۔،۔ سفارتخانہ پاکستان میڈرڈ اور پاکستان قونصلیٹ بارسلونا سے اپیل۔انٹرویو کی بنیاد پر پاسپورٹ جاری کیا جائے۔ اعجاز حسین پیارا۔،۔ 0

۔،۔ سفارتخانہ پاکستان میڈرڈ اور پاکستان قونصلیٹ بارسلونا سے اپیل۔انٹرویو کی بنیاد پر پاسپورٹ جاری کیا جائے۔ اعجاز حسین پیارا۔،۔

0Shares

۔،۔ سفارتخانہ پاکستان میڈرڈ اور پاکستان قونصلیٹ بارسلونا سے اپیل۔انٹرویو کی بنیاد پر پاسپورٹ جاری کیا جائے۔ اعجاز حسین پیارا۔،۔

٭پاکستانی پاسپورٹ کے اجرا کے لئے سفارتخانہ پاکستان میڈرڈ اور پاکستان قونصلیٹ بارسلونا کی طرف سے پاسپورٹس کی گمشدگی کی رپورٹ طلب کرنا غیر قانونی۔غیر اخلاقی اور پاکستانی کمیونٹی کو تنگ کرنے کے مترادف ہے،انٹرویو کی بنیاد پر پاسپورٹ جاری کیا جائے تا کہ وہ اسپین کی امیگریشن پالیسی سے استفادہ حاصل کر سکیں،جن کی تعداد بیس ہزار سے زائد بھی ہو سکتی ہے٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/میڈرڈ/بارسلونا۔ صدر پاکستان اوورسیز الائنس فورم یورپ چوہدری اعجاز حسین پیارا جب سے اسپین کی امیگریشن کا اعلان ہوا ہے اسی تگ و دو میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح وہاں بسنے والے پاکستانی جن کی تعداد تقریباََ بیس ہزار سے بھی زائد ہو سکتی ہے کو پاسپورٹس جاری کئے جائیں جس کی بنا پر وہ اسپین کی امیگریشن پالیسی سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ انہوں نے شان پاکستان جرمنی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سفارت خانہ پاکستان میڈڈ اور پاکستان قونصلیٹ بارسلونا میں پاسپورٹس کے اجرا کے لیے پاسپورٹس کی گمشدگی کی رپورٹ طلب کرنا غیر قانونی غیر اخلاقی اور لوگوں کو تنگ کرنے کے مترادف ہے قانون یہ ہے کہ اگر اپ کا بیرون ملک پاسپورٹ گم ہو جائے تو نئے پاسپورٹ کی درخواست کے لیے پولیس رپورٹ لے کر ائیں یا دوسری صورت میں سائل سفارت خانہ یا قونصل خانہ میں تحریری درخواست دے کیہ اس کا پاسپورٹ گم ہو گیا ہے تو اس کی تحریری درخواست کو ہی گمشدگی رپورٹ تصور کیا جائے گا کیونکہ غیر قانونی شخص کس طرح پاسپورٹ کی گمشدگی کی رپورٹ کے لیے پولیس اسٹیشن جا سکتا ہے پولیس اس کو گرفتار کر کے ڈیپورٹ بھی کر سکتی ہے سفیر محترم اور قونصل جنرل کے پاس یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ وہ انٹرویو کی بنیاد پر بھی پاسپورٹ جاری کر سکتے ہیں میری سفیر پاکستان عزت ماب ظہور احمد اور قونصل جنرل مراد وزیر علی سے گزارش ہے کہ سپین کی امیگریشن اپلائی کرنے والوں سے پاسپورٹ کی گمشدگی کی رپورٹ طلب نہ کی جائے اور انہیں فوری طور پر پاسپورٹ کا اجرا کیا جائے تاکہ وہ سپن کی امیگریشن پالیسی سے استفادہ کر سکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں