
-,-“یورپین لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ سیمینار کامیابی سے اختتام پذیر”-واجد قریشی-,-
“ڈنمارک میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کے زیراہتمام تین روزہ تربیتی پروگرام، یورپ بھر سے قائدین و ذمہ داران کی شرکت، مستقبل کی قیادت سازی اور مؤثر تنظیمی حکمتِ عملی پر خصوصی توجہ”منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہونے والا تین روزہ یورپین لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ سیمینار علمی، فکری، تربیتی اور تنظیمی سرگرمیوں کے بعد کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔ 7 سے 9 اگست 2026 تک جاری رہنے والے سیمینار میں ڈنمارک سمیت یورپ کے مختلف ممالک سے قائدین، ذمہ داران اور وفود نے شرکت کی، جبکہ بڑی تعداد میں شرکاء آن لائن بھی شریک ہوئے۔سیمینار کا مقصد قائدین کی قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کو نکھارنا، مؤثر ابلاغ و مشاورت، ٹیم ورک، نظم و ضبط اور خود احتسابی کو فروغ دینا اور مختلف یورپی کمیونٹیز میں مستقبل کی قیادت تیار کرنے کے لیے عملی حکمتِ عملی وضع کرنا تھا۔سیمینار کے پہلے روز تقریباً 150 ایگزیکٹو شرکاء نے بالمشافہ جبکہ 100 سے 120 افراد نے آن لائن شرکت کی۔ افتتاحی نشست سے صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک قیصر نجیب اور باجی بشریٰ ریاض، ایم ای سی نے خطاب کرتے ہوئے قیادت کی ذمہ داری، اعتماد اور تنظیمی خدمت کی اہمیت اجاگر کی۔ مقررین نے واضح کیا کہ حقیقی قیادت محض منصب نہیں بلکہ کردار، ذمہ داری اور خدمت کا نام ہے۔فیصل نجیب نے خود نظم و ضبط، وقت کی پابندی، نیت اور ذاتی انتظام کے موضوع پر عملی ورکشاپ پیش کی، جبکہ سیمینار کے مرکزی فکری خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے Organic Leadership اور Servant Leadership کے تصورات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے قیادت کو خدمت، کردار، اعتماد اور لوگوں کے ساتھ مضبوط تعلق سے جوڑتے ہوئے انصارِ مدینہ اور حضور اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔دوسرے روز قیادت کے عملی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مؤثر ابلاغ، اختلافِ رائے کو مثبت انداز میں حل کرنے، مختلف نسلوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مضبوط ٹیموں کی تشکیل جیسے موضوعات پر تربیتی نشستیں منعقد ہوئیں۔“Working with People & Teams”کے عنوان سے ہونے والی نشست میں حسن بوستان اور بلال اپل نے افراد کی مختلف صلاحیتوں، مزاج اور شخصی خصوصیات کو سمجھ کر ایک مؤثر اور متوازن ٹیم تشکیل دینے کے عملی طریقوں پر گفتگو کی۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے Servant Leadership کے اہم اوصاف، بالخصوص سننے، ہمدردی، اصلاح اور شعور و آگہی کی اہمیت بیان کی۔سیمینار کی ایک نمایاں سرگرمی“Real-Life Clinic”تھی، جس میں مختلف گروپس نے حقیقی تنظیمی مسائل اور کیس اسٹڈیز کے حل پیش کیے۔ اس سرگرمی کے ذریعے شرکاء کو مسئلہ حل کرنے، فیصلہ سازی، تجزیاتی سوچ اور ٹیم ورک کی عملی تربیت دی گئی۔ سوال و جواب کی خصوصی نشست میں پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، شکیل احمد طاہر اور بلال اپل سمیت مختلف ممالک سے شریک قائدین نے تنظیمی، انتظامی اور کمیونٹی سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔سیمینار کے تیسرے روز“Arriving at Leadership”کے عنوان سے نشست میں قیادت کے سفر اور ٹیم سازی کے تقاضوں پر گفتگو ہوئی۔ قیصر نجیب نے ٹیم کے افراد کی صلاحیتوں اور شخصی خصوصیات کو سمجھنے اور انہیں اجتماعی مقصد کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی۔“My Leadership Action Plan”کے عنوان سے ہونے والی عملی ورکشاپ میں بشریٰ ریاض نے شرکاء کی رہنمائی کی۔ شرکاء نے اپنی اپنی کمیونٹیز میں مستقبل کے قائدین کی شناخت، تربیت اور ترقی کے لیے عملی منصوبہ بندی کی اور کم از کم دس ممکنہ مستقبل کے قائدین کی تیاری کے عزم کا اظہار کیا۔اختتامی خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے قیادت میں امانت داری، ذمہ داری، حکمتِ عملی، اثراندازی اور خدمت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کے واقعۂ ہجرت کے دوران ادا کیے گئے کردار کو حکمتِ عملی، اخلاقی ذمہ داری اور قائدانہ بصیرت کی مؤثر مثال قرار دیا۔سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پروگرام کے دوران حاصل ہونے والی علمی، فکری اور تربیتی رہنمائی کو اپنی اپنی کمیونٹیز اور تنظیمی ذمہ داریوں میں عملی طور پر بروئے کار لایا جائے گا۔تین روزہ سیمینار نے قیادت کو محض انتظامی اختیار کے بجائے خدمت، کردار، مشاورت، نظم و ضبط، مؤثر ابلاغ، ٹیم ورک، اعتماد اور مسلسل تربیت کے جامع تصور کے طور پر اجاگر کیا۔ پروگرام نے موجودہ قائدین کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ یورپ میں مستقبل کی قیادت سازی کے لیے بھی ایک واضح اور عملی سمت متعین کی۔







