
۔،۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیووس میں تقریباََ 70 منٹ کاخطاب کیا۔نذر حسین۔،۔
٭ََ 70 منٹ کے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ٭برف کا بڑا سا ٹکڑا۔برف کا خوبصورت ٹکڑا،امریکی صدر گرین لینڈ کو امریکا کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں، اس بارے میں انہوں نے 70 منٹ کے خطاب میں کوئی شک نہیں چھوڑا ٭٭امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کو تجسس کے تنے ہوئے رسے پر چلنے پر مجبور کر رہا ہے٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/سوئٹزرلینڈ/ڈیووس۔ سوئٹزرلینڈڈیووس میں آج عالمی اقتصادی فورم کی میٹنگ کا افتتاح ہوا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے70 منٹ کے خطاب کیا دیکھا ٭برف کا بڑا سا ٹکڑا۔برف کا خوبصورت ٹکڑا،امریکی صدر گرین لینڈ کو امریکا کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں، اس بارے میں انہوں نے 70 منٹ کے خطاب میں کوئی شک نہیں چھوڑا، گرین لینڈ کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی زبان پر ایک ہی جملہ لڑکھڑا رہا تھا۔ ٭برف کا بڑا ٹکڑا،خوبصورت ٹکڑا۔نب ہی امریکا، تب ہی دنیا محفوظ رہ سکتی ہے یورپ کو صاف لفظوں میں دھمکیاں اور دباوُ جبکہ نئے ٹیرف کی دھمکی بھی موجود تھی۔ ستر منٹ کے خطاب میں وہ ایک موضوع سے دوسرے پر چھلانگیں لگاتے رہے، وہ اپنے مانوس انداز میں یورپ ممالک اور یورپی یونین کو نیچا دکھانے کی پوری کوشش کر رہے تھے، دوسری طرف ان کا کہنا تھا کہ میں یورپ سے محبت رکھتا ہوں مگر،اگر مجھے برف کا ٹکڑا،خوبصورت ٹکڑا نہ ملا تو وہ گرین لینڈ میں اپنی فوجیں بھی اتار سکتا ہے اور طاقت کے ذریعے دنیا کے سب سے بڑے جزیرے پرقبضہ کر سکتے ہیں،پھر انہوں نے ایک اور منتر پڑھا کہ امریکا ہمیشہ سے موجود ہے، امریکا مضبوظ ہے،امریکا دنیا کا سب سے فیشن ایبل ملک ہے،خود کی تعریف کے پیچھے ریاستہائے متحدہ کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالنے کے ایک سال بعد وہ بنیادی طور پر یورپ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پھر ایک اور پلٹا کھایا، مجھے طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتا،میں طاقت کا استعمال نہیں کروں گا۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے ٹرمپ کی تقریر نہیں سنی، لیکن فوری طور پر ردعمل کا اظہار کیا٭یہ اپنے آپ میں مثبت ہے، لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، یہ بات واضح کرتا ہے کہ گرین لینڈ کو امریکا کے حوالے کرنے پا بات چیت ڈنمارک کے وزیر خخارجہ کے لئیسوال سے باہر ہے۔ واضح رہے یورپی ریاستوں، ڈنمارک نے مسلسل اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جزیرہ گرین لینڈ فروخت کے لئے نہیں ہے، امریکی دھمکی کے بارے میں نئے امریکی محصولات اس وقت تک لگائے جائیں گے جب تک کہ آرکٹک جزیرے کی فروخت کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو آپ کے پاس نہیں ہے،آپ اس کا دفاع نہیں کریں گے، انہوں نے بارہا یہ دعوی کر کے اپنے منصوبے کو درست ثابت کیا ہے کہ بصورت دیگر ٭روس یا چین اس جزیرے کو ضم کر لیں گے جبکہ اس دعوے کی تائید کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جمعرات کو جرمن چانسلر فریڈرک میرس خطاب کریں گے جو ٹرمپ کی طرح ایک ہی اسٹیج پر نظر آئیں گے،کیا وہ اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح (اسٹاپ سائن) جاری کریں گے،فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون حال ہی میں اس طرح کے اقدام کے ممکنہ نتائج کا تجربہ کر لیا ہے جس پر امریکی صدر نے فوری طور پر شیمپین اور فرانسیسی شراب پر اعلی محصولات کا خطرہ موصول ہوا۔امریکی ویزر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے یورپی ریاستوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی غُصے بھر رد عمل سے گریز کریں اور ڈیووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بیٹھ کر گرین لینڈ کے الحاق سے متعلق ان کے دلائل کو سنیں۔ یورپی ریاستیں ڈونلڈ ٹرمپ کے غُصے سے بچیں۔





