
۔،۔یہودی انبیاؑکے قاتل۔میر افسر امان۔،۔
الحمد اللہ،راقم کا کئی عشروں سے معمول ہے کہ فجر کی نماز کے بعد قرآن شریف اور حدیث رسول اللہ صلہ علیہ وسلم کا روزانہ کی بنیاد پر مطالعہ کرتا ہوں۔قرآن کی تفسیر میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒکی تفسیر تفہیم القرآن اور ساتھ میں تقابلی مطالعہ میں دیگر تفاسیر ہوتیں ہیں۔حدیث شریف میں صحاح ستہ، تفہیم الحدیث اور حدیث کی دیگرکتب ہوتی ہیں۔میرا یہ بھی معمول ہے قرآن شریف کے مطالعہ کے دوران جس مضمون کو عصری تقاضوں کے قریب سمجھتا، اس پر مضمون پر لکھ کر عوام میں ابلاغ کے لیے اخبارات میں شائع ہونے کے لیے ای میل کر دیتا ہوں۔ اسی طرح صحاح ستہ کی جس کتاب کا مطالعہ پورا ہوتا، اس پر بھی تعارفی مضمون لکھ کر اخبارات کو ای میل کرتا رہا ہوں۔ اخبارات میں شائع شدہ قرآن و حدیث پر مضمامین کو اکٹھا کر کے، اُنہیں کتابی شکل میں ترتیب دے کرکتاب”دین اسلام اور ہم“،بنیادی تاریخی جائزہ شایع کی۔ ایک اور کتاب”اسرائیل پاکستان کا ازلی دشمن“ کا مسودہ تیار کر رہا ہوں۔ قرآن کے مطالعہ میں آج سورۃ البقرۃ کے رکوع(۷)کی آیت (۱۶)کے آخری حصہ میں بنی اسرائیل کے انبیا ٗ کو قتل کرنے کی تفصیل ہے۔ اسی پر آج مضمون لکھ رہا ہوں تا کہ اس کو کتاب میں شامل کرلوں۔اللہ تعالیٰ قرآن کی سورۃ البقرۃ میں یہودیوں پر اپنی مہربانیوں اور یہودیوں کی ناشکری کے واقعات بیان کرتے ہوئے آیات (۱۶) کے آخری حصہ میں فرماتا ہے”یہ نتیجہ تھا اِس کا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے اور پیغمبروں ؑ کو ناحق قتل کرنے لگے“۔مولانا سید ابوالا اعلیٰ موددیؒ نے اس کی تشریع کرتے ہوئے حاشیہ نمبر ۹۷ میں ان ہی کی مذہبی کتب سے تفصیل بیان کی ہے۔ مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں بنی اسرائیل نے اپنے اس جرم کو اپنی تاریخ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔مثال کے طور پر ہم بائبل سے چند واقعات نقل کرتے ہیں۔ا۔حضرت سلیمانؑ کے بعد بنی اسرائیل کی سلطنت تقسیم ہوکو دو ریاستوں (یوروشلم کی دولت یہودیہ اور سامریہ کی دولت،اسرائیل)میں بٹ گئی تو ان میں باہم لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا، اور نوبت یہاں تک آئی کہ یہودیہ کی سلطنت نے اپنی ہی بھائیوں کے خلاف دِمشق کی ارامی سلطنت سے مدد مانگی۔اس پر خدا کے حکم سے حنانی نبی ؑ نے یہودیہ کے فرماں ”رو آسا“ کو سخت تنبیہ کی۔ مگر آسا نے اس تنبیہ کوقبول کرنے کے بجائے خدا کے پیغمبر ؑ کو جیل بھیج دیا(تواریخ، باب ۶۱،آیت ۷۔۰۱)۔۲۔حضڑت الیاسؑ(ایلیاہElliah) نے جب بعل کی پرستش پر یہودیوں کو ملامت کی اور ازسرِ نو توحید کی دعوت کا صورپھونکنا شروع کیا توسامریہ کا اسرائیلی بادشاہ”اَخی اَب“ اپنی مشرک بیوی کی خاطر ہاتھ دھوکر ان کی جان کے پیچھے پڑ گیا، حتیٰ کہ انھیں جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی۔ اس موقع پر جو دُعا حضرت الیاس ؑ نے مانگی ہے، اُس کے الفاظ یہ ہیں ”بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کر دیا۔۔۔۔۔ تیرے نبیوں ؑ کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں اکیلا بچا ہوں، سو وہ میری جان لینے کے در پے ہیں“۔(۱۔ سلاطین، باب ۹۱، آیت۰۱)۔۳۔ایک نبی ؑحضرت میکایاہ کو اسی ”اخی اب“ نے حق گوئی کے جرم میں جیل بھیجا اورحکم دیا کہ اس شخص کومصیبت کی روٹی کھلانا اور مصیبت کا پانی پلانا۔(سلاطین،باب،۲۲،آیت۶۲۔۷۲)۔۴۔پھرجب یہودیہ کی ریاست میں علانیہ بت پرستی اور بدکاری ہونے لگی اور”زکریاہ“ نبی ؑاس کے خلاف آواز بلند کی، توشاہِ یہودہ”یو آس“ کے حکم سے انھیں عین ہیکل سلیمانی میں ”مقدس“ اور”قربان گاہ“ کے درمیان سنگسار کر دیا گیا۔(۲۔تواریخ،باب۴۲، آیت ۱۲)۔۵۔اس کے بعد جب سامریہ کی اسرائیل اشوریوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی اور یروشلم کی یہودی ریاست کے سر تباہی کا طوفان تُلا کھڑا تھا، تو”یرمیاہ“نبی ؑ اپنی قوم کے زوال پر ماتم کرنے اُٹھے اور کوچے کوچے انھوں نے پکارنا شروع کیا کہ سنبھل جاؤ، ورنہ تمھارا انجام سامریہ سے بھی بدتر ہو گا۔ مگر قوم کی طرف سے جو جواب ملاوہ یہ تھا کہ ہرطرف سے ان پر لعنت کی پھٹکار کی بارش ہوئی، پیٹے گئے، قید کیے گئے، رسے سے باندھ کر کیچڑ بھرے حوض میں لٹکا دئیے گئے، تاکہ بھوک اور پیا سے وہیں سوکھ سوکھ کر مر جائیں، اوران پر الزام لگایا گیا کہ وہ قوم کے غدارہیں، بیرونی دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں (یرمیاہ،باب۵۱،آیت۰۱باب ۸۱آیت ۰۲۔ ۳۲۔ باب ۰۲،آیت،۱۔۸۱،باب ۶۳ تا باب ۰۴)۔۶۔ایک اور نبی ؑ حضرت”عاموس“ کے متعلق لکھا کہ جب انھوں نے سامریہ کی اسرائیلی ریاست کو اس کی گمرائیوں اور بدکاریوں پر ٹوکا اور ان حرکات کے بُرے انجام سے خبردار کیا، تو انھیں نوٹس دیا گیاکہ ملک سے نکل جاؤ اور باہر جا کر نبوت کرو۔(عاموس، باب،۷۔آیت ۰۱۔۳۱)۔۷۔حضرت”یحییٰ“(یوحنا) علیہ السلام نے جب ان بد اخلاقیوں کے خلاف آواز اُٹھائی جو یہودیہ کے فرمان ”روا ہیرودیس“ کے دربار میں کھلم کھلا ہو رہی تھیں، تو پہلے وہ قیدکئے گئے، پھر بادشاہ نے اپنی معشوقہ کی فرمائش پر قوم کے اس صلاح ترین آدمی کاسر قلم کر کے ایک تھال میں رکھ کر اس کی نذر کیاگیا(مرقس،باب۶،آیت ۷۱۔۹۲)۔۸۔آخر میں حضرت عیسیٰ ؑپر بنی اسرائیل کے علما اورسردارانِ قوم کا غصہ بھڑکا، کیونکہ وہ انھیں ان کے گناہوں اور ان کی ریاکاریوں پر ٹوکتے تھے اور ایمان و راستی کی تلقین کرتے تھے۔ اس قصور پر ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ تیارکیا گیا۔ رومی عدالت سے ان کے قتل کا فیصلہ حاصل کیا گیا اور جب رومی حاکم پیلاطس نے یہود سے کہا کی آج عید کے روز میں تمھاری خاطریسوع ؑ اوربرا بّا ڈاکو، دونوں میں کس کو رہا کروں، تو پورے مجمع نے بلا اتفاق پکار کر کہاکہ برابّا کو چھوڑ دے اور یسوع ؑکو پھانسی پرلٹکا۔(متی۔باب ۷۲،آیت۰۲تا۶۲)۔یہ ہے اس قوم کی داستانِ جراہم کا ایک نہایت شرمناک باب جس کی طرف قرآن کی اس آیت میں مختصراً اشارہ کیا گیا ہے۔ اب یہ ظاہر ہے جس قوم نے اپنے فساق و فجار کو سرداری و سربراہ کاری کے لیے اپنے صلحا و اَبرار کو جیل اور دار کے لیے پسند کیا ہو،اللہ تعالیٰ اس کو اپنی لعنت کے لیے پسند نہ کرتا تو آخر کیا کرتا؟یہودیوں کی ان مظالم کی روداد پڑھیں اور موجودہ اسرائیل ریاست کے کرتوتوں کو سامنے رکھیں۔۸۴۹۱ء میں عیسائیوں نے اس بد کار قوم سے نجات حاصل کرنے کے لیے فلسطین میں بسا دیا۔ یہ ساری دنیا سے فلسطین میں آ کر آباد ہونا شروع ہوئے۔ فلسطینیوں کا قتل کیا۔ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کیا۔فلسطینیوں پر اتنے مظالم ڈھائے کہ وہ فلسطین چھوڑ گئے۔جو سخت جان اور شیخ احمدیاسین، عزالدین اور دیگر علماء کے تربیت یافتہ تھے، اپناوطن فلسطین نہیں چھوڑا۔صہیونی یہود نے فلسطینیوں کو غلام بنا لیا۔ باہرسے آنیوالے یہودی دہشتگرد ہیں۔اسرائیلی حکومت کا ہر شہری فوجی ٹریننگ لینے کا پابند ہے۔ جوسولین ہیں وہ بھی دہشت گردی کی ٹریننگ لئے ہوئے ہیں۔ آباد کاروں اور اسرائیل حکومت نے مظالم ڈھا ڈھا کر فلسطینیوں کو اقلیت میں بدل دیا۔ صہیونی گریٹر اسرائیل بنانے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔یہودی کہتے ہیں یہ زمین ہمیں اللہ نے دی ہوئی ہے۔ اس فلسفہ کو ساری دنیا میں پھیلا کر ہمدردیاں حاصل کی ہوئی ہے۔ ہم نے اسی کتاب میں ایک مضمون”کیا اسرائیل خدائی منصوبہ ہے؟ میں اسرائیل کو ننگا کیا ہے۔ ۹۱ مئی۸۴۹۱ء میں اسرائیل کی فلسطین رضاکاروں اور دیگر عرب ملکوں سے جنگ ہوئی اور اسرائیل نے امریکی مدد سے اور زیادہ فلسطین پر قبضہ کر لیا۔اسے نکبہ کہا جاتا ہے۔فلسطینی یہ دن منانے کے لیے ہاتھوں میں چابیاں لے کر سڑکوں پر نکلتے ہیں۔یہ جنگ ۰۱ مارچ ۹۴۹۱ء میں ختم ہوئی۔دوسری جنگ ۶۵۹۱ء میں ہوئی۔اس میں اسرائیل نے مصر کے سینا کے صحرا پر حملہ کر دیا۔ برطانیہ اورفرانس نے اسرائیل کا ساتھ دیا۔پھر ۷۶۹۱ء تیسری چھ روزہ جنگ ہوئی۔اسرائیل نے فلسطینی علاقے،غزہ پٹی، مغربی کنارہ،مشرقی یوروشلم صحرائے سینا اور گولان پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا۔ چوتھی جنگ ۳۷۹۱ء جسے یوم کپور اور رمضان جنگ کہتے ہیں۔اس جنگ میں مصر اور شام نے اسرائیل کا بڑا نقصان کیا۔ اسرائیل کے۶۵۶۲، فوجی ہلاک ہوئے،۰۰۰۵۱، زخمی ہوئے اور ۰۰۰۱، جنگی قیدی بنائے گئے۔اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا میئر پہلے سے تیار تھی۔ وزیر دفاع موشے دیان نے عربوں پر فوقیت کا اظہارکیا تھا۔اس جنگ میں اسرائیل کا غرورٹوٹا اس کو شکست ہوئی۔ عربوں میں ہمت بڑی پھر امریکا نے اسرائیل کو ایک ماہ میں ۰۰۰۴۲ ٹن فوجی سامان دیا جس میں گولا بارود،میزائیل اور ٹینک شامل تھے۔ اس جنگ میں ہار مان کر وزیر دفاع موشے دایان نے استعفی پیش کیا تھا۔کولڈا میئر خود کشی کرنے پرتیار ہوئی تھی۔۲۲/اکتوبر کو سلامتی کونسل نے جنگ بندی کرا دی۔ا س کے بعد امریکی سفارت کاری سے مصر کے انوار سادات نے پہلا عرب حکمران تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ ۵۲ برس تک لڑنے والوں میں چالیس سال جنگ نہ رہی۔ دنیا میں سب سے زیادہ امریکا سے فوجی مدد حاصل کرنے والا ملک اسرائیل ہے۔ امریکا نے عربوں کو ڈرا کر اسرائیل کے تسلیم کرنیکی مہم چلائی۔ عرب خاموش ہو گئے۔ عرب ملکوں میں امریکا نے فوجی اڈے بنا لیے ہیں۔ اسرائیل نے ایٹم بم بنا لیاجسے ابھی تک ظاہر نہیں کیا۔اپنے آپکا ناقابل تسخیر بنایا۔ فلسطینیوں پر مظالم کی ساری حدیں توڑ دیں۔ اس پر تنگ آکر حماس ۷/اکتوبر ۳۲۰۲ ء کی پانچویں جنگ شروع کی۔ حماس نے اسرائیل میں قید ہزاروں فلسطین کو چھڑانے اور ظلم کا بدلہ لینے کے لیے دنیا کی انوکھی جنگ شروع کی۔زمین، فضااور سمندر سے اسرائیل پر حملہ آور ہو کر اس کے۵۹۱۱ جس میں فوجی سولین اورفارنر تھے ہلاک کر دیا۔۱۵۲ کو یرغمال بنا لیا۔یہ جنگ دو سال جاری رہی۔ اسرائیل حماس سے تو نہ لڑ سکا۔نہ اپنے یرغمالی چھڑا سکا۔ جنگ بندی معاہدے پر یرغمالی اور فلسطینی قیدی رہا ہوئے۔اسرائیل غزہ کے بے قصور نہتے لوگوں پر اپنا غصہ نکالا اور ایک لاکھ شہریوں جس میں بچے عورتیں زیادہ ہیں کو شہید کر دیا۔ پور ے غزہ کی ہر عمارت کو بمباری، گولا باری،کیمیائی ہتھیار،میزائیل سے زمین بوس کر دیا۔آدھے غزہ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ مگر غزہ کی نسل کشی سے اسرائیل دنیا میں تنہا ہو گیا ہے۔ ساری دنیا اسرائیل اور اس کو اسلحہ سپلائی کرنے والے ٹرمپ کے خلاف ہو گئی ہے۔اس دفعہ اس جنگ میں عربوں نے فلسطین کاساتھ نہیں دیا۔ایران نے یمن،لبنان کے ذریعے سے حماس کی فوجی مدد کی۔اسرائیل کو حماس نے بہت نقصان پہنچایا۔جس کو اسرائیل نے چھپایا اورظاہر نہیں کیا۔ اسرائیل امریکہ نے ایران کو حماس کا ساتھ دینے پر سزا دینے کے لیے حملہ کر دیا۔ اسکے سارے مرکزی لیڈر شہید کر دیے۔ ایران نے عرب ملکوں میں قائم امریکی فوجی اڈے تباہ کر دیے۔ اسرائیل کو ناقابل یقین حد تک تباہ کر دیا۔ ایران سے دونوں نے شکست کھائی۔ اب مستقل جنگ بندی معاہدے کے لیے پاکستان کے ذریعے سفارت کاری ہو رہی ہے۔لگتا ہے اللہ انبیا ء کو ناحق قتل کرنے والے اسرائیل کوایران کے ہاتھوں اس دنیا سے جلد ختم کرینے والا ہے۔ان شاء اللہ۔