۔،۔ اصولوں کو معطل اور یکجہتی منانے کا نام ہے(فاشنگ۔ کارنیوال)کارنیول سردیوں کو الوداع  کا کام بھی کرتا ہے۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ اصولوں کو معطل اور یکجہتی منانے کا نام ہے(فاشنگ۔ کارنیوال)کارنیول سردیوں کو الوداع کا کام بھی کرتا ہے۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ اصولوں کو معطل اور یکجہتی منانے کا نام ہے(فاشنگ۔ کارنیوال)کارنیول سردیوں کو الوداع کا کام بھی کرتا ہے۔ نذر حسین۔،۔

٭کارنیوال۔ فاشنگ سیزن کی خاص بات کی نشاندہی کرتا ہے ٭روایت کو برقرار رکھنے ٭اختیار کا مذاق اُڑانے اور اونچی میوزک۔موسیقی اور شوخ ماحول کے ساتھ سردیوں کو الوداع کرنے کو۔کارنیوال اور فاشنگ کہتے ہیں ٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/یورپ۔٭کارنیوال۔فاشنگ کے تہوار کی ابتداء پانچ ہزار 5000سال قبل (میسو پوٹامین) سے شروع ہوئی تھی، تب بھی تہواروں کے دوران مساوات کا تصور موجود تھا، محنت کش اور حکمران مختصر وقت کے لئے برابرب کب بنیاد پر ہو جاتے،یہ اصول آج تک کارنیوال کا لازمن جزہے، جو آج بھی اعلی طبقے کا مذاق اڑانے کے لئے استعمال ہوتا ہے،شراب کھل کر پی جاتی ہے مرد و خواتین دونوں کا یہی حال ہوتا ہے۔ جرمنی کے شہر کولون میں خصوصی طور پر سیاح بڑی تعداد میں کانیوال دیکھنے اور انجوائے کرنے آتے ہیں۔۔ کارنیوال۔ فاشنگ سیزن کی خاص بات کی نشاندہی کرتا ہے ٭روایت کو برقرار رکھنے ٭اختیار کا مذاق اُڑانے اور اونچی میوزک۔موسیقی اور شوخ ماحول کے ساتھ سردیوں کو الوداع کرنے کو۔کارنیوال اور فاشنگ کہتے ہیں، اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے نہ صرف جرمنی،یورپ جبکہ پوری دنیا کے سیاسی رہنماوُں،مذہبی رہنماوں اور اداکاروں پر کیچڑ اچالا جاتا ہے، جس کی ڈیبیٹ باقاعدہ طور پر ٹی وی چینلز پر چلائی جاتی ہے ، آج فرینکفرٹ اور ارد گرد کے تمام علاقوں سے لوگ اپنے اپنے ایسوسی ایشن۔ فروری کے درمیان میں آنے والے اتوار کو فرینکفرٹ میں اکٹھے ہوتے ہیں، ہر طرف آپ کو رنگ برنگے لباس پہنے بچے،بچیاں، مرد و خواتین جس میں عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی آپ کو چھوٹی سے چھوٹی عمر کی بچیاں بھی کارنیوال مناتی نظر آئیں گیں جبکہ بوڑھے مر و خواتین بھی عکر صدی سے بھی اوپر مگر کارنیوال میں ضرور آتے ہیں۔ کارنیوال 11 نومبر کو صبح 11:11 بجے شروع ہوتا ہے، خواتین کا اس تہوار سے کیا لینا دینا ہے جبکہ خواتین کا کارنیوال خصوصی طور پر روزن مونٹاگ Rosentag منایا جاتا ہے جس دن وہ آفسز میں جا کر مردوں کی ٹائیاں کاٹ دیتی ہیں اور اپنی من مانی بھی کرتی ہیں۔ (آشر مٹووخ۔ بدھ) کے روز سے توبہ کا موسم، پرہیزگاری اور توبہ کا وقت شروع ہو جاتا ہے جس میں مسیحی برادری روزے رکھتی ہے اور وہ بھی چالیس دن تا جمعہ کے دن گوشت سے پرہیز کرتے ہیں، اکثر لوگ شراب، مٹھائی، چاکلیٹ جبکہ کئی للذتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ ٭فرینکفرٹ میں تقریباََ ایک سو اسی 180 ایسوسی ایشن نے حصّہ لیا، جو تماشائیوں پر ٹافیاں ہ پوپ کورن، مٹھائیاں اور دوسری چیزیں پھینکتے ہیں جو اکٹھی کرنے کے لئے تماشائی اکٹھے ہوتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے ٹافیاں اکٹھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں