۔،۔ کیا مینی پولیس میں ہونے والی مہلک فائرنگ واقعتاََ۔ICE افسر کے دفاع میں تھی۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ کیا مینی پولیس میں ہونے والی مہلک فائرنگ واقعتاََ۔ICE افسر کے دفاع میں تھی۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ کیا مینی پولیس میں ہونے والی مہلک فائرنگ واقعتاََ۔ افسر کے دفاع میں تھی۔ نذر حسین۔،۔

٭ٹیمز ویلی پولیس۔انسیڈینٹ رسپانس آفیسر نے ہنگامی حالات میں تیزی سے رد عمل کرتے ہوئے سینتیس سالہ خاتون پر فوراََ فائرنگ کر دی جبکہ دوسر بار سائیڈ کی کھڑکی سے فائرنگ کر کے خاتون تین بچوں کی ماں کو ہلاک کر دیا٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/امریکا/مینی پولیس۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سینتیس37 سالہ خاتون کی گاڑی ایک پک اپ ٹرک سے روکی جاتی ہے دو ماسک پہنے پولیس والے اس کی طرف بڑھتے ہیں اور خاتون کو گاڑی سے باہر نکلنے کا حکم دیتے ہیں، عورت اپنی گاڑی کو ریورس کرتی ہے پھر اسٹیرنگ وہیل کو جائیں طرف گھماتی ہے اوربھاگنے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ تیسرا آفیسر گاڑی کے سامنے پستول تھامے کھڑا ہو جاتا ہے، گاڑی نہ کھڑی کرنے کی صورت میں فوراََ پہلی گولی چلاتاہے، اس کے فوراََ بعد دو اور گولیاں چلاتا ہے اس موقع پر گاڑی ہونڈا تیزی سے کھڑی گاڑیوں سے ٹکرا جاتی ہے۔مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے فائرنگ کو مکمل طور پر پیش گوئی اور مکمل طور پر قابل گریز قرار دیا ہے، اور دلیل دی کہ یہ حالیہ دنوں میں وفاقی امیگریشن افسران کے مینی پولس اور آس پاس کے علاقوں میں اضافے کا براہ راست نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی خطرناک، سنسنی خیز کاروائیاں ہماری عوامی حفاظت کے لئے خطرہ ہیں۔ حیرت انگیز ستم ظریفی یہ ہے کہ مینسویٹا حالیہ مہینوں میں امیگریشن کے نفاذ پر بڑھتے ہوئے تنازعات کا مرکز بن گیا ہے۔ ستم ظریفی پر ستم ظریفی گذ کی موت اس جگہ سے صرف چند میل کے فاصلے پر واقع ہوئی ہے جہاں 2020 میں منیا پولس پولیس نے (جارج فلائیڈ) کو گرفتاری کی کوشش کے درمیان قتل کر دیا گیا تھا، جس سے ملک بھر میں (بلیک لائیوز میٹرز)کے مظاہروں کا آغاز ہوا۔امیگریشن کے نفاذ میں حالیہ اضافہ اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے ریاست کی بڑی صومالی تارکین وطن کی آبادی کا مذاق اُڑایا جن میں زیادہ تر مریکی شہری ہیں۔جب کمیونٹی کے ممبران کو وفاقی کوویڈ امداد کی تقسیم میں بڑے پیمانے پردھوکہ دہی کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں