
-,-یورپ و امریکہ کی نئی مسلم نسل: خوف سے خود اعتمادی تک- عارف محمود کسانہ سویڈن -,-
یورپ اور امریکہ میں اس وقت ایک عجیب تضاد بیک وقت موجود ہے۔ایک طرف تارکینِ وطن اور مسلمانوں کے خلاف خوف، نفرت اور شکوک کی سیاست زوروں پر ہے، دائیں بازو کی جماعتوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، اور بیانیہ یہ دیاجارہاہیکہ مہاجرین مغربی معاشروں کیلیے بوجھ یاخطرہ ہیں۔لیکن دوسری طرف ایک بالکل نئی حقیقت بھی جنم لے رہی ہے— ایک ایسی حقیقت جسے اب دائیں بازو والے بیانیے سے دبایا نہیں جا سکتا۔یہ حقیقت ہے مہاجر پس منظر رکھنے والی دوسری اور تیسری نسل کے نوجوانوں کی۔ یہ وہ نسل ہے جو یہاں پیدا ہوئی، انہی اسکولوں میں پڑھی، انہی گلیوں میں کھیلی، انہی ممالک کے خواب دیکھے اور انہی کے نظام میں آگے بڑھی۔ یہ نسل نہ اجنبی ہینہ باہر سے آئی ہوئی۔ یہ وہ نسل ہے جو اپنے آپ کو اسی معاشرے کا بھرپور حصہ سمجھتی ہے اور قانونی و اخلاقی طور پر ہے بھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے معذرت خواہانہ رویہ چھوڑ دیا ہے۔وہ اب اپنی مسلم شناخت، اپنے نام، اپنی ثقافت یا اپنے خاندانی پس منظر کو چھپاتے نہیں۔ وہ اب احساسِ کمتری یا خوف میں نہیں جیتے۔وہ شرمندگی یا دفاعی پوزیشن اختیار نہیں کرتیبلکہ وہ اپنی شناخت کو فخر کے ساتھ اپناتے ہیں، اور اپنے کردار سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ نہ صرف ان معاشروں کے کارآمد شہری ہیں بلکہ ان کی کامیابیوں میں نمایاں حصہ ڈال رہے ہیں۔سویڈن میں حال ہی میں ایک سروے نییہ ظاہر کیا ہے کہ ملک کے سماجی اور صحت عامہ کی شعبہ میں تارکین وطن بہت بڑی تعداد میں خدامت سرانجام دے رہے ہیں اور بعض شعبوں میں تو وہ پچاس فی صد سے بھی زیادہ ہیں۔ کسی بھی یورپی ملک کی فٹ ٹیم کو دیکھئے، تارکین وطن کے بغیر وہ نامکمل ہے۔لندن،نیویارک،سولنا‘تین علامتیں،ایک پیغام۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ دنیا کے اہم ترین شہروں میں تین مسلمان مئیر منتخب ہوئے ہیں:صادق خان‘لندن،ظہران ممدانی‘ نیویارک،ساراکوکّا سلام‘سولنا (سویڈن)۔ یہ محض سیاسی کامیابیاں نہیں؛ یہ مغربی معاشرے کی نئی تشکیل کا نوشتہ دیوار ہیں۔یہ اس سچائی کی تصدیق ہے کہ مسلم شہری اب معاشرے کے کنارے پر نہیں، بلکہ اس کے مرکز میں موجود ہیں۔یہ اس بات کا اعلان ہے کہ سائے میں رہنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔سویڈن کے شہر سولنا کی مئیر سارا کوکّا سلام نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کے والد کبھی چاہتے تھے کہ وہ اپنا مسلم نام بدل دیں تاکہ نفرت اور امتیازی سلوک سے بچ سکیں۔اس بارے میں سارا نے سویڈش اخبار میں مضمون لکھا اور کہا کہ جب نیویارک میں ایک اور جنوبی ایشیائی نژاد مسلمان سیاستدان زہران ممدانی کو شہر کامیئر منتخب کیا گیا۔ الیکشن سے کچھ دن پہلے ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ممدانی نے بتایا کہ انہیں انتخابی مہم کیدوران کیسی اسلاموفوبیا کا سامنا ہوا۔ ایک مسلمان بھائی نے بھی، خیرخواہی میں، ان کے کان میں آہستہ سے کہا:”یہ مت بتانا کہ تم مسلمان ہو!”سارہ اس ویڈیو کو دیکھ کر اپنے والد کی طرف لوٹتی ہیں۔چار سال پہلے جب وہ سولنا کی میئر کی امیدوار تھیں تو ان کے والد نے کہا:”سارہ… تم اپنے نام سے سلام ہٹا دو۔اور تم اپنے شوہر کا نام رکھ لو تاکہ تمہیں نفرت اور تعصب سے بچایا جا سکے۔سارہ کہتی ہیں کہ والد کی آواز میں پیار تھا، لیکن ساتھ ہی خوف بھی… اور یہ خوف اس بات کی تکلیف دہ یاد دہانی ہے کہ سویڈن ان پچھلے دہائیوں میں کس طرح بدل گیا ہے۔زہران ممدانی نے بھی اپنے دوست کا کہا کہ اب سائے اور خوف میں رہنے کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا۔ نیویارک سے پہلے یہ سویڈن میں ہوچکا تھا۔ ساراکی سوچ بھی درست تھی۔ آج وہی نام ان کی سیاسی و سماجی شناخت کی بنیاد بن چکا ہے۔ یہ نسل پیچھے ہٹنے کے لیے نہیں، بلکہ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے—پورے اعتماد کے ساتھ۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام اب مغرب کا ’غیر ملکی مذہب‘ نہیں رہا۔دائیں بازو والے چاہے کچھ بھی کہتے رہیں، زمینی حقیقت وہ نہیں جو وہ دکھانا چاہتے ہیں۔اسلام، عیسائیت کے بعد امریکہ اور یورپ کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔یہاں کے مسلمانوں نے محض آباد کاری نہیں کی؛ انہوں نے اس سرزمین کی خدمت کی ہے‘تعلیم میں، طب میں، ٹیکنالوجی میں، کاروبار میں، سیاست میں، فنون میں اور دفاعی اداروں میں۔وہ اجنبی نہیں رہ گئے۔ اس گلدستے کا وہ اہم اور خوش رنگ پھول ہیں جس نے مغربی سماج کو ایک نئی خوشبو، نئی وسعت اور نئی تکثیریت عطا کی ہے۔ایک بدلتی ہوئی دنیا، ایک ابھرتا ہوا بیانیہ ہیں۔آج وہ نسل، جو کبھی نفرت انگیز نعروں کے سائے میں اپنے نام چھپاتی تھی، اب دنیا کے بڑے شہروں کی قیادت کر رہی ہے۔یہ صرف فرد کی نہیں بلکہ ایک پوری کمیونٹی کی جیت ہے۔ایک سوچ کی فتح ہے۔ یہ اس بیانیے کا ٹوٹ جانا ہے کہ مسلمان یا تارکینِ وطن معاشرے کے لیے مسئلہ ہیں۔اصل مسئلہ وہ سیاست ہے جو خوف بیچتی ہے، نفرت پالتی ہے اور تقسیم پیدا کرتی ہے۔نئی نسل اس سیاست کو چیلنج کر رہی ہے۔ وہ اس زمین کو اپنا گھر سمجھتی ہے، اور گھر میں رہنے والے بچے کبھی مہمان نہیں ہوتے‘وہ وارث ہوتے ہیں۔ یہ وارث اب دستک نہیں دے رہے؛وہ دروازے کھول کر اندر داخل ہو چکے ہیں۔