-,- پاکستان ہائی کمیشن کے باہر سید قمر رضا اور کشمیری شخص کے درمیان مبینہ تلخ کلامی، ویڈیو سوشل میڈیا پر زیرِ گردش-,-
*لندن، 29 اگست 2026: پاکستان ہائی کمیشن لندن کے باہر اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا اور ایک کشمیری شخص کے درمیان مبینہ تلخ کلامی اور سخت جملوں کے تبادلے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس کے بعد پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی میں اس واقعے کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی ہے۔*
زیرِ گردش ویڈیو اور اس کے ساتھ کیے جانے والے دعووں کے مطابق دونوں افراد کے درمیان پاکستان ہائی کمیشن کے باہر کسی معاملے پر تلخ کلامی ہوئی۔ بعض سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ گفتگو کے دوران سخت زبان استعمال کی گئی، تاہم ویڈیو کے دستیاب حصے کی بنیاد پر واقعے کے مکمل پس منظر اور گفتگو کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔یہ بھی واضح نہیں کہ ریکارڈنگ شروع ہونے سے پہلے دونوں افراد کے درمیان کیا گفتگو ہوئی، تنازع کس بات سے شروع ہوا اور آیا ویڈیو مکمل واقعہ دکھاتی ہے یا اس کا صرف ایک حصہ سامنے آیا ہے۔مکمل ویڈیو اور آزادانہ تصدیق کا سوال-صحافتی اعتبار سے اس معاملے میں سب سے اہم سوال مکمل اور غیر ترمیم شدہ فوٹیج کا ہے۔ اگر واقعے کی مزید ویڈیوز، مختلف زاویوں سے ریکارڈنگ، عینی شاہدین کے بیانات یا مقام کی CCTV فوٹیج دستیاب ہے تو ان سے واقعے کی ترتیب اور دونوں فریقوں کے کردار کو زیادہ واضح کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح یہ بھی معلوم ہونا باقی ہے کہ آیا واقعے کے حوالے سے کسی فریق نے لندن پولیس یا پاکستان ہائی کمیشن کو باضابطہ شکایت دی ہے یا نہیں۔سید قمر رضا کی شناختدستیاب معتبر ذرائع کے مطابق سید قمر رضا اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں۔ -اپریل 2026 میں انہوں نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کی قونصلر خدمات کے حوالے سے بھی اپنا موقف پیش کیا تھا۔لندن میں اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کےچیئرمین سے مبینہ بدسلوکی کی مذمتلندن میں اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا کے ساتھ مبینہ تلخ کلامی اور ہراساں کرنے کی کوشش کی اطلاعات قابلِ مذمت ہیں۔اختلافِ رائے ہر شخص کا بنیادی حق ہے، لیکن اختلاف کو دلیل، مکالمے اور مہذب انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی شخص کو سڑک یا عوامی مقام پر ہراساں کرنا، دھمکانا یا بدتمیزی کا نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔سید قمر رضا ایک ذمہ دار عوامی عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے کسی اقدام یا پالیسی سے اختلاف ہو تو اس کا اظہار آئینی، قانونی اور جمہوری طریقے سے کیا جانا چاہیے، نہ کہ ذاتی تضحیک یا مبینہ بدسلوکی کے ذریعے۔ساتھ ہی، چونکہ واقعے کی مکمل تفصیلات اور ویڈیو کا تمام تر سیاق و سباق ابھی آزادانہ طور پر واضح نہیں، اس لیے کسی بھی فریق کے خلاف حتمی الزام عائد کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ مکمل ویڈیو، عینی شاہدین کے بیانات اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن بدتمیزی، ہراسانی اور تشدد کسی بھی اختلاف کا حل نہیں۔لندن جیسے بین الاقوامی شہر میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی سے وابستہ تمام افراد کو چاہیے کہ وہ باہمی احترام، برداشت اور قانون کی پاسداری کو مقدم رکھیں۔

