
۔،۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں 65 سے زائد ممالک کے تقریباََ 3,000 نمائش کنندگان نے(ہائیم ٹیکسٹائل میلہ)
Heimtextil میں حصّہ لیا۔ نذر حسین۔،۔
٭جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں 65 سے زائد ممالک کے تقریباََ 3,000 نمائش کنندگان نے(ہائیم ٹیکسٹائل میلہ) Heimtextil میں حصّہ لیا جبکہ پاکستان سے تین سو 300 سے زائد نمائش کنندگان نے بھرپور شرکت کی۔ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلر پاکستان کمرشل قونصلیٹ مسز آمنہ نعیم کی کوششوں سے پاکستان پاویلین کا ہر سال اہتمام کیا جاتا ہے۔پاکستان کے لئے ہائیم ٹیکسٹائیل بہت اہم میلہ ہوتا ہے،گھریلو اور کنٹریکٹ ٹیکسٹائل کے لئے پاکستان کا نام ہمیشہ سر فہرست رہا ہے،اس بار بھی پاکستانی کاروباری حضرات نے یقیناََ بہت اچھے آرڈر موصول کئے کیونکہ پاکستانی اسٹال خریداروں کی توجہ کا مرکز بنے رہے ٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ہیڈ آف چانسلری۔قائم مقام قونصلیٹ جنرل رحمان فہد نے ہائیم ٹیکسٹائل کی وزٹ کی جتنا ممکن تھا آپ نے نمائش کنندگان سے ملاقات کی بات چیت کے دوران میڈیا بھی موجود تھی، دنیا نیوز کے نمائندے کے سوال کے جواب میں نمائش کنندگان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک اور گیس کا معاملہ دن بدن کمزور ہوتاجا رہا ہے جس سے ہمیں پروڈیکشن میں بہت پرابلم ہوتے ہیں۔ یہ پہلی بار تھی کے قالین کے اسٹال بھی لگائے گئے۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ مہنگائی زیادو ہونے اور ٹیکس بڑھنے سے ان کے کاروبار میں فرق پڑا ہے کیونکہ دوسرے ممالک یہی مال پانچ سے دس فیصد سستا بیچ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود جتنے بھی بزنس مین ہائیم ٹیکسٹائل میں تشریف لائے تھے اپنی اپنی جگہ مطمئن تھے۔ قائم مقام قونصل جنرل نے اپنے وزٹ کارڈ بھی تقسیم کئے اور نمائش کنندگان کو ہر طرح کی مدد کی یقین دہانی کروائی جبکہ جرمن بزنس مین وزٹ ویزہ کی بھی یقین دہانی کروائی۔ قائم مقام قونصل جنرل تقریباََ تین گھنٹوں تک نمائش کنندگان سے ملاقات میں مصروف رہے انہوں نے بڑی خندہ پیشانی ملاقات کی، بزنس مین افراد سے ملاقات کے درمیان ان کے مسائل پر بھی بات کی، ان کو قونصلیٹ کی وزٹ کی دعوت بھی دی اور ان کو اس بات کی بھی یقین دہانی کروائی کہ جرمن نیشنل اگر پاکستان آپ کی فیکٹری یا آفس کی وزٹ کرنا ہو تو ہم ان کو باآسانی اور جلد وزٹ ویزہ دیں گے انہوں نے دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میرا ہائیم ٹیکسٹائل کا وزٹ پہلا تجربہ تھا، مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی ہے کہ یہاں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لئے پاکستانی تین سو سٹال لگائے گئے ہیں جس میں ہر کیٹیگری کے نمائش کنندگان آئے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی مختلف مصنوعات کی نمائش کی ہے۔ میری کوشش تھی کہ تمام نمائش کنندگان سے ملاقات کروں،ہائیم ٹیسٹائل میں پاکستان اس وقت پانچویں نمبر پر ہے،یہ ایونٹ پاکستان کے لئے اوربزنس کے لئے بہت اہم ہے۔ جن افراد سے ہماری ملاقات ہوئی بہت خوش تھے، ان کا کہنا تھا کہ اس بار تمام انتظامات بہت اچھے طریقے سے کئے گئے تھے گذشتہ سال سے یقیناََ بہتر تھے، تمام لوگوں سے باتوں باتوں میں ان کو پیش آنے والے مسائل پر بھی بات کی جس پر ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی مسائل پیش نہیں آئے،سب کچھ واقعی مثبت رہا، ان کا مزید کہنا تھا کہ اب کی بار قالینز کی نمائش بھی کی گئی ان سے ملاقات پر بھی یہ سن کر خوشی ہوئی کہ ان کا جرمنی آنا رائیگان نہیں گیا ان کو بھی مثبت آرڈر ملے، پاکستانی نمائش کنندگان نے دوسرے اسٹالوں کی بھی وزٹ کی بات چیت کی نئی نئی مصنوعات اور معلومات بھی حاصل کیں، سب کا کہنا تھا کہ ہماری توقع سے زیادہ آرڈر ملے ہیں جبکہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارتی معاملات بہتر سے بہتر ہوتے چلے جا رہے ہیں، جرمنی پر بہت کچھ فوکس کیا جاتا ہے یورپ کا سب سے مضبوط ملک بھی جرمنی کو جانا جاتا ہے، ہماری کمرشل ونگ اس کو رن کرتی ہیں ان کا بہت اہم کردار ہے ہم تمام پاکستانی تاجروں کو مبارک باد دیتے ہیں، منسٹری آف کامرس،منسٹری آف فارن افیئر اور سفیر پاکستان محترمہ ثقلین سیدہ کی ہدایت پر ہم یہاں پر موجود ہیں ہر شخص نے اپنی اپنی جگہ پر شراکت کی ہے، ہمارے بزنس مین بین الاقوامی سطح پر مانگی گئی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مصنوعات کو تیار کر رہے ہیں جس میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے یورپین ممالک میں اپنی اپنی مصنوعات کو بیچا جا رہا ہے۔































































