۔،۔ زنذہ قومیں اپنے تہوار کبھی نہیں بھولتیں، ڈیٹزن باخ جرمنی میں بچوں اور ماوُں کے ہمراہ جشن آزادی کی پروقار تقریب۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ زنذہ قومیں اپنے تہوار کبھی نہیں بھولتیں، ڈیٹزن باخ جرمنی میں بچوں اور ماوُں کے ہمراہ جشن آزادی کی پروقار تقریب۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

-،-زندہ قومیں اپنے تہوار کبھی نہیں بھولتیں ڈیزن باخ جرمنی میں بچوں اور ماؤں کے ہمراہ جشنِ آزادی کی پروقار تقریب- نذر حسین-،-

زندہ قومیں اپنے قومی تہوار کبھی نہیں بھولتیں۔ اگست کا مہینہ آتے ہی دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی اپنے وطنِ عزیز پاکستان کا جشنِ آزادی جوش و خروش اور ملی جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔ اگست کا مہینہ اختتام کی جانب گامزن ہے، لیکن زندہ دلانِ پاکستان آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں کہیں نہ کہیں جشنِ آزادی کی تقریبات منعقد کرتے نظر آتے ہیں۔*

شانِ پاکستان جرمنی، فرینکفرٹ/ڈیزن باخ —زندہ قومیں اپنے قومی تہوار کبھی نہیں بھولتیں۔ اگست کا مہینہ آتے ہی دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی اپنے وطنِ عزیز پاکستان کا جشنِ آزادی جوش و خروش اور ملی جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔ اگست کا مہینہ اختتام کی جانب گامزن ہے، لیکن زندہ دلانِ پاکستان آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں کہیں نہ کہیں جشنِ آزادی کی تقریبات منعقد کرتے نظر آتے ہیں۔اسی سلسلے میں جرمنی کے شہر ڈیزن باخ میں مرینہ حسین نے بچوں اور ماؤں کے ہمراہ جشنِ آزادی کی ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا، جس میں پرچم کشائی، کیک کاٹنے، ملی نغموں اور بچوں میں تحائف کی تقسیم سمیت مختلف پروگرام پیش کیے گئے۔ تقریب میں قونصلیٹ آف پاکستان کی جانب سے ممتاز سیال نے خصوصی شرکت کی۔مرینہ حسین اگرچہ جرمنی میں پیدا ہوئیں، لیکن ان کا دل پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے۔ انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں اور محنت سے دو شہروں، نیو ایزن برگ اور ڈیزن باخ کی انتظامیہ کے تعاون سے میونسپل کمیٹی کے دفاتر کے تحت اپنی جگہ بنائی، دفتر اور کلاس رومز کا انتظام کیا اور اوورسیز پاکستانی خاندانوں کے تعاون سے بچوں کے لیے اردو اور اسلامیات کی کلاسز کا آغاز کیا۔آج ماشاءاللہ بڑی تعداد میں بچے مرینہ حسین سے اردو اور اسلامیات کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مرینہ حسین الکرم گروپ کے پلیٹ فارم سے بلا معاوضہ اردو اور اسلامیات پڑھاتی ہیں۔ یومِ پاکستان اور جشنِ آزادی کے مواقع پر وہ بچوں کو پاکستان کی تاریخ، تحریکِ پاکستان، قیامِ پاکستان کے اسباب اور بانیانِ پاکستان کی جدوجہد کے بارے میں بھی آگاہ کرتی ہیں۔ وہ بچوں کو بتاتی ہیں کہ پاکستان کن حالات اور واقعات کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا، علامہ اقبال نے الگ وطن کا خواب کیسے پیش کیا اور قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر رہنماؤں نے اس خواب کو عملی تعبیر کیسے دی۔یہ امر قابلِ تحسین ہے کہ جرمنی میں پیدا ہونے والے ننھے پاکستانی بچے بھی پاکستان کی تاریخ اور قومی شخصیات کے بارے میں اس قدر معلومات رکھتے ہیں۔پرچم کشائی اور ملی نغموں سے تقریب کا آغاز،تقریب کا آغاز قونصلر آفیسر ممتاز سیال کی جانب سے بچوں کے ہمراہ پرچم کشائی سے ہوا۔ جیسے ہی سبز ہلالی پرچم فضا میں بلند ہوا، ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعروں سے علاقہ گونج اٹھا۔اس موقع پر بچوں نے تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ سفید اور سبز لباس میں ملبوس بچوں نے خوبصورت ٹیبلو پیش کیا، جس میں وطنِ عزیز سے محبت اور پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔بچوں کی شاندار پرفارمنس نے حاضرین کے دل جیت لیے۔ ایک بچی نے پیانو پر قومی نغمہ پیش کیا، جبکہ جرمن نغمہ بھی پیش کیا گیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔بچوں کی تقاریر نے حاضرین کو متاثر کر دیاتقریب کے دوران بچوں نے پاکستان کی تاریخ اور قومی رہنماؤں کے حوالے سے تقاریر بھی کیں۔محمد ارسل سلطان نے علامہ محمد اقبال کی شخصیت اور خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اپنی بہترین تقریر پر پہلا انعام حاصل کیا۔سانیہ سلطان نے پاکستان کے موضوع پر جامع گفتگو کی اور دوسرا انعام حاصل کیا، جبکہ حسن نیئر نے قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی اور جدوجہد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور تیسرا انعام حاصل کیا۔بچوں نے اجتماعی طور پر سوال و جواب کا پروگرام بھی پیش کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ 14 اگست کیوں منایا جاتا ہے، قیامِ پاکستان سے پہلے برصغیر کے حالات کیا تھے، علامہ اقبال نے الگ وطن کا خواب کیسے دیکھا اور قائداعظم محمد علی جناح نے اس خواب کو عملی شکل دینے کے لیے کس طرح جدوجہد کی۔مرینہ حسین نے بھی بچوں سے پاکستان کے حوالے سے مختلف سوالات کیے، جن کے ننھے طلبہ نے انتہائی اعتماد اور خوبصورتی سے جوابات دیے، جس پر حاضرین نے انہیں بھرپور داد دیایک ننھی بچی نے اردو
قاعدہ سنا کر حاضرین سے خوب داد حاصل کی اور اپنی بہترین کارکردگی پر چھوٹی سی ٹرافی بھی حاصل کی۔بچوں میں انعامات کی تقسیم تقریب کے دوراچوہدری احسان الٰہی کی جانب سے بچوں میں بڑی تعداد میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس کے علاوہ قرعہ اندازی کے ذریعے بھی بچوں کو مختلف انعامات دیے گئے، جس سے تقریب کی خوشیوں میں مزید اضافہ ہوا۔جشنِ آزادی کے ٹیبلو میں درج ذیل بچوں نے حصہ لیا: عبدالمقیت سید، مہرما سید، ایمان بنتِ عدیل، موسیٰ تنویر،محمد ذکریا تنویر،فاطمہ نیئر،حبیب اللہ نیئر،محمد عمر شاہد، محمد آیان چوہدری، محمد روحان چوہدری،جسرا رحمان، یشفا رحمان، محمد صلاح الدین، ہاشم چوہدری،محمد حسن نیئر، ضایات جان،ہانیہ، اویس،ماہین عامر،حورین عامر،سبحان عامراور فروا فاطمہ شاہ-تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جرمنی میں رہتے ہوئے اپنی نئی نسل کو پاکستان کی تاریخ، ثقافت، زبان اور قومی اقدار سے جوڑنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔یہ تقریب اس بات کا خوبصورت ثبوت ہے کہ پاکستان سے محبت سرحدوں کی محتاج نہیں۔ وطن سے دور رہنے والے پاکستانی بھی اپنے دلوں میں پاکستان کو زندہ رکھتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں تک اس محبت اور قومی شعور کو منتقل کر رہے ہیں-تقریب کے اختتام پر مہمانوں اور بچوں کی لذیز پاکستانی طرح طرح کے کھانوں سے تواضع کی گئی جو کہ مائیں اپنے ساتھ بنا کر لائی تھیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں