
۔،۔ جرمنی کے شہر کارلسروئے کے قریب بریٹن کے اسکول میں تیرہ 13سالہ بچے نے ایک طالب علم پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ نذر حسین۔،۔
٭انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند بیانات دینے کے لئے جانے والے تیرہ سالہ بچے نے ایک طالب علم پر چاقو سے حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا، پولیس نے بھاری نفری کے ساتھ جوابی کاروائی کرتے ہوئے شتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/کارلسروئے/بریٹن۔ مقامی پولیس اور میڈیا کے مطابق یہ واقعہ کارلسروئے کے قریب بریٹن کے اسکول میں پیش آیا، اطلاعات کے مطابق صبح آٹھ 08:00 بجے کے فوراََ بعد خطرے ے پیش نظر پولیس کو تعینات کیا گیا، خطرہ پیسٹالوزی اسکول سے متعلق ہے، جو ایک خصوصی تعلیم اور مشاورتی مرکز ہے، رپورٹ کے مطابق مشتبہ اور متاثرہ طالب علم اسی اسکول میں پڑھتے تھے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ کریمنل پولیس آفس کا کہنا ہے کہ تیرہ سالہ بچہ (نوجوان) چند ہفتے قبل ٭انٹرنیٹ پر نمایاں بیانات کے سلسلہ میں ٭ جانا جاتا تھا، جن میں سے کچھ میں دائیں بازو کے انتہا پسند مواد شامل تھا، ریاستی فوجداری پولیس آفس کے ریاستی سیکورٹی اور انسداد دہیت گردی کے مرکز میں انتہا پسندی کے خلاف قابلیت مرکز اس لئے شامل ہے، اس نے لڑکے کے خاندان کے ساتھ ساتھ مقامی یہتھ ویلفیئر آفس سے رابطہ قائم کیا ہے۔ واضح رہے جرمن میں چودہ سال سے کم عمر بچے مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرائے جاتے، اس کے مطابق کوئی تحقیقات نہیں کی جا رہی ہے۔ انتہا پسندی کے ماہرین اور یوتھ ویلفیئر آفس کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود ہمارا مقصد جرم کے پس منظر کو واضح کرنا اور لڑکے اور اس کے خاندان کو ضروری مدد فراہم کرنے میں مہ دار یوتھ ویلفیئر آفس کی مدد کرنا ہے۔حکام کے مطابق پولیس نے حملہ کے تقریباََ دو گھنٹوں بعد شہر کے باہر سے مشتبہ شخص کو گرفتار کیا تھا، ابتدائی رپورٹ کے مطابق متاثرہ نوجوان کو معمولی چوٹیں آئی تھیں۔


