۔،۔عالمی قافلہ صمود فریڈم فلوٹیلا2025ء۔میر افسر امان،میر۔،۔ 0

۔،۔عالمی قافلہ صمود فریڈم فلوٹیلا2025ء۔میر افسر امان،میر۔،۔

0Shares

۔،۔عالمی قافلہ صمود فریڈم فلوٹیلا2025ء۔میر افسر امان،میر۔،۔

 

ساری دنیا جانتی ہے، دہشت گرد اسرائیل نے امریکی کی شہ پرغزہ کی 2007ء سے ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔7/اکتوبر2023ء کے طوفان اقصیٰ کے بعداس میں مزید سختی کر دی۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو زمینی، بحری اور فضائی کا چاروں طرف سے مکمل بند کیا ہوا ہے۔ ناکہ بندی کے نتیجہ میں خوراک، ایندھن، ادویات، اور تعمیراتی سامان کی غزہ آمد انتہائی محدود یا بلکل بند ہے۔ جس سے انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں نے اسے”اجتماعی سزا“ قرار دیا ہے۔ خوراک، بجلی، پانی بلکہ ہر قسم کی انسانی ضروریات بند ہیں۔اسرائیل خوراک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ جس سے عالمی قافلے سمندری راستے غزہ جا کر محاصرہ توڑ کر غزہ کے عوام تک خوراک پہچانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ عالمی قافلہ صمود 2025ء انسانیت دوست قافلہ جس کا مقصد بھی غزہ پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانا ہے۔ عالمی قافلہ صمود جسے انگریزی میں گلوبل صمود فلوٹیلا(عالمی صمود بحری بیڑا) اور عربی میں اسطول صمود عالمی(عالمی قافلہ استقامت) کہا گیا ہے، بین لا اقوامی شہری قیادت میں بحری مہم ہے جو وسط 2025ء میں شروع ہوئی۔ اس کا مقصدغزہ کی پٹی پر اسرائیلی محاصرے کو توڑنا ہے۔ نام ”صمود“ عربہ لفظ سے لیا گیا ہے، جس کامعنی ثبات، استقامت،مزاحمت ہیں۔ یہ مہم فریڈم فلوٹیلا کوالیشن، گلوبل موومنٹ ٹو غزہ اور مغرب صمود فلوٹیلا کے تعاون سے جولائی 2025ء میں شروع ہوئی۔فلوٹیلامیں پچاس سے زائد جہازاور چوالیس سے زائد ممالک کے ہزاروں افراد شامل تھے، جو اسے شہری قیادت میں سب سے بڑابحری قافلہ بناتا ہے۔ 2010ء سے قبل اسرائیل محاصرے کو توڑنے کی کچھ کوششیں کامیاب ہوئیں مگر اس کے بعد زیادہ تر جہاز روکے یاحملہ کیے گئے، جن میں 2025ء کے مئی، جون اور جولائی کی اطلاع ملی، جس پر تین بڑی امدادی کاروائی کے لیے روانہ کیے گئے۔قافلہ اگست 2025ء کے آخر میں اوٹرنٹو، جینیوا ور بارسلونا سے روانہ ہوئے، پھر کاتانا، سیروس اورتیونیس سے مذید جہاز شامل ہوئے،کچھ قافلے موسمی حالات کی وجہ سے عارضی طور پرروکے۔ تین ستمبر کو الطالوی قافلہ سسلی پہنچا اور تیونس کے جہاز تیونس شہر کی جانب روانہ ہوئے۔چاردن بعد ہسپانیہ کے قافلے کے کچھ جہاز شمالی تیونس پہنچے، جہاں 9 ستمبر کی شام ایک مرکزی جہاز میں آگ لگی، جس پر مشتبہ طور پرڈرون حملہ کیا گیا۔ اگلی رات ایک اورجہاز پر بھی حملہ ہوا۔ 19/ ستمبر کوہسپانیہ اور تیونس کے قافلے سسلی میں ملا کر یونان کی جانب راونہ ہوئے۔22 ستمبر کی یونانی قافلہ میلوس سے کریٹ روانہ ہوا اور جو 24 ستمبر کی رات گیارہ جہازوں پر ڈرون حملے ہوئے۔ اس مہم کی حمایت میں متعدد غیر ملکی وزرا، اطالوی سیاست دان، ہسپانیہ و پرتگال کے پارلیمانی اراکین، پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد خان جن کا تعلق جماعت اسلامی پاکستان سے تعلق تھا۔ مشتاق احمد خان مارچ 2018 سے مارچ 2024ء تک ایوان بالا پاکستان کے رکن رہے۔ خیبر پختون خواہ کی نمائندگی کرتے رہے۔ فلسطین کی حق میں احتجاج اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کے لیے جانے جاتے ہیں، انھوں نے 2025ء میں عالمی قافلہ صمود میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے غزہ میں امداد پہنچانے میں حصہ لیا۔ کچھ مدت اسرائیل کی جیل میں بند بھی رہے، بلآخر اسرائیل نے دوسرے انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ ان کو بھی رہا ئی ملی تھی۔ صدر کولمبیا گستاووپیترواور اقوام متحدہ کی فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کی خصوصی نامہ نگار فرانچسکا البانیزے شامل تھے۔ اس کے برعکس اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے شرکا کو دہشت گرد قرار دے کر قید کرنے کامطالبہ کیااور اسرائیل کی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا روکنے کا اعلان کیا۔ حملوں کے جواب میں اطالوی وزارت دفاع نے آلپینی و(Alpino) اور ویر جینیو فازان(Virginio)نامی جہاز روانہ کیے جبکہ ہسپانیہ کے وزیر پیدروسانچز نے فرور(Furor) جہاز بھیجا۔یورپی کمیشن نے اعلان کیا کہ وہ غزہ کے لیے امدادی فلوٹیلا کی حمایت نہیں کرتا، لیکن بعد میں عوامی دباؤ کی وجہ سے حمایت شروع کر دی۔ جب یہ قافلہ اسرائیل کے قریب بین لااقوامی سمندر میں پہنچا تو اسرائیلی بحری فوج نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کشتیوں کے ۰۷۴/ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان کو پاکستان کے مشتاق احمد خان اور سید عزیز نظامی کے ساتھ ڈی پورٹ کیا تھا۔ گلوبل صمود فلوٹیلانے اس معاملے میں اسرائیل بحریہ کی مداخلت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی اپنے دفاع میں کیا گیا عمل نہیں، بلکہ انتہانی مایوس کے عالم میں اُٹھایا کیا اقدام ہے۔ اس فلوٹیلا میں موجود کشیوں پر ۰۰۵ سے زائد افراد سوار تھے، جن میں الطالوی سیاستدان اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کے علاوہ انسانی حقوق کے سیکڑوں کارکن شامل تھے۔ جسے اسرائیلی حکومت کے سلامتی کے وزیر دہشت گرد ایتمار بن گویر نے دہشت گردکہتا ہے۔فریڈم فلوٹیلا کی ایک کشتی کو جان بوجھ کر ٹکر ماری گئی۔27 ستمبر سے رپورٹ ہوئی کہ ہسپانوی، اطالوی، یونانی اورترکی حکومتیں ایک ساتھ فلوٹیلا کی نگرانی کر رہی تھیں اور ترکی نے مبینہ طور پر ڈرونوں کی ذریعے نگرانی کی۔ترکی کی اس نگرانی کی تصدیق صدر رجب طیب اردغان کے دفتر نے کی۔ اگلے دن فلوٹیلا غزہ کی طرف روانہ ہوئی، جب بحری امدادی دستوں کی آمد نہیں ہوئی، 29 ستمبر کو کریٹ کا ایک جہاز، قبرض اور مصر کی درمیان ٹوٹ گیا اور اس میں پانی بھرنے لگا۔جس پر ترکی اور این جی اوز ”ایمرجنسی“ نے عملے کو دوسرے جہاز پر منتقل کرایا۔ 30 ستمبر کو اعلان ہوا کہ اطالوی بحریہ فلوٹیلا کے ساتھ 150 سمندری میل تک جائے گی۔ اس کے بعد اطالوی ساتھ ختم ہو جائے گا۔اسی دن اسپین نے بھی اعلان کیا اس کی بحریہ 120 سمندی میل کے بعد فلوٹیلا کے ساتھ نہیں جائے گی۔ترکی نے کہا اگرضرورت پڑی تو ترکی فلوٹیلا کی حفاظت جاری رکھے گا۔31/اکتوبر کو فلوٹیلا میں میڈیا اور صحت کے کارکنوں کے لیے مخصوص جہاز روانہ ہوا۔ جو اسرائیل کی طرف سے غزہ میں صحافیوں اور طبی عملے پر حملے کے جواب میں تھا۔ ابتدائی گھنٹوں میں فلوٹیلا کو اسرائیلی جنگی جہاز اور نامعلوم ڈرونوں نے گھیر لیا۔ مگر ابتدائی کوشش ناکام رہیں۔ بعد میں اسرائیلی بحریہ نے متعدد جہازوں کو روکا اور کچھ پر پانی کی توپین استعمال کی گئیں۔ اس دوران 13 جہاز روکے گئے۔ جبکہ 30 جہاز پھر بھی غزہ کی طرف رواں تھے۔اسرائیل کی مداخلت کے بعد یورپ اور دیگر جگہوں پر احتجاج ہوا۔ اٹلی میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے، طلبہ نے یونیورسٹیوں اورریلوے اسٹیشنوں پر قبضہ کیا۔ جرمنی، ترکی، اسپین، بیلجیم، اورلیبیا میں بھی مظاہرے ہوئے۔ ترکی وزارت خارجہ نے اسرا ئیلی کاروائی کو دہشت گردی گردانہ قرار دیا۔ ملائشیا کے وزیر وزیر اعظم انور ابراھیم نے مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے گا۔ حکومت پاکستان نے بھی اسرائیلی اقدام کے خلاف بیان دیا۔اسرائیل کے غزہ پر مظالم پر دنیا اسرائیل سے نفرت کرنے لگی ہے۔ نیتن خود کہتا ہے اسرائیل دنیا میں تنہا ہو گیا ہے۔ عام رائے بننے لگی ہے جب تک دنیا میں اسرائیل کا وجود ہے، دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اسے مہذب دنیا سے علیحدہ کرنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں