
ڈنمارک کے بلدیاتی و علاقائی انتخابات 2025 — کوپن ہیگن میں ایک صدی بعد بڑی سیاسی تبدیلی-تجزیہ نگار: واجد قریشیؔ-
ڈنمارک کے 18 نومبر 2025 کے بلدیاتی اور علاقائی انتخابات محض ایک معمول کا جمہوری عمل نہیں تھے، بلکہ انہوں نے ملکی سیاست کے دھارے کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ خاص طور پر کوپن ہیگن میں سامنے آنے والے نتائج ایک ایسے سیاسی دور کے خاتمے کا اعلان ہیں جس نے تقریباً ایک صدی تک شہر کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھی تھی۔ سوشل ڈیموکریٹس، جو دارالحکومت کی روایتی اور طویل مدتی حکمران جماعت سمجھے جاتے تھے، اس بار تاریخی اور غیر معمولی شکست سے دوچار ہوئے۔ تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وہ صرف 12.7 فیصد ووٹ اور 8 نشستوں تک محدود رہ گئے۔ ایک ایسی کارکردگی جو نہ صرف ان کی سابقہ برتری کے برعکس ہے بلکہ کئی عشروں میں ان کا سب سے کمزور انتخابی نتیجہ بھی تصور کی جا رہی ہے۔اس کے برعکس، بائیں بازو کی جماعت Enhedslisten (ریڈ–گرین الائنس) نے 22 فیصد ووٹ اور 13 نشستیں حاصل کرکے کوپن ہیگن کی سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی۔ اسی کے ساتھ Green Left (SF) نے بھی غیر معمولی پیش رفت دکھائی اور 17.9 فیصد ووٹ لے کر 10 نشستیں جیتتے ہوئے شہر کی دوسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔ اس انتخابی برتری نے SF کی رہنما Sisse Marie Welling کو کوپن ہیگن کی نئی اووربورگمیسٹر (Overborgmester) منتخب ہونے کا راستہ فراہم کیا—جو نہ صرف ایک صدی پر محیط سیاسی روایت کے ٹوٹنے کا واقعہ ہے بلکہ دارالحکومت میں بائیں بازو کی قوتوں کے تاریخی طور پر مضبوط ابھار کی علامت بھی ہے۔ یہ نتیجہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ شہری ووٹر اب روایتی جماعتوں سے ہٹ کر ماحولیات، سماجی مساوات اور سستی رہائش جیسے عملی مسائل کو ترجیح دینے والی جماعتوں کی طرف جھک رہے ہیں، اور یہ تبدیلی کوپن ہیگن کی سیاسی سمت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔قومی سطح پر بھی سوشل ڈیموکریٹس کو نمایاں نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان کا ووٹ شیئر سکڑ کر 23.2 فیصد تک آ گیا ہے۔ تجزیہ کار اسے واضح طور پر ایک“احتجاجی ووٹ”قرار دے رہے ہیں، جس کی بنیاد بڑھتی ہوئی مہنگائی، جاری رہائشی بحران، فلاحی نظام کی کمزوریاں اور حکومت کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں پر عوامی ناراضی میں پیوست ہے۔ خاص طور پر شہری آبادی اور نوجوان ووٹر ان پالیسیوں سے نالاں دکھائی دیے اور انہوں نے روایتی حمایت سے ہٹ کر اپنی ترجیحات اُن جماعتوں کی جانب منتقل کر دیں جو ماحولیات، سماجی انصاف اور سستی رہائش جیسے ٹھوس مسائل کو اپنی سیاسی مہم کا مرکز بنائے ہوئے تھیں۔علاقائی سطح پر بھی سیاسی توازن میں نمایاں تبدیلی محسوس کی گئی ہے۔ نئے قائم شدہ مشرقی ریجن (Region Øst) میں اگرچہ سوشل ڈیموکریٹس 20.4 فیصد ووٹ لے کر سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے، لیکن SF اور Enhedslisten کی نمایاں کارکردگی اس بات کا اشارہ ہے کہ علاقائی سیاست اب روایتی یکجہتی کے بجائے زیادہ متنوع اور شریک قوتوں پر مشتمل فیصلہ سازی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ رجحان بتاتا ہے کہ مستقبل کی علاقائی حکومتیں ممکنہ طور پر وسیع تر اتحادوں اور مشترکہ سیاسی ایجنڈوں پر قائم ہوں گی۔پاکستانی نژاد امیدواروں کی شمولیت اس بار بھی قابلِ توجہ رہی۔ کوپن ہیگن سمیت متعدد ڈینش کمیونز میں پاکستانی پس منظر رکھنے والے امیدوار میدان میں اترے، جن میں سید اعجاز حیدر بخاری، سکندر صدیق، عرفان گیلانی، یاسر اقبال اور بلال ظہور جیسے نمایاں نام شامل تھے۔ اگرچہ حتمی نتائج کے مطابق کوئی پاکستانی نژاد امیدوار کسی بڑے شہری منصب یا میئر کی کرسی تک نہیں پہنچ سکا، تاہم مختلف کمیونز میں متعدد پاکستانی امیدوار کونسل کی سطح پر کامیاب ہوئے، جو ڈینش مقامی سیاست میں پاکستانی برادری کی بڑھتی ہوئی نمائندگی اور اثر پذیری کا واضح ثبوت ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ انتخابات ڈنمارک کی سیاست میں ایک نئے عہد کے آغاز کی علامت ہیں۔ ووٹرز نے واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ وہ روایتی سیاسی دھاروں سے ہٹ کر ان جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں جو عملی سماجی مسائل—خاص طور پر ماحولیات، رہائش، مہنگائی اور سماجی مساوات—کو ترجیح دیتی ہیں۔ کوپن ہیگن میں سامنے آنے والی یہ تبدیلی محض علامتی نہیں بلکہ ملکی سیاسی منظرنامے کی سمت متعین کرنے والی ہے، اور آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ کرے گی کہ ڈنمارک کی مقامی اور قومی پالیسیز کس رخ میں آگے بڑھیں گی۔ یہ انتخابات واضح طور پر یہ بتاتے ہیں کہ شہری ووٹرز اب صرف پارٹی نام یا روایتی حیثیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی مسائل اور عملی حل پیش کرنے والی قیادت کی بنیاد پر فیصلہ کر رہے ہیں۔