
۔،۔جنوب مغربی برلن میں بجلی کی بندش کے تیسرے دن بھی تقریباََ 30,000 گھرانے بجلی سے محروم۔ نذر حسین۔،۔
٭ہفتہ کے روز مشتبہ بائیں بازو کے انتہا پسندوں کی آتش زنی کے دہشت گردحملے میں تباہ ہونے والی ہائی وولٹج پاور لائنوں کی بنا پر تقریباََ 30,000 گھرانے بجلی کی بندش سے تیسرے دن بھی نبر آزما ہیں ٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/برلن۔ مقامی میڈیا کے مطابق برلن کے گورننگ میئر کائی ویگز نے زید ڈی ایف کے مارننگ میگزین میں کہا یہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ سو فیصد سیکورٹی ناممکن ہے۔محکمہ بجلی کے اہلکار ہفتہ کے روز مشتبہ بائیں بازو کے انتہا پسندوں کی آتش زنی کے دہشت گردحملے میں تباہ ہونے والی ہائی وولٹج پاور لائنوں کی بنا پر تقریباََ 30,000 گھرانے بجلی کی بندش سے تیسرے دن بھی نبر آزما ہیں، ریلست اس طرح کے حملوں کا شکار رہتی ہے، ہمیں اس خطرے کو ختم کرنا چاہیئے، انہوں نے زور دیا۔تاہم اس میں وقت لگے گا جبکہ تمام تر انڈر گراونڈ ہونے کے باوجود۔پاور گرڈ کا صرف ایک چھوٹا سا حصّہ زمین کے اوپر ہے۔ اس چھوٹے سے حصّے کو زیادہ موثر طریقہ سے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے، مثال کے طور پر ویڈیو نگرانی اور حفاظتی خدمات کے ساتھ، برلن کے گورننگ میئر کائی ویگز نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے، اسٹیٹ کریمنل پولیس آفس اور دفتر برائے تحفظ آئین کو بھی مطلع کیا گیا ہے، برلن فیڈرل کریمنل پولیس آفس اور دیگر وفاقی ایجنسیوں سے بھی رابطہ میں ہیں۔مشتبہ مجرموں ٭آتش فشاں گروپ٭کے خط کا عنوان ہے (حکمرانوں کی طاقت کو ختم کرنا) اس میں کہا گیا ہے۔توانائی کے لالچ میں،زمین کو خشک کیا جا رہا ہے، سوکھا چوسا جا رہا ہے، جلایا جا رہا ہے، مسمار کیا جا رہا ہے،اس کو عصمت دری کے نام سے پکارا گیا ہے، Lichterfelde میں گیس سے چلنے والے پاور پلانٹ کو کامیابی سے سبوتاث کیا جا رہا ہے۔ پولیس تیس لاوڈ اسپیکر گاڑیوں کے ساتھ متاثرہ رہائیشوں کو مطلع کر رہی ہے جبکہ جرمن مسلح افواج اب لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور ہنگامی جنریٹرز کے آپریشن میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ ہنگامی حالات میں کئی اسکول ہوٹل بھی دہشت گردی کا شکار بنے ہیں۔





