
-,-نسل پرستی اور تشدد کے خلاف بچوں کی ریلیاںمحبت اور یکجہتی کا طاقتور پیغام، بچوں سمیت شہریوں کی بھرپور شرکت — نذر حسین-,-
*گزشتہ چار سال سے جرمنی کے مختلف علاقوں میں ہر سال ستمبر کے مہینے میں نسل پرستی اور تشدد کے خلاف ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں پرائمری اسکولوں کے بچے اور بچیاں، اساتذہ، والدین، مختلف کلبوں، چرچ کمیونٹیز، نوجوانوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔ ان ریلیوں کا مقصد نسل پرستی، نفرت اور تشدد کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرتے ہوئے محبت، امن اور یکجہتی کا پیغام عام کرنا ہے۔*
شانِ پاکستان جرمنی فرینکفرٹ، حالیہ ریلی میں بھی بچوں نے اپنے ہاتھوں سے مختلف پوسٹرز تیار کیے، جن پر نسل پرستی اور تشدد کے خلاف پیغامات درج تھے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ہم سب مل کر نسل پرستی اور تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ نسل پرستی اور تشدد جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان اور بچے بھی جمہوری عمل میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں اور معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں۔ریلی کے منتظمین میں شامل چرچ کے ایک نوجوان پادری نے کہا کہ ہم محبت اور یکجہتی کے لیے کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق اخراج، نفرت اور تقسیم کبھی مثبت تبدیلی کا باعث نہیں بنتے، اس لیے معاشرے میں باہمی احترام اور اتحاد کو فروغ دینا ضروری ہے۔بچے اپنے اساتذہ، والدین اور بہن بھائیوں کے ہمراہ مقررہ وقت سے پہلے ہی ملاقات کے مقام پر پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ دو بجے سے شرکاء کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا، جبکہ ریلی کی روانگی کا وقت تین بجے مقرر تھا۔مقررہ وقت پر ریلی وائس اسٹائن سے پولیس کی نگرانی میں روانہ ہوئی۔ بچوں کے نعروں اور امن و یکجہتی کے پیغامات سے فضا گونج اٹھی۔ ریلی کے شرکاء نے تقریباً چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور بالآخر ایک ڈے کیئر سینٹر تک پہنچے۔ریلی میں شریک بچوں کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد ایسا شہر اور معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں نسل پرستی اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔ اس موقع پر متعدد راہگیروں نے بھی ریلی میں شرکت کرکے بچوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔واضح رہے کہ نسل پرستی کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بھی مختلف مہمات اور ہفتۂ آگاہی کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں نوجوانوں کے ساتھ بزرگ اور خواتین بھی بھرپور شرکت کرتے ہیں اور نسل پرستی، نفرت اور تشدد کے خلاف اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں۔موجودہ حالات میں ان سرگرمیوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ جرمنی میں دائیں بازو کی سیاست، امیگریشن، سیاسی پناہ اور معاشرتی یکجہتی جیسے موضوعات پر سیاسی اور عوامی بحث جاری ہے۔جرمنی کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت Alternative für Deutschland (AfD) اپنی سیاسی پالیسی میں امیگریشن اور سیاسی پناہ کے حوالے سے سخت اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔ جماعت کی پالیسیوں میں امیگریشن پر سخت پابندیاں، غیر ملکیوں کے لیے شہری آمدنی کے نظام میں تبدیلی، بڑے پیمانے پر ملک بدری یا واپسی کی پالیسی، سیاسی پناہ اور ہجرت کی پالیسی کو یورپی یونین کی سطح سے قومی ریاستوں کو واپس منتقل کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔توانائی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی AfD قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی موجودہ پالیسی کی مخالفت، ٹیکسوں میں کمی، پیرس موسمیاتی معاہدے سے جرمنی کی علیحدگی اور جوہری توانائی کے دوبارہ استعمال کی حمایت کرتی رہی ہے۔ روس کے حوالے سے جماعت اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور نورڈ اسٹریم پائپ لائنوں کو دوبارہ فعال کرنے کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہے۔اسی سیاسی تناظر میں پاکستان اوورسیز الائنس فورم یورپ کے صدر چوہدری اعجاز حسین پیارا نے شانِ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ جرمنی کی سیاسی جماعتوں کی رکنیت حاصل کرے اور جرمن سیاست میں بھرپور حصہ لے۔چوہدری اعجاز حسین پیارا کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ جمہوری اور سیاسی عمل کا حصہ بنے، سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرے اور اپنی آواز مؤثر انداز میں جرمن سیاسی نظام تک پہنچائے، تاکہ جمہوری طریقے سے ایسے سیاسی رجحانات کا مقابلہ کیا جا سکےفرینکفرٹ میں بچوں کی اس ریلی نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا کہ نسل پرستی اور تشدد کے خلاف جدوجہد صرف سیاسی جماعتوں یا اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کا مشترکہ فرض ہے۔ بچوں کے ہاتھوں میں اٹھے پوسٹرز اور ان کے پُرامن نعرے اس عزم کی علامت ہیں کہ آنے والی نسل ایک ایسے معاشرے کی خواہاں ہے جہاں محبت، احترام، مساوات اور یکجہتی کو نفرت اور تقسیم پر فوقیت حاصل ہو۔













