
۔،۔اے یہود! آواز خلق کو نکارہ اے خدا سمجھو(۲)۔میر افسر امان۔،۔
دنیا کے ایک غیر اسلامی ملک ساؤتھ افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں اپنی طرف سے اسرائیل کے خلاف غزہ میں نسل کشی پر جنگی مجرم کامقدمہ دائر کیا۔ عالمی عدالت انصاف نے بین الاقوامی معیار کے مطابق دونوں طرف کے وکلا کو سن کر مقدمے کا فیصلہ سنایا۔اسرائیل کے وزیر اعظم بن یمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع”یسرائیل کاتز“کو جنگی مجرم قراردیا۔ دنیا کے ملکوں کو آڈر جاری کیا کہ انہیں گرفتار کر کے عالمی عدالت میں پیش کیا جائے۔ تاکہ ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ساؤتھ افریقہ نے ساری دنیا کے ملکوں سے درخواست کی کے ہمارے ساتھ اسرائیلی نسل کشی کے مقدمے میں فریق بن جائیں۔اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اسرائیل کو دہشت گرد قرار دیا۔میلونی نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کی ایران کے خلاف ہے۔ میلونی نے نیتن سے نفرت کرتے ہوئے معاہدے کے کاغذات بھی پھاڑ ڈالے۔اس کا ملک اسرائیل کا ساتھ نہیں دے سکتا۔اقوام متحدہ اجلاس میں فلسطینی جھنڈالیے شریک ہوئی۔ نیتن نے جھنڈا ہٹانا چاہا تو منہ پر تھپڑ رسید کر دیا۔میلونی نے کہا موت قبول ہے مگر امریکی اسرائیلی غلامی قبول نہیں۔میلونی نے بیان دیا اسرائیل امریکا نے فلسطین اور ایران پر بہت سارا ظلم کیا۔ اب وہ ان کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ اٹلی کے عوام نے ایک کپڑے کے بینر پر غزہ کے تیس ہزار شہید بچوں کے نام سے مظاہرہ کرتے ہوئے، یہود کے مظالم کو دنیا کی انسانیت کے سامنے رکھا۔اٹلی کی ایم پی انگلوبونیل نے نیتن اور ٹرمپ کو کریمنل قرار دیا۔میلونی نے کہا خطے میں واحد پاکستان ہے جو امن کا داعی ہے۔ امریکا نے میلونی کو ڈرانے کے لیے کہا اگر ایران ایٹمی طاقت بن گیا تو وہ منٹ میں اٹلی کو اڑادے گا۔میلونی نے جواب دیا میرے علم میں ہے کہ نو(۹)ملکوں کے پاس ایٹم ہیں۔ کسی نے استعمال نہیں کیا۔ صرف ایک امریکا ہے جس نے جاپان کے دو شہروں پر استعمال کیا۔اٹلی نے مسلم دنیا کے ستاون (۷۵) ملکوں کو شرم دلائی، کہ اگر سب اسرائیل کا بائیکات کریں تو اسرائیل ظلم سے رک جائے گا۔چین کے صدر، شی چن پنگ نے ساری دنیا کے حکمرانوں کو ساؤتھ افریقہ کا ساتھ دیتے ہوئے عالمی عدالت انصاف میں جانے کامشورہ دیا۔ تاکہ اسرائیل کو قرار واقعی سزا دلائی جا سکے۔ چینی صدر نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر دنیا کو تیسری عالمگیرجنگ سے محفوظ رکھنا ہے تو امریکی اور اسرائیل کو ایٹمی طاقت سے محروم کرناپڑے گا۔اسپین نے یورپی یونین میں درخواست دائرکی کہ سب مل کر اسر ائیل سے دوستی اور دفاعی معاہدے کینسل کریں۔گلوبل صمود فریڈیم فلوٹیلا ۶۲۰۲ء بارسلوناسے غزہ کا محا صرہ توڑنے کے لیے نکلا۔ اس کے جہازوں پر غزہ کے مظلوموں کے لیے خوراک ادویات، طبی سامان موجود ہے۔اسرائیل نے اس قافلہ پر بین الاقوامی پانیوں میں رات کی تاریکی میں اپنی نیوی کی دہشت گرد فوج سے حملہ کر کے انسانی حقوق کے رضاکاروں پر تشدد کر کے گرفتار کردیا۔ اُن کی جہاز بم مار کر ناکارہ بنا دیے۔ بعد میں ان کو یونان ڈی پورٹ کر دیا۔ ان میں دو رضاکاروں جن کے نام”سیف ابو کشک“فلسطین نژاد اسپنش اور”تیاگ اویلا“برازیلی شہری کو پوچھ گچھ کے لیے قید کر لیا۔ روس نے ماسکو ائرپورٹ پر چالیس اسرائیلوں کو گرفتار کرلیا۔ اورکھل کر بیان دیا کہ جو ہمارے دوست ایران کادشمن ہے وہ ہمارا بھی دشمن ہے۔ جرمن چانسلر نے ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ ایرانی مذاکرات میں بڑے ہوشیار ہیں۔ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے کہا امریکہ اسرائیل کہتے تھے کہ دو دن میں ایران کو ڈھیر کر دیں گے۔ایران ساٹھ دن لڑا امریکا کے سولہ(۶۱) جہاز اور کئی ہیلی کاپٹر گرائے۔ مشرق وسطی میں سارے امریکی اڈوں کو تباہ کیا۔ پورے اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ ایران نے امریکا کو دھمکی دی ہے کہ ایران کے گیارہ ٹریلینڈ کے منجمند اثاثے جاری کرو تب مذاکرات ہوں گے۔ایران کے سپریم لیڈر سے خامنہ ای سے ایک ملاقات میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم نے معلوم کیا تھا، کہ امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کیسے رہ رہا ہے۔ سپریم لیڈر نے بتایا علامہ اقبالؒ کے فقر کے فلسفہ پر عمل کرتے ہوئے۔ایران نے آبنائے ہر مزبند کر کے امریکا کے ناک میں دم کر دیا۔ایران کے کمانڈر ”ابراھیمی“ نے کہا ہے ایران صرف آیت اللہ خامنہ ای کے فتوے کی وجہ سے ایٹمی دھماکے نہیں کر رہا تھا۔ آج وہ شہید ہو چکے اور فتوی بھی ختم ہو گیا۔ ایران نے اپنی حفاظت کے لیے سرپرائز دے سکتا ہے۔”حفیظ اللہ نیازی“ نے بیان دیا ایران نے اڑھائی سو سال بعد ایک بار پھر مسلمانوں کو سر اُٹھا کر چلنے کے قابل بنایاہے۔اسرائیل امریکا کی حالت قابل ترس ہے ایران کی شرائط پربات چیت ہوگی۔ کیوں کہ ایران فاتح ہے۔پاسداران انقلاب کے چیف نے اسرائیل کو للکارتے ہوئے بیان دیا ہے کی و ہ قابض اسرائیل سے فلسطین کی آزادی تک لڑتے رہیں گے۔عمان کے سلطان/وزیر اعظم ”ہیشم بن طارق السعید“نے ایک بیان میں ایران کوحوصلہ دیا جنگ میں نقصان کے ازالے کے لیے عمان ایران کے عوام کے کھانے پینے کے تمام وسائل مہیا کرے گا۔لگتا ہے جلد مشرق وسطیٰ کے سارے ملک اسلامی بلاک میں آ جائیں گے۔فلسطین کی مجاہد تنظیم حماس نے اسرائیل کے اندر گھس کربارہ سو(۰۰۲۱) شہری ہلاک کیا۔دو سو پچاس(۰۵۲) سویلین اور فوجیوں کو اپنے قیدی چھڑانے کے لیے یرغمال بنایا۔ اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کے جھوٹے دعوے کو زمین میں ملا دیا۔ اس کی ڈوم سیکورٹی کے بھرم توڑ دیا۔ تاریخ نے لکھا کہ ایک قلیل تعداد حماس نے اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے۔دو سال کی جنگ میں اسرائیل امریکا اپنے یرغمالی جنگ کے ذریعے نہیں چھڑا سکے۔ صرف جنگی معاہدے کے تحت یرغمالی رہا ہوئے۔اسرائیل بد عہد ثابت ہوا اور حماس عہد کا پابند رہا۔جنگ میں اخلاقی برتری کا یہ حال رہا کہ یہودی یرغمالیوں نے رہائی کے موقعہ پر قید کے دوران حماس کے رویے سے خوش ہو کر حمااس کے ماتھے چومے اور فلسطینی قیدی بیمار اور نیم مردہ حالت میں رہا ہوئے۔اسرائیلی وزیر اعظم جب اقوام متحدہ میں تقریرکرنے ڈائس پر پہنچے تو اسی(۰۸) فی صدممبران تقریرکا بائی کاٹ کرتے ہوئے حال سے باہر چلے گئے۔ اِس سے زیادہ آواز خلق کیا ہو سکتی ہے؟۔ اقوام متحدہ کے ایک سوساٹھ (۰۶۱)ممبران نے فلسطین کی آزاد ریاست کو تسلیم کرلیاہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ”فیصل بن فرحان“کا بیان آیا ہے کہ امریکا پر انحصار کا دور ختم ہو گیا۔ امریکا خود اپنے فوجی اڈوں کی حفاظت نہیں کر سکتا تو ہماری حفاظت کیا خاک کرے گا۔برطانیہ کے”کیراسٹارمر“ وزیر اعظم نے کہانیتن یاہو دنیا کا شیطان اور بدی کا محور ہے۔ ہم صہیونی ریاست اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ نیتن نے فلسطین کی نسل کشی کی اور اب لبنان میں بھی یہی کچھ کر رہا ہے۔”نیتن یاہو“دہشت گرد ہے۔یہ دہشت گردی کسی طرح بھی منظور نہیں۔اسرائیل سے ڈیفنس معاہدے اور حمایت فورناًختم ہونی چاہیے۔ ساری دنیا کو چاہیے ہے کہ اس سے جان چھڑائے۔جو ہوچکا سو ہو چکا۔نسل کشی بند ہونا چاہیے۔کولمبیا کے صدر”گستاووپیرو“ کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے۔ سفارتی عملہ کو نکال لیا۔ یورپی یونین کے ایک لاکھ سے زیادہ عوام نے ایک درخواست پر دستخط ثبت کر دیے کہ یورپی یونین کے ممالک اسرائیل سے تجارتی معاہدے ختم کیے جائیں اس لیے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کی پاسداری نہیں کرتا۔اس سے اسرائیل پر عوامی دباؤ بڑھے گا اور اسرائیل نسل کشی روکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ قارئین ایک عرصے سے راقم، نیٹ،سوشل میڈیا، اخبارات اوردیگر ذریعے سے خبریں، بیانات اور معلومات اکٹھی کرتا رہا۔تاکہ اسرائیل کو اس کا اصلی چہرہ دنیا کو دکھایا جائے۔دنیا کے عوام کے سامنے کھول کر ثابت کیا جائے کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے۔ یہ ایک ناجائز ریاست ہے۔ جسے مسلم دشمنی میں فلسطین کی زمین پر مسلط کیا۔ جو ان مسلط کرنے والوں کا بھی سر کا درد بن گیا ہے۔اگر اسے پہلے کی طرح تنہانہ کیا گیا تو یہ سازشوں سے دنیا میں تیسری عالمگیر جنگ شروع کروا دے گا۔ جو انسانیت دشمنی ہے۔ لہٰذا دنیا کے سارے حکمران مل کر اس ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ کریں۔