۔،۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے ملحق درائی آیش کے علاقہ میں اپارٹ ہوٹل میں کورٹ کی طرف سے آگاہی میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے ملحق درائی آیش کے علاقہ میں اپارٹ ہوٹل میں کورٹ کی طرف سے آگاہی میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے ملحق درائی آیش کے علاقہ میں اپارٹ ہوٹل میں کورٹ کی طرف سے آگاہی میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ نذر حسین۔،۔

٭کشمیر یتیم ریلیف ٹرسٹ جس کی بنیاد الجاج چوہدری محمد اختر نے بیس۔اکیس سال پہلے سب سے بڑے غیر منافع بخش خیراتی ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔چیرٹی کسی ایک فیلڈ میں کام نہیں کر رہی،یتیم بچوں کی کفالت،ان کی تعلیم، ہسپتال، مساجد اور خاص طور پر نادار افراد کی کفالت کی اہم سرگرمیوں میں یتیموں کو امداد فراہم کرنے کے مقصد کے لئے فنڈز جمع کرنا، معذوری، آفات، ریسیکیو، ریلیف اور بحالی کا انتظام بھی شامل ہے، با اختیار، صحت کی دیکھ بحال اور پراجیکٹس کی پائیداری۔ شامل ہیں۔آگاہی میٹنگ میں نہ صرف فرینکفرٹ جبکہ جرمنی کے دور درازز علاقوں سے بھی دوست و احباب تشریف لائے، تقریب میں برطانیہ، فرانس، اٹلی اور دبئی سے بھی خصوصی شرکت موجود تھی٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/برطانیہ/فرانس/اٹلی/متحدہ عرب امارات۔ کورٹ۔KORT۔کشمیر یتیم ریلیف ٹرسٹ جس کی بنیاد الجاج چوہدری محمد اختر نے بیس۔اکیس سال پہلے سب سے بڑے غیر منافع بخش خیراتی ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔چیرٹی کسی ایک فیلڈ میں کام نہیں کر رہی،یتیم بچوں کی کفالت،ان کی تعلیم، ہسپتال، مساجد اور خاص طور پر نادار افراد کی کفالت کی اہم سرگرمیوں میں یتیموں کو امداد فراہم کرنے کے مقصد کے لئے فنڈز جمع کرنا، معذوری، آفات، ریسیکیو، ریلیف اور بحالی کا انتظام بھی شامل ہے، با اختیار، صحت کی دیکھ بحال اور پراجیکٹس کی پائیداری۔ شامل ہیں۔آگاہی میٹنگ میں نہ صرف فرینکفرٹ جبکہ جرمنی کے دور درازز علاقوں سے بھی دوست و احباب تشریف لائے، تقریب میں برطانیہ، فرانس، اٹلی اور دبئی سے بھی خصوصی شرکت موجود تھی،آگاہی میٹنگ کی نظامت کے فرائض محمد شعیب بٹ نے بخوبی سرانجام دیئے، تلاوت قرآن پاک کا شرف مہر علی کو ملا، حاجی افضل قادری نے بارگاہ رسالت ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے حاضرین کے دلوں کو محبت رسولﷺ سے منور کیا۔ ڈاکٹر زاہد عباس (برطانیہ) محمد آصف جرال (فرانس)۔الجاج چوہدری محمد اختر(برطانیہ)۔محوش افتخار (جرمنی)۔چوہدری اعجاز حسین پیارا(جرمنی)۔قاضی حبیب(جرمنی)۔راجہ اظہر کیانی (جرمنی)۔سید رضوان شاہ (جرمنی)۔چوہدری محمد اختر دیونہ (اٹلی)۔شفیق مراد (جرمنی) نہ شاعرانہ انداز میں چوہدزی اختر کو خراج تخسین پیش کیا جبکہ راجہ عبدلرزاق نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور سید جعفر حسین شاہ نے دُعا فرمائی۔ ڈاکٹر زاہد عباس کا کہنا تھا کہ (کورٹ)ایک سوچ، فکر، قوم اور نسلوں کی نبدیلی،تربیت، کا نام ہے،الجاج چوہدری محمد اختر نے یتیم بچوں اور نادار لوگوں کی کفالت کرتے ہوئے لوگوں کو ایک پلیٹ فورم مہیا کیا جہاں آج وہی بچے پڑھ لکھ کر قوم کی خدمت اور اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔محمد آصف جرال نے اپنے خطاب میں کہا کہ۔ آج کورٹ کے ساتھ چوہدری محمد اختر آپ کی عدالت میں پیش ہوئے ہیں جو کہ برٹش بورن ہیں اس کو اس بات کی کیا پرواہ کہ پاکستان میں آنے والی ٭آندھی۔طوفان۔سیلاب اور زلزلوں ٭ نے کتنی جانیں لیں، کتنے بچوں کو یتیم کر گئیں،کتنے لوگوں کو بے گھر کر دیا،2005 میں زلزلہ آنا، ناگہانی آفت نے پاکستان میں کہرام کھڑا کر دیا۔یہ سنتے ہی چوہدری اختر کے دل میں بھی کہرام مچ گیا اور وہ اپنی ٹیم کو لے کر پاکستان آزاد کشمیر پہنچ گئے جبکہ اس وقت ان کو پاکستانی زبان بھی ادھوری ہی آتی تھی،وہاں جب انہوں نے تباہی و بربادی دیکھی تو ان کے رونلھٹے کھڑے ہو گئے،یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں یہاں رہ کر ان کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں وہ خود کاروباری شخصیت ہیں،انہوں نے آزاد کشمیر کی گورنمنٹ سے بات کی آج وہ کورٹ (بیس ایکڑ) کی زمین پر موجود ہے،جس میں مساجد،یتیموں کے لئے اسکول،ہاسٹل، اور ڈھائی سو گھر۔ خیبر پختون خواہ کے علاقہ صوابی میں بھی یتیم خانہ بنوایا اس کو بھی چلا رہے ہیں یا یوں کہیئے کہ ایک نئی سرزمین آباد کر دی گئی جو چوہدری اختر کی محنت اور کاوش تھی جس کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا،اس کا کوئی مالک نہیں جبکہ آپ اس کو چلائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ آج چوہدری اختر اپنی ٹیم کے ساتھ آپ کے پاس صرف ایک مقصد لے کر آئے ہیں کہ نہ صرف مظفر آباد اس کے اردگرد کے تمام شہروں کے غریب افراد کو ایک جنرل ہسپتال مہیا کرنے کے لئے جس میں بغیر ڈر اور فکر کے اپنا علاج کروانے جا سکیں پیسہ نہ ہونے کے باوجود٭فرد واحد ایک مقصد لے کر چلنے والے الجاج چوہدری محمد اختر کے ساتھ آج ایک پوری ٹیم کھڑی ہے نہ صرف برطانیہ میں جبکہ دنیا کے چپے چپے سے ان کا نام اور کام سنائی دیا جا رہا ہے، عنقریب جون کے اوائل میں یہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ یورپ، سکنڈینیوین، امریکا اور افریقہ تک فنڈ ریزنگ کی شروعات کریں گے،ہمیں ان کا دست بازو بن کر ملک و قوم کے غریب لوگوں کی مدد کے لئے نکلنا پڑے گا یہ ضروری نہیں کہ آپ لاکھوں میں فنڈ دیں آپ کی ایک ایک پائی بھی ہمارے لئے لاکھوں کی حیثیت رکھتی ہے۔کورٹ کی خدمات کا یہ سلسلہ یتیم اور لاوارث بچوں تک محدود نہیں رہا، نوشہرہ میں ٭ایک سو اکہتر171 گھر تعمیر کئے گئے٭میر پور میں ڈیٹھ سو 150گھر تعمیر کر کے ان کے حوالے کئے گئے٭2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیوں کے دوران بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندانوں کو خوراک، ادویات اور خیمے فراہم کئے گئے٭پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں سیلاب متاثرین کے لئے چار سو بیس 420 گھر تعمیر کر کے ان کے حوالے کئے گئے۔افغانستان میں سینکڑوں ٹرک امدادی سامان کے ساتھ روانہ کئے گئے تھے۔جبکہ ترکی اور شام میں ہونے والے زلزلوں کے موقع پر ترکی اور شام میں بھی کروڑوں روپوں کا امدادی سامان بھیجا گیا۔2024 میں کورٹ نے دس ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کا قافلہ غزہ(فلسطین) میں جنگ سغ متاثرہ فلسطینی بہن بھائیوں کے لئے بھیجا،لائن آف کنٹرول آزاد کشمیر میں متاثرہ افراد اور خاندانوں کے لئے ضروری اشیاء پہنچائی گئیں۔کورٹ اب تک آزاد کشمیر میں سرکاری اسکولوں کی درجنوں عمارات تعمیر کر چکا ہے ان میں پرائمری۔مڈل اور ہائی اسکول شامل ہیں جن میں ہر طرح کا فرنیچر بھی مہیا کیا گیا ہے،جبکہ دوسرے اسکولوں میں ہزاروں طلباء و طالبات کو ٭ کتابیں ٭یونیفارم٭جوتے ٭اسکول بیگ٭اسٹیشنری اور گرم کپڑے فراہم کئے جاتے ہیں۔رمضان المبارک میں ہزاروں مستحق خاندانوں کو باعزت طریقہ سے مہینہ بھر کا راشن مہیا کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔خصوصی افراد کو وہیل چیئر پروگرام کے تحت ہزاروں افراد کو اس قابل بنایا جا چکا ہے کہ وہ بغیر کسی سہارے کے نقل و حرکت کر سکیں وومن اپنڈ پاورمنٹ کے سلسلہ میں سلائی مشینیں بھی مہیا کی جاتی ہیں۔سینکڑوں یتفم بچیوں کے لئے جہیز کا انتظام بھی کیا جاتا ہے پبلک واش روم بھی بنائے جا چکے ہیں، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے اب تک سینکڑوں فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب بھی کورٹ کے پراجیکٹ میں شامل ہے،درجنوں عظیم الشان مساجد بھی تعمیر کی جا چکی ہیں جن میں ہزاروں نمازی نماز ادا کرتے ہیں۔بیوہ خواتین کے لئے سینکڑوں گھر ان کے حوالے کئے جا چکے ہیں۔چیئرمین الجاج چوہدری محمد اختر کا کہنا تھا کہ گذشتہ اکیس سالوں سے خدمت خلق کے بعد ان کے سامنے سب سے بڑا پراجیکٹ (کورٹ۔ جنرل ہاسپیٹل) ہے جس کو وہ پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہوں، یہ ہسپتال ان لاکھوں لوگوں کے لئے امید کی کرن ہے جو بیماری سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ علاج کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس خیراتی ہسپتال میں غریبوں کا مفت علاج ہو گا کورٹ بتاتا ہے کہ کشمیر آرفنزر ریلیف ٹرسٹ ہیلتھ کیئر سٹی میرپور۔ کاروبار نہیں بلکہ عبادت ہے۔ کورٹ آزاد کشمیر کا سب سے بڑا خیراتی ہسپتال ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری چیرٹی میں شامل تمام مخیر حضرات نے کبھی بھی فنڈ میں سے ایک پائی بھی اپنی ذات پر استعمال نہیں کی شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی ہمیں کامیابی پر کامیابی عطاء فرما رہی ہے۔بچوں کے علاج معالجہ کے لئے ایک پائی بھی نہیں لی گئی اور نہ لی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں