۔،۔ چودہ 14 سال سے کم عمر بچیوں کو اسباق اور ریسس(چھٹی) کے دوران نقاب(حجاب) پہننے کی اجازت نہیں ہو گی۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ چودہ 14 سال سے کم عمر بچیوں کو اسباق اور ریسس(چھٹی) کے دوران نقاب(حجاب) پہننے کی اجازت نہیں ہو گی۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ چودہ 14 سال سے کم عمر بچیوں کو اسباق اور ریسس(چھٹی) کے دوران نقاب(حجاب) پہننے کی اجازت نہیں ہو گی۔ نذر حسین۔،۔

٭آسٹریا نے آج نیا قانون پاس کر دیا ہے جس کی بنا پر چودہ 14 سال سے کم عمر بچیوں کو اسباق اور ریسس(چھٹی) کے دوران نقاب(حجاب) پہننے کی اجازت نہیں ہو گی، حالانکہ پابندی اسکول کے میدان (چار دیواری) سے باہر احاطہ نہیں کرے گی، پابندی کی بار بار خلاف ورزی کرنے والے بچوں کے والدین کو (چیڑھ سو سے آٹھ سو یورو یا تقریباََ ایک سو پچہتر سے نُو سو چالیس ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا٭

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریا میں چودہ 14 سال سے کم عمر بچیوں کو اسباق اور ریسس(چھٹی) کے دوران نقاب پہننے کی اجازت نہیں ہو گی،آسٹریا نے آج نیا قانون پاس کر دیا ہے جس کی بنا پر چودہ 14 سال سے کم عمر بچیوں کو اسباق اور ریسس(چھٹی) کے دوران نقاب پہننے کی اجازت نہیں ہو گی، حالانکہ پابندی اسکول کے میدان (چار دیواری) سے باہر احاطہ نہیں کرے گی، پابندی کی بار بار خلاف ورزی کرنے والے بچوں کے والدین کو (چیڑھ سو سے آٹھ سو یورو یا تقریباََ ایک سو پچہتر سے نُو سو چالیس ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔تفن سفاسی مرکزی جماعتوں (ایس پی او SPÖ۔او وی پی ÖVP اور نیوز Neos) کے قدامت پسند قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ قانون ٭صنفی مساوات کے لئے واضح عزم٭ ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں مسلم مخالف جذبات کو ہوا ملے گی اور یہ غیر آئینی ہو سکتا ہے، اس اقدام کا اطلاق سرکاری اور نجی اسکولوں میں لڑکیوں پر ہو گا۔ واضح رہے 2020 میں دس سال سے کم عمر لڑکیوں کے لئے اسی طرح کی حجاب پر پابندی کو آئینی عدالت نے ختم کر دیا تھا کیونکہ اس نے خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ حکومتی ارکان کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے بارے میں ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ انہیں ٭ظلم و زبردستی٭ سے بچانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں