۔،۔ جرمنی کے صوبہ ہیسن میں ویلفیئر فراڈ کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ جرمنی کے صوبہ ہیسن میں ویلفیئر فراڈ کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ جرمنی کے صوبہ ہیسن میں ویلفیئر فراڈ کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن۔ نذر حسین۔،۔

٭گذشتہ ہفتے ہیسن کی پولیس نے گرفتاری کے وارنٹ اور متعدد سرچ وارنٹس پر عملدرآمد کرتے ہوئے ویلفیئر فراڈ کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا، تینتیس 33 اپارٹمنٹس کی تلاشی لی گئی جبکہ،ریستوراں، جوا خانے، نیل سیلون، وغیرہ وغیرہ اس آپریشن میں 560 پولیس افسران شامل تھے٭

شان پاکستا جرمنی فرینکفرٹ/صوبہ ہیسن۔ وزیر داخلہ رومن پوسیک نے آپریشنل اقدامات کے بارے میں جاننے کے لئے اسٹیٹ کریمنل آفس میں کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا، دورے کے بعد وزیر داخلہ نے ویسبادن کے شہر کے وسط میں پولیس آپریشن میں حصّہ لیا، ان کا کہنا تھا کہ کارکردگی، منصفانہ اور قابل بھروسہ ریاست پر شہریوں کا اعتماد سماج یکجہتی کے تحفظ اور اس حقیقت پر بھی منحصر ہے کہ ریاست کے فوائد ضرورت مندوں تک پہنچنے چاہیئیں، سماجی فوائد کا غلط استعمال ہماری فلاحی ریاست پر اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے اور بنیادی طور پر ہر کسی کو نقصان پہنچاتا ہے، خصوصی طور پر وہ لوگ جو حقیقی طور پر امداد پر انحصار رکھتے ہیں۔ واضح رہے دو سال قبل سماجی بہبود کے فراڈ کے کل 624 مقدمات درج کئے گئے تھے یہ بھی وہ لوگ ہیں جو پولیس کی نگاہ میں آجاتے ہیں، گذشتہ ہفتے ہیسن کی پولیس نے گرفتاری کے وارنٹ اور متعدد سرچ وارنٹس پر عملدرآمد کرتے ہوئے ویلفیئر فراڈ کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا، تینتیس 33 اپارٹمنٹس کی تلاشی لی گئی جبکہ،ریستوراں، جوا خانے، نیل سیلون، وغیرہ وغیرہ اس آپریشن میں 560 پولیس افسران شامل تھے، افسران نے 55,000 ہزار یورو کی نقدی، گھڑیاں اور زیورات سمیت دیگر اثاثے بھی ضبط کئے، تین افراد افسے بھی تھے جن کے وارانٹ جاری کئے گئے تھے انہیں بھی دھر لیا گیا، سات افراد کو عارضی طور پر حراست میں لیا گیا، دس افراد ایسے بھی تھے جن کے خلاف ویلفیئر فراڈ کے کیسز تھے شبہ میں فوجداری الزامات عائد کئے گئے۔ وزیر داخلہ نے ہیسن میں ویلفیئر فراڈ کرنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ہم مجرموں کی پگڈنڈی پر موجود ہیں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔ فلاحی جرم کوئی معمولی جرم نہیں ہے بلکہ ایک سنگین جرم ہے جو معاشرے کو خاصا نقصان پہنچاتا ہے، سماجی بہبود کے جرائم میں دھوکہ دہی سے ریاستی فوائد حاصل کرنے کی مختلف شکلیں شامل ہیں، جن میں غیر اعلانیہ (غیر قانونی) کام کے ساتھ مل کر بینیفٹ فراڈ، دوہرے فائدہ کف رسید، دستاویزات اور شناخت کی چوری، نیز تجارتی اور منظم جرائم بھی شامل ہیں۔ واضح رہے نہ صرف غیر ملکی جبکہ جرمن بھی ویلفیئر کا غلط استعمال کرتے ہیں کئی مذہبی، کاروباری اور سماجی شخصیات بھی اس فراڈ میں شامل ہیں، جو لوگ گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، کھانے پینے کا خرچہ اور تو اور چھٹیوں پر جانے کا خرچہ بھی ویلفیئر سے وصول کرتے ہیں جبکہ سائڈ بائی پر کہیں نہ کہیں غیر قانونی کام بھی کرتے ہیں اگر دیکھا جائے تو ایسے افراد سال میں لاکھوں یورو ویلفیئر سے وصول کرتے ہیں اور اپنے ملکوں میں کوٹھیاں اور جائیدادیں کھڑی کر لیتے ہیں، جبکہ وہ افراد کو قانونی طور پر کام کرتے ہیں (ہینڈ ٹو ماوُتھ) ہی رہتے ہیں اور ویلفیئر کھانے والے ان کا مذاق اُڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں