
۔،۔ بروز جمعہ اور ہفتہ (ورڈی۔ورکر ایسوی ایشن) نے مقامی پبلک ٹرانسپورٹ میں ملک گیر انتباہی ہڑتالوں کا مطالبہ کر دیا۔ نذر حسین۔،۔
٭مطالبات نہ ماننے پر بروز جمعہ اور ہفتہ (ورڈی یونین۔ورکر ایسوی ایشن) نے مقامی پبلک ٹرانسپورٹ میں ملک گیر انتباہی ہڑتالوں کا مطالبہ کر دیا،جس میں بسیں، اسٹریٹ کار اور اُو بان بھی شامل ہیں، بسوں، اسٹریٹ کاروں اور اُو بان انڈر گراونڈ چلنے والی ٹرینوں کے ڈرائیوروں اور مسافروں کے لئے اس کا کیا مطلب ہے ٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔مقامی ورڈی یونین کی رپورٹ کے مطابق،ورڈی یونین آنے والے ویک اینڈ پر مقامی پبلک ٹرانسپورٹ میں ملک گیر انتباہی ہڑتالوں کا مطالبہ کر رہی ہے، جمعہ کے لئے اور کئی علاقوں میں ہفتہ کے لئے بھی۔ جیسا کہ یہنین نے اعلان کیا ہے کہ تقریباََ تمام جرمن ریاستوں میں ملازمین کو کام نہ کرنے کی توقع ہے، نتیجہ کے طور پر متعدد میونسپل ٹرانسپورٹ کمپنیوی میں دونوں دنوں میں عملی طور پر کوئی بس یا اسٹریٹ کار اور انڈر گراونڈ ٹرین چلنے کی توقع نہیں ہے۔ اطلاع کے مطابق ہڑتال جمعہ کو سویرے شروع ہو گی اس لحاظ سے ہفتہ یا اتوار کی رات تک جاری رہے گی، کچھ ہڑتالیں جمعرات اور اتوار کو بھی زیر غر ہیں، صوبہ سیکسن انہالٹ کے کچھ حصوں میں جمعرات سے اتوار تک چار روزہ وارننگ ہڑتال کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔جبکہ واضح رہے کہ صوبہ ہیسن کے کئی شہروں میں آج بھی اسٹریٹ کاروں اور انڈر گراونڈ ٹرینیں روک دی گئی تھیں، کچھ علاقوں کے لئے ابھی بھی فیصلہ زیر التوا ہیں۔ وذاکرات کی پیشرفت کے لحاظ سے بہت ہی کم نوٹس پر قیصلہ کئے جانے کی توقع ہے۔ لوئر سیکسن انتباہی ہڑتالوں سے مستثنی ہے کیہنکہ مارچ کے آخر تک وہاں کوئی ہڑتال نہ کرنے کا معاہدہ نافذ ہے۔ ورڈی یونین کی ڈپٹی چیئرمین ومین کرسٹین بہلے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے ساتھیوں کو فوری طور پر ریلیف کی ضرورت ہے،ہم اپنے مطالبات کے لئے لڑنے کے لئے پرعزم ہیں۔ جرمن آٹو موبائل کے مطابق ہڑتالوں کی وجہ سے ملک بھر میں ٹریفک جام رہی۔ اجتماعی مذاکرات سولہ 16 وفاقی ریاستوں میں میونسپل ایمپلائرز ایسوسی ایشنز کے ساتھ جاری ہیں۔ کئے جا رہے ہیں۔ ورڈی نمایاں طور پر بہتر کام کے حالات کا مطالبہ کر رہا ہے۔جرمنی کی سب سے بڑی پبلک ٹرانسپورٹ کمپنی (برلن ٹرانسپورٹ اتھارٹی۔ BVG نے تنقید کی، مثال کے طور پر۔ ورڈی نے ابھی تک واضح نہیں کیا کہ یہنین کن مطالبات کو خاص طور پر اہم سمجھتی ہے۔








