۔،۔یہودی اللہ سے لڑنے والے۔میر افسر امان۔،۔ 0

۔،۔یہودی اللہ سے لڑنے والے۔میر افسر امان۔،۔

0Shares

۔،۔یہودی اللہ سے لڑنے والے۔میر افسر امان۔،۔
قرآن شریف میں اللہ سے مقابلہ کرنے والے یہود کے بارے میں ہے:۔ ”یہ سب اس لیے ہوا کہ انھوں نے اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کا مقابلہ کیا، اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کو سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ (الحشر۔۴)اللہ نافرمانوں کو معاف کرنے والا ہے۔ مگر اللہ سے لڑنے والے یہودیوں کوکبھی معاف نہیں کرے گا۔یہود جو کہتے ہیں نا کہ وہ فلسطین کے پرانے باشندے ہیں۔ مولانا سید ابوالا مودودیؒ اپنی تفسیر تفہیم القرآن سورۃ الحشر کے صفحہ ۰۷۳ جلد پنجم میں لکھتے ہیں۔ عرب کے یہودیوں کی کوئی مستند دنیا میں موجود نہیں۔ انھوں نے خود اپنی کوئی ایسی تحریر کسی کتاب یا کتبے کی شکل میں نہیں چھوڑی ہے جس سے ان کے ماضی پرکوئی روشنی پڑ سکے۔ اور عرب سے باہر کے یہودی مورخین و مصنفین نے اُن کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے، جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کی جزیرۃ العرب میں آکر وہ اپنے بقیہ ابنائے ملت سے بچھڑگئے تھے، اور دنیا کے یہودی سرے سے اُن کو اپنوں میں شمار ہی نہیں کرتے تھے، کیونکہ انھوں نے عبرانی تہذیب، زبان، حتیّٰ کی نام تک چھوڑ کر عربیت اختیار کر لی تھی۔حجاز کے آثار قدیمہ میں جو کتبات ملے ہیں، اُن میں پہلی صدی عیسوی سے قبل یہودیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا، اور ان میں بھی صرف چند یہودی نام ہی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے عرب کی تاریخ کا پیشتر انحصار اُن زبانی روایات پرہے جو اہل عرب میں مشہور تھیں، اور ان میں اچھاخاصا حصہ خود یہودیوں کا اپنا پھیلا یا ہوا تھا۔حجاز کے یہودیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ سب سے پہلے و ہ حضرت موسیٰ ؑ کے آخر عہد میں جہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ اس کا قصہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے ایک لشکر یثرب کے علاقے سے عمایقہ کا نکالنے کے لیے بھیجا تھا اور اسے حکم دیا تھا اس قوم کے کسی شخص کو زندہ نہ چھوڑیں۔ بنی اسرائیل کے اس لشکر نے جہاں آکر فرمان نبی ؑ کی تکمیل کی، مگرعمالقہ کے باشاہ کا ایل لڑکا بڑا خوبصورت جوان تھا، اسے انھوں نے زندہ رہنے دیا اور اس کے ساتھ لیے ہوئے فلسطین واپس پہنچے۔اس وقت حضرت موسیٰ ؑ کا انتقال ہو چکا تھا۔اُن کے جانشینوں نے اس بات پر سخت اعتراض کیا، کہ ایک عمالق کو زندہ چھوڑ دینا نبی ؑ کے فرمان اور شریعتِ موسوی کے احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔اس بنا پر انھوں نے اس لشکر کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا، اور اسے مجبوراًیثرب واپس آنا پڑا(کتاب الاغانی،ج ۹۱،ص ۴۹)۔اس طرح یہودی گویا اس بات کے مدّعی تھے کہ وہ ۲۱ سو برس قبلِ مسیح سے جہاں آباد ہیں۔ لیکن در حقیقت اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں، اور اغلب یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ فسانہ اس لیے گھڑا تھا کہ اہل عرب پر اپنے قدیم الاصل اور عالی نسب ہونے کی دھونس جمائیں۔دوسری یہودیت مہاجرت، خودیہویوں کی اپنی روایات کے مطابق ۷۸۵ قبل مسیح میں ہوئی۔ جب کے بابل کے بادشاہ بخت نصر نے بیت المقدس کو تباہ کر کے یہودیوں کو دنیا پھر میں تتربتتر کر دیا تھا۔ عرب کے یہودی کہتے تھے کہ اس زمانے میں ہمارے متعدد قبائل آکروادی القریٰ، تیما، اور یثرب میں آباد ہو گئے تھے۔(فتوح البدان البلازری) لیکن اس کا بھی کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ بعید نہیں کہ اس سے وہ اپنی قدامت ثابت کرنا چاہتے ہوں۔درحقیقت جوبات ثابت ہے، وہ یہ ہے کی جب ۰۷عیسوی میں رومیوں نے فلسطین میں یہودیوں ک قتل عام کیا، اور ۲۳۱ ء میں انھیں اس سرزمین سے بالکل نکال بار کیا۔ اس دور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ کیونکہ یہ علاقہ فلسطین کے جناب میں متصل ہی واقع تھا۔ جہاں آکر انھوں نے جہاں جہاں چشمے اور سرسبز مقامات دیکھے، وہاں ٹھیر گئے اوررفتہ رفتہ اپنے جوڑ توڑ اور سود خواری کے ذریعے سے ان پر قبضہ جما لیا۔ایلہ،مقنا، تبوک تیماء وادیالقریٰ، فدک اور خیبر پر ان کا تسلط اُسی دور میں قائم ہوا۔ اور بنی قریظہ، بنی نضیر،بنی بہدل اور بنی قینقاع بھی اسی دور میں آکر یثرب پر قابض ہوئے۔ یثرب میں آباد ہونے والے قبائل میں سے بنی نضیر اور بنی قریظہ زیادہ ممتاز تھے۔ کیونکہ وہ کاہنوں (cohensیاpriests) کے طبقے سے تھے۔ انھیں یہدویوں میں عالی نصب مانا جاتا تھا،اور ان کو اپنی ملت میں مذہبی سیادت حاصل تھی۔مقامی عرب قبائل کو دبا کر سر سبز شاداب مقام کے مالک بن بیٹھے۔ تین صدی بعد یمن میں اُس سیلاب عظیم کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر سورۃ سبا کے دوسرے رُکوع میں گز ر چکا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے یمن کے قبیلے یمن سے نکل کر عرب کے اطراف میں پھیل گئے۔غسانی ملک شام میں جا بسے۔ اُوس و خزرج یژب میں جاکر آباد ہوئے۔یثرب میں کیوں کہ یہودی چھائے ہوئے تھے،شروع میں ان کی دال نہ گھلنے دی۔یہ پنجر زمینوں پر بس گئے۔ آخر کار ان کا ایک سردار اپنے غسانی بھائیوں کے پاس شام کیا۔ ایک لشکر لا کر اس کی مدد سے یہودیوں کا زور توڑ دیا۔بنی نضٰیر اور بنی قریظہ شہر سے باہر جا کر آباد ہو گئے۔تیسرے قبیلے بنی قریظہ کی ان دونوں سے ان ابن تھی اس لیے قبیلہ خزرج کی پناہ لے کر وہیں رک گیا۔ اسکے مقابلے میں بنی نضیر اور قریظہ نے قبیلہ اُوس کی پنا لی۔تاکہ اطراف یثرب میں امن سے ر ہ سکیں۔ اس کے بعد زبان، لباس،تہذیب،تمدن ہرلحاظ انھوں نے عربیت کا رنگ اختیار کر لیا تھا۔حتی کی ان کی غالب اکثریت کے نام بھی عربی ہو گئے تھے۔ ۲۱ یہودی قبیلے جو حجاز میں آباد ہوئے تھے، ان میں سے بنی زَ عُوراء کے سوا کسی قبیلے کا نام عبرانی نہ تھا۔ان کے چند علما کے سوا کسی کو عبرانی تک نہیں آتی تھی۔ یہودی شاعروں کا جو کلام ہمیں ملتا ہے، ان کی زبان اورخیالات اور مضامین میں شعرائے عرب سے الگ کوئی امتیازی شان نہیں پائی جاتی جو انھیں ممیز کرتی ہو۔ یہودیوں اور عربوں میں شادی بیاہ کے تعلقات قائم ہو چکے تھے۔ ان میں اور عام عربوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ ان ساری چیزوں کے باوجود وہ عربوں میں جذب بالکل نہ ہوئے تھے۔انھوں نے شدت کے ساتھ اپنی یہودی عصبیت برقرار رکھی تھی۔یہ ظاہری عربیت انھوں نے صرف اس لیے اختیار تھی کہ اس کے بغیر وہ عرب میں رہ نہیں سکتے تھے۔ان کی اس عربیت کی وجہ سے مغربی مستشرقین کو یہ دھوکہ ہوا ہے کہ شاہد یہ بنی اسرائیل نہ تھے بلکہ یہودی مذہب قبول کرنے والے عرب تھے۔یا کم از کم ان کی اکثریت عرب یہودیوں پر مشتمل تھی۔یہودی اپنے مذہب کی عرب میں تبلیغ نہیں کی۔ جیسے نصرانی علمااپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔اس کے برعکس یہودیوں میں اسرائیلت کا شدید تعصب اور نسلی فخر و غرور پایا جاتا تھا۔ہل عرب کو وہ امی(gentiles) کہتے تھے۔جن کے معنی صرف ان پڑھ نہیں بلکہ وحشی اور جاہل کے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان امیوں کو انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں جو اسرئیلوں کے لیے ہیں۔ ان کا مال جائز ناجائز طریقے سے مار کھانا اسرائیلوں کے یے حلال اور طیب ہے۔عرب سرداروں کے علاوہ عام عربوں کو اس قابل نہ سمجھتے تھے کہ ان کو اپنی دین میں شامل کریں۔اس لیے کہ یہودیت محض چند اسرائیل قبیلوں کا سرمایا فخر و ناز بنی رہی۔انھیں صرف کاروبار سے لگاؤ تھا۔یہودی علما نے تعویز گنڈوں اور فال گیری اور جادوگری کا کاوبار خوب چمک رکھا تھا۔جس وجہ سے عربوں پر ان کے علم اور عمل کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔معاشی حیثیت سے انکی پوزیشن عرب قبائل کی بہ نسبت زیادہ مضبوط تھی۔ان کے تجارتی اور مالی مفادات کاتقاضا تھا کی عربوں میں کسی کے دوست بن کر رہیں، کسی سے نہ بگاڑیں اور نہ ان کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لیں۔ ان کا مفاد تھا کہ عرب قبیلوں میں اتحاد نہ ہو یہ آپس میں لڑتے رہیں۔اپنے مفاد کے لیے کسی عرب قبیلہ سے دوستی کرنے پڑتی تھی۔ یثرب میں بنی قریظہ اور بنی نضیر اُوس کے حریف تھے۔ اور بنی قینقاع،خزرج کے حریف تھے۔ ہجرت سے تھوڑی مدت پہلے اوس اور خزرج کے درمیان جوخون ریز لڑائی بعاث کے مقام پر ہوئی تھی، اس میں یہ اپنے اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے تھے۔یہ حالت تھے جب مدینے میں اسلا م پہنچا۔ وہاں ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی۔ رسولؐاللہ نے پہلاجوکام کیا کہ اوس و خزرج اور مہاجرین کے درمیان برادری بنائی۔ دوسرا یہ تھا کہ اس مسلم معاشرے اور یہودیوں کی درمیان واضع شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا۔ جس میں اس امر کی ضمانت دی گئی تھی کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں سب متحدہ دفاع کریں گے۔ابن ہشام (ج۲ ص ۷۴۱تا ۰۵۱)امن معاہدہ کی شقیں درج ہیں۔ یہودی اپنا خرچ اُٹھائیں گے اورمسلمان اپنا خرچ، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا حملہ آور کے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد کی پابند ہوں گے۔ اور یہ کہ وہ خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کی خیرخواہی کریں گے۔ اور ان کے دمیان نیکی وحق رسانی کا تعلق ہو گانہ کہ گناہ اور زیادتی کا، اور یہ کہ کوئی اپنے حلف کے ساتھ زیادتی نہیں کر ے گا، اور یہ کہ مظلوم کی حمایت کی جائے گی، اور یہ کہ یہ جب تک جنگ رہے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر مصارف اٹھائیں گے۔ اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا پر یثرب میں کسی نوعیت کا فتنہ و فساد رنا حرام ہو گا، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا کے درمیان اگر کوئی ایسا قضیہ یا اختلاف رونما ہو جس سے فساد کا خطرہ و تو اس کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمدرسولؐ اللہ کریں گے۔۔۔۔۔اور یہ کہ قریش اور اس کے حامیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی، اوریہ کہ کہ یثرب پر جو بھی حملہ آور ہو اس کے مقابلے میں شرکائے معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔۔۔۔۔ ہر فریق اپنی جانب کے علاقے کی مدافعت کا ذمہ دار ہو گا۔یہ ایک قطعی اور واضع معاہدہ تھا جس کی شرائط یہودیوں نے خود قبول کی تھیں۔لیکن بہت جلد انھوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ روش کا اظہار شروع کر دیا اوران کا عناد روز بزروز سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔ اس کے بڑے بڑے وجوہ تین تھے۔ایک یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو محض ایک رئیس قوم دیکھنا چاہتے تھے جو اُن کے ساتھ بس ایک سیاسی معاہدہ کر کے رہ جائے اور صرف اپنے گروہ کے دنیوی مفاد سے سروکار رکھے۔ مگر انھوں نے دیکھا کہ آپؐ تو اللہ اور آخرت اور رسالت اور کتاب پر ایمان لانے دعوت دے رہے ہیں (جس میں خود اُن کے اپنے رسولوں ؑ اورکتابوں پر ایمان لانا بھی شامل تھا) اور معصیت چھوڑ کر ان احکام الہی کی اطاعت کرنے اور ان اخلاقی حدودکی پابندی کرنے کی طرف بلا رہے ہیں جن کی طرف خود ان کے انبیاء بھی دنیا کو بلاتے رہے تھے۔یہ چیزان کو سخت ناگوار تھی۔ان کو خطرہ تھا کہ اسلام کی یہ دعوت یہودیت کی مذبیت کو بہا لے جائے گا۔دوسرا یہ کہ اوس و خزرج اور مہاجرین کا بھائی بھائی بنتے دیکھ کر،گرد و پیش کے عرب قبائل دعوت قبول کرتے دیکھ کر انھیں خطرہ محسوس ہوا کہ وہ صدیودں سے عربوں کو لڑا تے رہیں،اب نہ لڑا سکیں گے۔ کیونکہ یہ بھائی بھائی بن گئے ہیں۔ تیسرا یہ کہ معاشرے اور تمدن کی جو اصلاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے تھے، اس میں کاروبار اورلین دین کے تمام ناجائز طریقوں کا سدباب شامل ہے۔ سود کو بھی آپؐ ناپاک کمائی اور حرام خوری رار دے رہے تھے، جس سے انھیں خطرہ تھا کہ اگر عرب پر آپ کی فرمانروائی قائم ہو گئی تو آپؐاسے قانوناً ممنوع کر دیں گے، جو فتح مکہ کے موقع پر حرام قرار دے دیا گیا تھا۔ اس میں ان کو اپنی موت نظر آتی تھی۔ان وجوہ سے یہود نے آپؐ کی مخالفت کو اپنا قومی نصب العین بنا لیا۔ آپ ؐ کو زک دینے کے کے کوئی چال،کوئی تدبیر اور کوئی ہتھگنڈا استعمال کرنے میں ان کو ذرہ بربار تامل نہ تھا۔ وہ آپؐ کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی باتیں پھیلاتے تھے کہ لوگ آپؐ سے بدگمان ہو جائیں۔ اسلام قبو ل کرنے والوں کے دلوں میں ہر قسم کے شکوک و شبہات اور وسوسے ڈالٹے تھے۔ تاکہ لوگ آپؐ سے برگشتہ ہو جائیں۔ خود جھوت موٹ کا اسلام قبول کر نے کے بعد مرتد ہو جاتے تھے۔ تاکہ لوگوں میں اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زیادہ سے زیادہ غلط فہمایاں پھیلائی جا سکیں۔ فتنے برپاہ کرنے کے لیے منافقین سے ساز باز کرتے تھے۔اوس و خزرج کے لوگ خاص طور پر ان کے ہدف تھے، جن سے ان کے مدت ہائے دراز کے تعلقات چلے آ رہے تھے۔ جنگ بعث کے تذکرے چھیڑ چھیڑ کو وہ ان کو پرانی دشمنیاں یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے۔ تاکہ ان کے درمیان ایک بار پھر تلوار چل جائے۔لین دین میں جس کے بقایا جات تھے۔جب وہ اسلام لائے تو کہتے تھے تم بددین ہو گئے ہو۔ لہذا تمھارے بقایا جات واپس نہیں کریں گے۔اس پر اب کوئی حق نہیں رہا۔اس کی متعدد مثالیں تفسیر طبری، تفسیرنیسا بورمیں موجود ہیں۔معاہدے کی خلاف کھلی کھلی معاندانہ روش تو جنگ بدر سے پہلے ہی روز اختیار کر چکے تھے۔بنی نضیر کا سردار کعب بن اشرف چیخ اُٹھاکہ”پھر وہ مکہ پہنچا اور بدر میں جو سردار مارے گئے تھے، ان کی نہایت اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر مکہ والوں کو انتقام پر اُکسایا۔ پھر مدینہ واپس آکر اس نے اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے ایسی غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفا کی بہو بیٹیوں کے ساتھ اظہار عشق کیا گیا۔ آخر کار اس کی شرارتوں سے تنگ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول ۳ھ میں محمد بن مسلمہ انصاری کو بھیج کر اسے قتل کر دیا(ابن سعد،ابن ہشام تاریخ طبری) یہودیوں کا پہلا قبیلہ جس نے اجتماہی طور پر جنگ بدر کے بعد کھلم کھلا اپنا معاہدہ توڑدیا بنی قینقاع تھا۔ یہ لوگ خود شہر مدینہ کے اندر ایک محلے میں آباد تھے اورچونکہ یہ سنار، لوہار، اور ظروف ساز تھے، اس لیے ان کے بازار میں اہل مدینہ کو کثرت سے جانا آنا پڑتا تھا۔ ان کو اپنی شجاعت پر بڑا ناز تھا۔آہن گر ہونے کی وجہ سے ان کا بچہ بچہ مسلح تھا۔ سات سو مرادانِ جنگی ان کے اندر موجود تھے۔ اور ان کو اس بات کا بھی زعم تھا کہ قبیلہ خرج سے ان کے پرانے حلیفانہ تعلقات تھے، اور خزرج کا سرادر عبداللہ بن اُبی ان کا پشتیبان تھا۔ ایک روز ان کے بازار میں ایک مسلمان عورت کر برسرعام برہنہ کر دیا گیا۔ اس پر سخت جھگڑاہوا، اور ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہو گیا۔رسولؐ اللہ ان کے محلے شریف لیے گئے اور ان جمع کر کے آپُ نے ان کو رائے راست پر آنے کی تلقین فرمائی۔ مگر انھوں نے جواب دیا”اے محمد ؐ تم نے شاید ہمیں بھی قریش سمجھا ہے؟ وہ لڑنا نہیں جانتے تھے، اس لیے تم نے انھیں مارلیا۔ہم سے سابقہ پیش آئے گا تو تمھیں معلوم ہو جائے گاکی مرد کیسے ہوتے ہیں“ یہ گویہ صاف صاف اعلان جنگ تھا۔ آخر کار رسولؐ اللہ نے شوال۲ھ کے آخر میں ان کے محلے کا مھاصرہ کر لیا۔ صرف پندرہ روز ہی یہ محاصرہ رہا تھا کہ انھوں نے ہھتیار ڈال دیے۔ ان کے سارے قابل جنگ آدمی باندھ لیے گئے۔ اب عبداللہ بن ابی ان کی حمایت کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا اور اس نے سخت اصرار کیا کہ آپؐ انھیں معاف کر دیں۔ رسولؐاللہ نے اس کی درخواست قبول کی اور فیصلہ سنایا کہ بنی قیقاع اپنا سب مال، اسلحہ اور آلاتِ صنعت چھوڑ کر مدینے سے نکل جائیں۔(ابن سعد ابن ہشام، تاریخ طبری)کعب بن اشرف کے قتل اور بنی قینقاع کے اخراج کے بعد یہودی اتنے خوف زدہ رہے کہ انھیں کوئی مزید شرارت کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ مگر جب اس کے بعد شوال ۳ھ میں قریش کے لوگ جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لیے بڑی تیاریوں کے ساتھ مدینے پر چڑھ آئے، اور ان یہودیوں نے دیکھا کی قریش کی تین ہزار فوج کے مقابلے میں رسولؐاللہ کے ساتھ صرف ایک ہزار آدمی لڑنے کے لیے نکلے ہیں، اور ان میں سے بھی تین سو منافقین الگ ہو کر پلٹ آئے ہیں، تو انھوں نے معاہدے کی پہل اور صریح خلاف ورزی اس طرح کی، کہ مدینے کی مدافعت میں آپؐساتھ شریک نہ ہوئے۔حالانکہ وہ اس کے پابند تھے۔ پھر جب معرکہ اُحد میں مسلمانوں کو نقصانِ عظیم پہنچا تو ان کی جراٗتیں اور بڑھ گئیں، جہاں تک کہ بنی نضیر نے رسولؐاللہ کو قتل کے لیے باقاعدہ ایک سازش کی، جو عین وقت پر ناکام بن دی گئی۔ اس واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ برمعونہ کے سانحے صفر ۴ھ کے بعد عمرو بن عاص بن امیہ ضمری نے انتقامی کاروائی کے طور پر غلطی سے بنی عامر کے دو آدمیوں کو قتل کردیا، جو در اصل ایک معاہد قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، مگر عمرو نے ان کو دشمن قبیلے کے آدمی سمجھ لیا تھا۔ اس غلطی کی وجہ سے ان کا خون مسلمانوں واجب آ گیا تھا۔، اور چونکہ بنی عامر کے ساتھ معاہدے میں بنی نضیر بھی شریک تھے، اس لیے رسولؐاللہ چند صحابہؓ کے ساتھ خود ان کی بستی میں تشریف لے گئے، تاکہ خون بہا کی ادائیگی میں ان کو بھی شرکت کی دعوت دیں۔ وہاں انھوں نے آپؐ کو چکنی چپڑی باتوں میں لگایا اور اندر ہی اندرہ سازش کی، کہ ایک شخص اس مکان کی چھت پر سے آپؐ کے اوپر ایک بھاری پتھر گرا دے، جس کی دیوار کے سایے میں آپؐ تشریف فرما تھے۔ مگر قبل اس کے کہ وہ اپنی اس تدبیر ر عمل کرتے، اللہ تعالیٰ نے آپؐکو بر وقت خبردارکر دیا، اور آپؐ فوراً وہاں سے اُٹھ کر مدینہ واپس تشریف لے آئے۔اب یہودیوں کے ساتھ کسی بھی رعایت کا سوال باقی نہ رہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا تاخیر یہ الٹی میٹم بھیجا کہ تم نے جو غداری کرنی چاہی تھی، وہ میرے علم میں آگئی ہے۔ لہٰذا دس دن کے اندرمدینے سے نکل جاؤ۔اس کے بعد اگر تم یہاں ٹھیرے رہے تو جو شخص بھی تمھاری بستی پایا جائے گا، اس کی گردن مار دی جائے گی۔ دوسری طرف عبداللہ بن ابی نے ان کو پیغام بھیجا کہ دو ہزار آدمیوں سے تمھاری مدد کروں گا، اور بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمھاری مدد کو آئین گے، تم ڈٹ جائے اور ہر گز اپنی جگہ نہ چھوڑو۔اس پر انھوں نے رسولؐاللہ کو جواب دیا ہم نہیں نکلیں گے، آپؐ سے جو ہو سکے کر لیجیے۔ اس پر ربیع الاول ۴ھ میں رسولؐ اللہ نے ان کا محاصرہ کر لیا، اور صرف چند روز کے محاصرے کے بعد وہ اس شرط پر مدینہ چھوڑ دینے کے لیے راضی ہو گئے کہ اسلحے کے سوا جو کچھ بھی وہ اپنے ساتھ اُونٹوں پر لاد کر لے جا سکیں گے، لے جائیں گے۔ پھر یہ شام اور خیبر کی طرف چلے گئے۔اس طرح یہودیوں کے اس دوسرے شریر قبیلے سے مدینے کی سر زمیں خالی کرالی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں