنی بن جائیں گے۔یا اللّہ! ہمیں وہ بصیرت عطا فرما جو حق کو پہچان لے، وہ ہمت دے جو عدل کے علم پر ثابت قدم رکھے، اور وہ دل دے جو محبت اور خدمت میں مضبوط ہو۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں