-,-“کبھی سوچا ہے… کون دیکھے گا سب کے جنازے”-تحریر: واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,- 0

-,-“کبھی سوچا ہے… کون دیکھے گا سب کے جنازے”-تحریر: واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,-

0Shares

-,-“کبھی سوچا ہے… کون دیکھے گا سب کے جنازے”-تحریر: واجد قریشیؔ (ڈنمارک)-,-

رمضان کی شامیں واقعی کتنی عجیب اور پُرسکون ہوتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان کی سختی پگھل گئی ہو اور زمین پر رحمت دھیرے دھیرے اتر رہی ہو۔ افطار کے بعد گھروں میں مدھم روشنی، برتنوں کی ہلکی سی جھنکار، دعا کی سرگوشیاں اور دلوں میں اترتا ہوا ایک نرم سا اطمینان… سب مل کر ایک ایسی فضا بنا دیتے ہیں جہاں وقت کی رفتار دھیمی پڑ جاتی ہے۔ایسے لگتا ہے جیسے لمحے ٹھہر کر انسان کو خود سے ملنے کا موقع دے رہے ہوں۔ جب وقت کی دوڑ سست ہوتی ہے تو دل بھی دنیا کے شور سے ہٹ کر اپنے اندر اترنے لگتا ہے۔ وہ سوال،جوروزمرہ کی مصروفیات میں دب جاتے ہیں، آہستہ آہستہ سر اٹھاتے ہیں اور وجدان کے دروازے پر دستک دینے لگتے ہیں۔اسی خاموشی کی گہرائی میں ایک مدھم سی صدا ابھرتی ہے:یہ مسلسل دوڑ آخر کس کے لیے ہے؟یہ تھکن، یہ بیچینی، یہ نہ ختم ہونے والی فکر کب تک؟کبھی ٹھہر کر یہ بھی سوچا ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں… اور کیوں؟ہم جس سکون کو دنیا میں تلاش کرتے پھرتے ہیں، کیا وہ واقعی باہر ہے؟ یا وہ ہمارے ہی دل کے کسی گوشے میں منتظر ہے، اور ہم کبھی رک کر اس تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے؟ جب یہ سوال گہرا ہوتا ہے تو ایک اور سچ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے—موت کا سچ۔ کیونکہ موت وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصل کو سب سے واضح دیکھتا ہے۔ جو اپنی فنا کو سمجھ لے، اس کی انا پگھلنے لگتی ہے، اس کی ضد چھوٹی ہو جاتی ہے، اور اس کے رشتے قیمتی ہو جاتے ہیں۔رشتوں سے خیال آیا…کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ہم بہن بھائیوں کے اس سرسبز چمن میں سے ایک ایسا بھی ہوگا جو ہم سب کے جنازے دیکھے گا۔ ہر بار کسی اپنے کو رخصت کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں وہی بچپن لوٹ آئے گا۔ وہی صحن، وہی کھیل، وہی ہنسی، وہی معمولی جھگڑے اور فوراً مان بھی جانا۔ ہر جنازے کے ساتھ اس کے دل کا ایک حصہ خاموش ہوتا جائے گا۔ لوگ اسے صبر کی تلقین کریں گے، مگر اس کے اندر کا ویران آنگن کوئی نہ دیکھ سکے گا۔اور ہمارے اس چمن کا ایک پھول ایسا بھی ہوگا… جو سب سے پہلے ہم سے بچھڑ جائے گا۔جس کے جنازے پر ہم سب اکٹھے ہوں گے۔ ہم اسے اپنے کندھوں پر اُٹھائیں گے، آنکھیں نم ہوں گی، لبوں پر دعائیں ہوں گی… مگر دلوں میں ایک ایسا سناٹا ہوگا جو لفظوں سے بیان نہیں ہو سکتا۔اُس لمحے پہلی بار شدت سے احساس ہوگا کہ رشتے کتنے قیمتی تھے، اور ہم کتنی معمولی باتوں میں الجھے رہے۔ انا، ضد اور شکوے سب بیمعنی ہو جائیں گے، بس ایک ہی حسرت دل میں اُترتی جائے گی کہ کاش ہم نے اس کے ساتھ اور وقت گزارا ہوتا… کاش ہم نے اسے بار بار گلے لگایا ہوتا… کاش ہم نے اسے یہ کہہ دیا ہوتا کہ وہ ہمارے دل میں کتنی گہری جگہ رکھتا تھا۔مگر اُس وقت لفظ اپنی اہمیت کھو چکے ہوں گے، اور خاموشی سب سے زیادہ بول رہی ہوگی۔ آنسو بہیں گے، مگر بہت دیر سے۔اور پھر ایک دن ہمارے اس چمن کا ایک آخری پھول ایسا بھی ہوگا…جس کے جنازے پر ہم میں سے کوئی موجود نہیں ہوگا۔ نہ وہ بھائی جن کے ساتھ بچپن کے دن گزرے، نہ وہ بہن جس کے ساتھ ہنستے ہنستے آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔اس کے گرد وقت کے ساتھ جُڑ جانے والے کئی نئے رشتے ہوں گے۔ وہ روئیں گے، وہ دعائیں بھی کریں گے، ہر آنسو کے پیچھے ایک ادھوری کہانی ہوگی، ہر دعا میں ایک دیر سے جاگی ہوئی حسرت۔ مگر پھر بھی فضا میں ایک خاموش کمی تیرتی رہے گی۔ ایک ایسا خلا، جسے شاید کوئی محسوس تو کرے گا، مگر اس کی گہرائی کو سمجھا نہ سکے گا۔وہ نہیں جان سکیں گے کہ اس خاموشی میں کتنی آوازیں کتنی یادیں دفن ہیں۔ وہ بچپن کی صدائیں، وہ مشترکہ خواب، وہ ایک ہی آنگن کی کہانی۔یہ وہ آخری پھول ہوگا… جو سب کو یادوں کے سپرد کر کے چلا جائے گا،اور اس کے ساتھ ہی ایک پورا زمانہ، ایک پورا بچپن، ایک آنگن کی پوری کہانی بھی خاموش ہو جائے گی۔یہی سوچ دل کو جھنجھوڑتی ہے:جب ہمارا ساتھ چند سانسوں کا ہے تو اتنی دوریاں کیوں؟اتنی خاموشیاں کیوں؟اتنی ناراضگیاں کیوں جو آہستہ آہستہ محبت کو کمزور اور ختم کر دیتی ہیں؟ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ وقت رُکتا نہیں… اور موت انتظار نہیں کرتی؟رمضان ہمیں یہی تو سکھانے آتا ہے کہ اصل عبادت صرف بھوک اور پیاس نہیں، بلکہ دل کے جاگنے کا نام ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سجدوں کے ساتھ ساتھ ٹوٹے رشتے جوڑنا بھی عبادت ہے۔ یہ وہ موسم ہے جس میں معافی مانگنا آسان ہو جاتا ہے اور معاف کرنا عبادت بن جاتا ہے۔آئیے، اس رمضان دلوں کی صفائی کریں۔کسی کو یاد کریں جس سے برسوں سے بات نہیں ہوئی۔کسی کو گلے لگائیں جسے انا نے ہم سے دور کر دیا۔محبت کے چند لفظ کہہ دیں، کیونکہ یہی لفظ کل ہماری یاد بن جائیں گے۔چھوٹی باتوں کو چھوڑ دیں، کیونکہ وقت رکتا نہیں اور موت مہلت نہیں دیتی۔آخرکار ہم ساتھ کچھ نہیں لے جائیں گے—نہ دولت، نہ غرور، نہ عہدے، نہ کامیابیاں۔اگر کچھ باقی رہے گا تو وہ صرف محبت ہوگی جو ہم نے بانٹی، وہ معافیاں ہوں گی جو ہم نے دیں، اور وہ دل ہوں گے جنہیں ہم نے اپنے ہونے کا احساس دلایا۔اللہ تعالیٰ اس رمضان کو ہمارے لیے ہدایت کا نور، دلوں کی بیداری اور روح کی پاکیزگی کا ذریعہ بنا دے۔ہماری ٹوٹی ہوئی ڈوریں جوڑ دے، بچھڑے دلوں کو قریب کر دے اور ہمارے رشتوں میں پھر سے محبت، خلوص اور آسانی پیدا فرما دے۔ہمیں معاف کرنے، معافی مانگنے اور ایک دوسرے کے لیے رحمت بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا ربّ العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں