“سر جو زمانے نے نہ جھکایا، عشق نے جھکا دیا” واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,- 0

“سر جو زمانے نے نہ جھکایا، عشق نے جھکا دیا” واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,-

0Shares

“سر جو زمانے نے نہ جھکایا، عشق نے جھکا دیا” واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,-

 

مدینہ منورہ کی خاموش اور معطر فضا میں کبھی کبھی کوئی ایسا لمحہ نازل ہوتا ہے جو وقت کی رفتار کو تھام لیتا ہے۔ یہ کوئی معمولی ساعت نہیں ہوتی، یہ وہ گھڑی ہوتی ہے جب دل کو الفاظ کی حاجت نہیں رہتی، جب خاموشی خود کلام بن جاتی ہے اور آنکھیں اجازت کے بغیر اشکوں کا ہدیہ پیش کر دیتی ہیں۔ آقائے دو جہاں ﷺ کے روضۂ اقدس کی جالیوں کے سامنے جھکا ہوا وہ سراپا محض ایک منظر نہیں، ایک تصویر نہیں، بلکہ عشق کی ایک زندہ شہادت ہے۔ یہ اس وفا کی گواہی ہے جو خود کو مٹا کر محبوب میں گم ہو جائے، اس بندگی کی دلیل ہے جو لفظوں سے آزاد ہو کر براہِ راست دل سے درِ مصطفیٰ ﷺ پر جا لگتی ہے۔ یہاں نہ زبان بولتی ہے، نہ عقل فیصلہ کرتی ہے، یہاں صرف روح بولتی ہے… اور روح سجدے میں ہوتی ہے۔ہم نے اس مردِ قلندر کو ہمیشہ قامتِ استقامت کے ساتھ دیکھا ہے۔ زمانے کے فرعونوں کے روبرو، اقتدار کے بلند و بالا ایوانوں میں، جاہ و جلال کے خمار میں ڈوبی ہوئی طاقتوں کے سامنے، اس درویش کو کبھی خمیدہ نہیں پایا۔ نہ تخت کی چمک اسے جھکا سکی، نہ تاج کی ہیبت، نہ قوت و اختیار کا غرور، اور نہ ہی کسی دنیاوی حکمران کی آنکھوں میں وہ رعب تھا جو اس سر کو جھکا دیتا۔ یہ وہ شیرِ حق ہے جس نے صرف حق کے حضور سر رکھنا سیکھا ہے، جس کی گردن نے صرف رب کے حکم کو مانا ہے، اور جس کی پیشانی نے ہمیشہ باطل کے سامنے انکار اور سچ کے سامنے سجدہ لکھا ہے۔مگر آج وہ جھکے ہیں… اور یہ جھکنا نہ کسی دباؤ کا ثمر ہے، نہ کسی کمزوری کی علامت۔ یہ عشق کا جھکنا ہے، وہ جھکنا جو انسان کی ہستی کو پگھلا کر محبوب میں فنا کر دیتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں انا بکھر جاتی ہے، نام و مقام مٹ جاتے ہیں اور صرف بندگی باقی رہ جاتی ہے۔ یہ وہ در ہے جہاں جھک کر ہی پہچان ملتی ہے، جہاں سر رکھنے سے ہی اصل قد کا تعین ہوتا ہے۔ یہ وہ آستانہ ہے جہاں دنیا بھر کے بادشاہ اپنی بادشاہتیں دہلیز پر چھوڑ آتے ہیں، جہاں تاج قدموں میں رکھ دیے جاتے ہیں، اور جہاں سب نسبتیں ٹوٹ کر ایک ہی نسبت میں سمٹ جاتی ہیں… غلامیِ مصطفیٰ ﷺ، اُمتی ہونے کی نسبت۔یہ وہ مقامِ ادب ہے جہاں صرف انسان ہی نہیں جھکتے، جہاں نورانی فرشتے بھی خاموش تعظیم میں ٹھہر جاتے ہیں، جہاں انبیائے کرام علیہم السلام کی پاکیزہ روحیں سلام و درود کا نذرانہ پیش کرتی ہیں، اور جہاں جبرئیلِ امینؑ بھی اپنی حد پر رک کر عاجزی کا سبق دیتے ہیں۔ اس در پر جھکنا دراصل ربِ کائنات کی بارگاہ میں قبولیت کی سند پا لینا ہے، کیونکہ یہ جھکنا محبوب ﷺ کی نسبت سے رب تک جا پہنچتا ہے۔ یہاں جھکنے والا کبھی پست نہیں ہوتا، یہاں تو سر رکھنے والا بلندی پا لیتا ہے، یہاں جھکنا ہی اصل وقار ہے اور یہی جھکنا ہمیشہ کی سربلندی بن جاتا ہے۔آج اگر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری جھکے ہیں تو یہ جھکنا ہمیں بتا گیا ہے کہ اصل عظمت کہاں بسی ہے۔ یہ اعلان ہے کہ وقار نہ تختوں میں ہے، نہ ایوانوں کی گونج میں، نہ نعروں کی گرج میں؛ اصل طاقت تو اس خاموش غلامی میں ہے جو محمد ﷺ کے در پر نصیب ہو جائے۔ یہ جھکا ہوا سر ہم سب کے لیے ایک بے آواز درس ہے کہ جو ربِ کائنات کے حضور کبھی نہیں جھکتا، اسے مصطفیٰ ﷺ کے سامنے ٹوٹ کر جھکنے کی توفیق مل ہی نہیں سکتی۔ اور جسے یہ توفیق مل جائے، وہی دراصل زمانے کی سب سے بڑی بلندی پا لیتا ہے۔یہ منظر آنکھوں کے لیے نہیں، دلوں کے نصیب میں لکھا گیا ہے۔ یہ کوئی ایسی تصویر نہیں جسے صرف دیکھا جائے، یہ وہ کیفیت ہے جو دل میں اترتی ہے، روح کو چھو لیتی ہے اور انسان کو اندر سے بدل دیتی ہے۔ اسے دیکھ کر آنکھیں نہیں، دل رو پڑتا ہے؛ روح کانپ اٹھتی ہے اور وجود کے کسی گہرے گوشے سے ایک بے ساختہ صدا بلند ہوتی ہے۔یا رسول اللہ ﷺ!آپ کے درِ اقدس پر آج صرف ایک سر نہیں جھکا، ہم سب کی آرزوئیں جھک گئیں۔ وہ خواہشیں جو ہمیں بھٹکاتی رہیں، وہ تمنائیں جو ہمیں خود میں الجھائے رکھتی تھیں، سب اس آستانے پر آ کر خاموش ہو گئیں۔ ہمارے دلوں میں پلنے والا غرور، ہماری چھپی ہوئی انا، سب ٹوٹ کر بکھر گئے اور ہمیں پہلی بار اپنی حقیقت کا سامنا نصیب ہوا۔اسی لمحے ہمیں یہ ادراک عطا ہوا کہ زندگی کا مفہوم کہیں اور نہیں، عزت و بقا کا راستہ کسی اور سمت نہیں۔ اگر کہیں جینا ہے تو اسی در پر خود کو مٹا کر جینا ہے، اور اگر کہیں مرنا ہے تو اسی نسبت پر مر کر وہ زندگی پا لینی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یہاں مرنا بھی حیات بن جاتا ہے اور جھکنا ہی اصل سربلندی ٹھہر جاتا ہے۔ماشااللہ… سبحان اللہ-
یہ جھکنا ہمیں رُلا بھی گیا، ہمیں توڑ بھی گیا، اور پھر ہمیں ہماری اصل پہچان بھی عطا کر گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں