
۔،۔استنبول کچرے کے ایک کنٹینر سے سر کٹی اور ٹانگوں سے محروم خاتون کی لاش برآمد۔ نذر حسین۔،۔
٭تنظیم ٭خواتین کے قتل کے خلاف نسائیت پسند٭ نے اتوار کے روز سماجی رابطہ کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ہم تا حال قتل ہونے والی خاتون کا نام نہیں جانتے،مگر یہ ضرور جانتے ہیں کہ جرم مردانہ تشدد کا نتیجہ ہے اور عزم ظاہر کیا کہ ہم اپنے غُصے کو سڑکوں پر لے آئیں گے تا کہ مزید کوئی جان ضائع نہ ہو٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ترکی/استنبول/ششلی۔ غیر ملکی ترک خبر رساں ادارے دوغان(ڈی ایچ اے) کے مطابق خاتون کی لاش ایک چادر میں لپٹی ہوئی تھی اور ضلع ششلی میں ایک کچرے کے کنٹینر میں پھینکی گئی تھی۔ترک خبر رساں ادارے دوغان(ڈی ایچ اے) کے مطابق یہ لاش گذشتہ شب ایک شخص نے اس وقت دیکھی جب وہ (ری سائیکلنگ) کے لئے قابل استعمال اشیاء تلاش کر رہا تھا، رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی حکام نے بعد ازاں مقتولہ کی شناخت کرتے ہوئے بتایا کہ مرنے والی37 سینتیس سالہ ازبک شہری تھی۔ تاہم ابتدا میں اس کا سر اور ٹانگیں برآمد نہیں ہو سکیں،بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا تو اس میں دو افراد کو ایک سفری بیگ دوسرے کنٹینر میں پھینکتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دوسرے بیگ میں کیا تھا۔ واضح رہے ترکیہ خواتین کے قتل سے متعلق سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کرتا، جس کے باعث یہ ذمہ داری خواتین کی تنظیموں نے سنبھال رکھی ہے، جو صحافتی رپورٹس کی بنیاد پر قتل اور مشتبہ اموات کے واقعات کا ریکارڈ مرتب کرتی ہیں۔ ریک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال دو سو چرانوے خواتین مردوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں جبکہ دو سو ستانوے خواتین کی لاشیں پراسرار حالت میں برآمد ہوئیں،جیسا کہ خبر رساں ادارے (فرانس پریس) نے رپورٹ کیا۔



