
۔،۔ بیرون ملک پاکستانی پاسپورٹ کا اجرا اور پولیس رپورٹ کی شرط؟۔ اعجاز حسین پیارا۔،۔
٭پاسپورٹ ایکٹ 1974 اور پاسپورٹ رولز 2021 کی روشنی میں ایک قانونی وضاحت۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اکثو اس مسئلہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اگر ان کا پاسپورٹ گم ہو جائے تو کیا نیا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے لازماََ پولیس رپورٹ پیش کرنا ضروری ہے؟ بد قسمتی سے بعض اوقات اس حوالہ سے ایسی سخت شرائط عائد کر دی جاتی ہیں جو قانون کی روح سے مطابقت نہیں رکھتیں ٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ہناوُ۔ گذشتہ دنوں اسپین میں بہت سے اوورسیز پاکستانیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کو مد نظر رکھتے ہوئے ٭صدر پاکستان اوورسیز الائنس فورم یورپ اعجاز حسین پیارا اور ان کی ٹیم سرگرم عمل ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو آسان بنانے میں مدد کے طور پر انہوں نے ایک معلوماتی مضمون شائع کیا ہے۔ خود بھی پڑھیں اور دوست و احباب سے بھی شیئر کریں تا کہ اوورسیز کی مدد کی جا سکے ان کا کہنا ہے کہ۔پاسپورٹ ایکٹ 1974 اور پاسپورٹ رولز 2021 کی روشنی میں ایک قانونی وضاحت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اکثر اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اگر ان کا پاسپورٹ گم ہو جائے تو کیا نیا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے لازماً پولیس رپورٹ پیش کرنا ضروری ہے؟ بدقسمتی سے بعض اوقات اس حوالے سے ایسی سخت شرائط عائد کر دی جاتی ہیں جو قانون کی روح سے مطابقت نہیں رکھتیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاسپورٹ ایکٹ 1974 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد، خصوصاً پاسپورٹ رولز 2021، اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ پاسپورٹ کے اجرا کے معاملات میں ہر کیس کو اس کے حالات کے مطابق دیکھا جائے۔ قانون میں ایسی لچک موجود ہے جو متعلقہ حکام کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ مناسب شواہد اور دستاویزات کی بنیاد پر فیصلہ کریں، اور ہر کیس میں پولیس رپورٹ لازمی قرار نہیں دی گئی۔
*پاسپورٹ ایکٹ 1974: قانونی فریم ورک*
پاکستان میں پاسپورٹ کے اجرا اور اس سے متعلقہ تمام معاملات کو پاسپورٹ ایکٹ 1974 کے تحت منظم کیا جاتا ہے۔
اس ایکٹ کی دفعہ 3 (Section 3) کے مطابق وفاقی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پاسپورٹ کے اجرا، تجدید اور منسوخی کے حوالے سے قواعد و ضوابط مقرر کرے اور مجاز حکام کو اختیارات تفویض کرے۔اسی طرح دفعہ 5 (Section 5) کے تحت حکومت کسی بھی شخص کو پاسپورٹ جاری کرنے یا اس کے اجرا سے متعلق انتظامی اختیارات دے سکتی ہے۔ عملی طور پر یہ اختیارات ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو دیئے گئے ہیں۔بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے پاکستان کے سفارتخانے اور قونصلیٹ اسی ادارے کے نمائندے کے طور پر پاسپورٹ کے اجرا کی خدمات انجام دیتے ہیں۔
*پاسپورٹ رولز 2021: جدید طریقہ کار*
پاسپورٹ کے نظام کو جدید بنانے اور اس میں شفافیت پیدا کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے پاسپورٹ رولز 2021 نافذ کئے۔ ان قواعد میں پاسپورٹ کے اجرا، تجدید، گمشدگی اور دیگر معاملات کے بارے میں واضح طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔ان قواعد کے مطابق اگر کسی شخص کا پاسپورٹ گم ہو جائے تو اس کیس کو Lost Passport Case کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں درخواست دہندہ سے پاسپورٹ کے گم ہونے کی وضاحت طلب کی جاتی ہے اور بعض صورتوں میں اس سے حلف نامہ (Affidavit of Loss) یا تحریری بیان لیا جاتا ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ قواعد میں یہ کہیں لازمی نہیں کہا گیا کہ ہر گمشدگی کے کیس میں پولیس رپورٹ پیش کرنا ضروری ہو۔ بلکہ قانون متعلقہ حکام کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کیس کی نوعیت کے مطابق فیصلہ کریں۔
*پاسپورٹ گم ہونا اور چوری ہونا: ایک اہم قانونی فرق*
قانونی طور پر پاسپورٹ کے گم ہونے اور چوری ہونے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔پاسپورٹ چوری ہونے کی صورت
اگر پاسپورٹ چوری ہو جائے تو اس میں مجرمانہ عنصر شامل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں پولیس رپورٹ یا ایف آئی آر درج کروانا ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ پاسپورٹ کے ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔پاسپورٹ گم ہونے کی صورت-اگر پاسپورٹ صرف گم ہو جائے اور چوری کا کوئی ثبوت موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں درخواست دہندہ سے تحریری بیان یا حلف نامہ لیا جا سکتا ہے جس میں وہ پاسپورٹ کے گم ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔یہ حلف نامہ ایک قانونی دستاویز ہوتا ہے اور اس کی بنیاد پر پاسپورٹ جاری کیا جا سکتا ہے۔
*سفارتخانوں اور قونصلیٹس کی قانونی ذمہ داری*
پاکستان کے سفارتخانے اور قونصلیٹ بیرونِ ملک پاکستانی ریاست کے نمائندے ہوتے ہیں۔ ان کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو قانونی سہولت اور تحفظ فراہم کریں۔پاسپورٹ قوانین کی روح بھی یہی ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جائے۔ اسی لئے قانون میں یہ لچک رکھی گئی ہے کہ پاسپورٹ جاری کرنے والے حکام ہر کیس کا جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کریں۔
سفارتخانوں اور قونصلیٹس کے اختیارات میں شامل ہے کہ وہ:
• درخواست دہندہ کی شناخت کی تصدیق کریں
• پاسپورٹ گم ہونے کی صورت میں تحریری بیان یا حلف نامہ لیں
• ضرورت پڑنے پر اضافی دستاویزات طلب کریں
• کیس کو ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اسلام آباد کو بھجوا سکیں
• ہنگامی صورت میں ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ جاری کریں
ان اختیارات کا مقصد بیرونِ ملک پاکستانیوں کو سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں غیر ضروری طور پر تنگ کرنا۔
⸻
آن لائن پاسپورٹ نظام اور گمشدگی کا بیان
پاکستان نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لئے آن لائن پاسپورٹ درخواست کا نظام بھی متعارف کرایا ہے۔ اس نظام کے تحت اگر کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس کا پاسپورٹ گم ہو گیا ہے تو اسے ایک مخصوص فارم ڈاؤن لوڈ کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
درخواست دہندہ اس فارم پر دستخط کر کے اسے آن لائن اپ لوڈ کرتا ہے۔ یہ فارم دراصل پاسپورٹ کے گم ہونے کا تحریری بیان ہوتا ہے جس کی بنیاد پر پاسپورٹ کی درخواست پر کارروائی کی جاتی ہے۔
یہ طریقہ کار خود اس بات کا ثبوت ہے کہ گمشدگی کے ہر کیس میں پولیس رپورٹ کو لازمی قرار نہیں دیا گیا۔
*قانونی اور عملی نتیجہ*
قانونی طور پر درج ذیل نکات واضح ہیں:
1. پاسپورٹ ایکٹ 1974 کی دفعہ 3 اور دفعہ 5 پاسپورٹ کے اجرا کے لئے بنیادی قانونی اختیار فراہم کرتی ہیں۔
2. پاسپورٹ رولز 2021 پاسپورٹ کے اجرا اور گمشدگی کے معاملات کے لئے انتظامی طریقہ کار فراہم کرتے ہیں۔
3. پاسپورٹ کے چوری ہونے کی صورت میں پولیس رپورٹ ضروری ہو سکتی ہے۔
4. تاہم پاسپورٹ کے صرف گم ہونے کی صورت میں درخواست دہندہ کے تحریری بیان یا حلف نامے کی بنیاد پر بھی پاسپورٹ جاری کیا جا سکتا ہے۔
5. سفارتخانوں اور قونصلیٹس کو قانون کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ہر کیس کو اس کے حالات کے مطابق دیکھیں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو سہولت فراہم کریں۔
لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ بیرونِ ملک پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے ہر صورت میں پولیس رپورٹ لازمی ہوتی ہے۔ قانون کی اصل روح سہولت، انصاف اور عملی حل فراہم کرنا ہے۔بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے قانون کی اسی روح کے مطابق فیصلے کریں تاکہ پاکستانی شہریوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے
–