
۔،۔سردار سیدال خان ناصر کافلسفہ سیاست۔محمد ناصر اقبال۔،۔
ہماری انفرادی واجتماعی”خطاؤں“کے باوجودمہربان قدرت نے اپنی بینظیر ”عطاؤں“ کے قابل سپاس”منصوبوں“ سے ہمار ے چاروں ”صوبوں“ کو بیحد نوازا ہے۔اگربلوچستان کے پہاڑوں میں سونا ہے توپنجاب کے کھیت کھلیان سونا اگلتے ہیں۔شہرقائدؒ سے گوادرتک پھیلے طویل گرم سمندر سے ہماری قومی معیشت سیراب وشاداب ہوتی ہے۔ہماری چاروں ”اکائیاں“ایک دوسرے کو”توانائیاں“فراہم کرتی ہیں توہماراوفاق پھلتا پھولتا ہے۔ہمارے”وفاق“ کی مضبوطی سے خوفزدہ دشمن کاہماری صفوں میں ”نفاق“ پیداکرنااس کی فطرت اورضرورت ہے، دشمن ملک کی باتوں پرکان دھرنے اوراپنی ماں جیسی ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے والے گمراہ لوگ درحقیقت بدترین روگ ہیں۔ دشمن ملک کی ہرسازش وشورس سے ”بیزار“اور”بیدار“ پاکستانیوں نے منافرت اورصوبائیت کا ہرسومنات ضرب غزنوی کے ساتھ پاش پاش کردیا ہے۔پنجاب،خیبرپختونخوا،بلوچستان اورسندھ اپنی اپنی منفردخصوصیات کی بنیاد پر ایک دوسرے کیلئے ناگزیر ہیں۔یادرکھیں جس طرح سندھ کادشمن پنجاب کادوست نہیں ہوسکتا اس طرح بلوچستان کے بدخواہ عناصرہرگز خیبرپختونخوا کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے سو اپنی اپنی مضبوطی کیلئے ایک دوسرے کومضبوط کریں کیونکہ ہردور میں جومضبوط ہوتے ہیں وہ آفات وبلیات اوربیرونی جارحیت سے محفوظ ہوتے ہیں۔یادرکھیں اگرشاطراوربزدل دشمن کو”مہلت“دی جائے تووہ آپ کی سا لمیت کیلئے مزید”مہلک“ہوجاتا ہے لہٰذاء ہرخاص وعام ”آگاہ“ رہے ہمارا محبوب پاکستان ہماری محفوظ”پناہ گاہ“ ہے،اس کاکوئی دشمن ہم میں سے کسی کادوست نہیں ہوسکتا۔ہمارے جوجانثارمحافظ مادروطن کی حفاظت پرمامور ہیں،آپ اُنہیں اپنی دعاؤں اوروفاؤں کامحور بنائے رکھیں۔نظریاتی محاذ پرپاکستان اورافواج پاکستان کابھرپوردفاع کریں۔ہماری محبوب افواج پاکستان کاکوئی بھی دشمن ہمارے جان سے پیارے پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتا۔ہمارا بدترین دشمن زہریلے پروپیگنڈے کے زور پر ہم چاربھائیوں (چاروں صوبوں) کو ایک دوسرے سے خفاء اور جدا کرکے باری باری ہربھائی کو شدید نقصان پہنچانا اورصفحہ ہستی سے ہماراوجود مٹاناچاہتا ہے لہٰذاء چاروں بھائی کسی قیمت پرایک دوسرے کا”ہاتھ“ اور”ساتھ“نہ چھوڑیں۔ہرے بھرے اسلام آباد کوچاروں صوبوں سے مسلسل تازہ ہوا آ نے دیں،اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ”اسلام“کے دوام کیلئے”اسلام آباد“ کااستحکام یقینی بناناہوگا۔ ”وفاقی حکومت“ پرتنقید کرناہر کسی کاحق ہے لیکن کوئی سیاسی جماعت یاشخصیت ”وفاق“ پرحملے کااستحقاق نہیں رکھتی۔جو مٹھی بھر گمراہ لوگ مرکز گریز سیاست کرتے تھے ریاست کے راست”اقدام“ اور عوام کے سیاسی ”انتقام“نے انہیں قصہ پارینہ بنادیا ہے،آئندہ بھی جوسیاسی کردار اس بندگلی میں گیا اس کی سیاست کاسیاہ باب مستقل بندہوجائے گا۔پاکستان میں ہراس سیاستدان کاسیاسی مستقبل روشن اورتابناک ہے جو ہماری دشمن ریاست کے آشیرباد ک سے چلی ایک’’باریک“ اور”تاریک“ تحریک کاحصہ نہیں بنا۔منتقم مزاج مودی راج میں بھارت کے مسلمان ہرقسم کی مذہبی اورسیاسی آزادیوں سے محروم ہیں، اس کے باوجود پاکستان میں آزاد شہری ہوتے ہوئے جودشمن ریاست کواپنا نجات دہندہ سمجھتا اوراس کے اشاروں پراچھلتا ہے اس سے بڑا کوئی بدنسل اوربدبخت نہیں ہوسکتا۔بنگلہ دیش میں جوکئی دہائیوں سے بھارت کے بھگت تھے،حالیہ عوامی مزاحمت سے ان کی سیاست کاجنازہ اٹھ گیاہے۔اب پاکستان کے باشعور عوام بھی بھارت کے کسی”بھگت“ کی”آؤ بھگت“ نہیں کرینگے۔بلوچستان کے دانااورتوانا ”بلوچ“عوام کی”سوچ“ کامحور پاکستان ہے،طاقتوراورخوددار’’پشتون“ بھی پاکستان اورافواج پاکستان کے”پشت بان“ ہیں۔کوئٹہ سے نیک نام،صاف ستھرے،سلجھے اور منجھے ہوئے ادھیڑعمر سیاستدان سردارسیدال خان ناصر کی صورت میں بلوچستان کی ایک قدآور سیاسی شخصیت اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے آئینی ادارہ سینیٹ میں براجمان اورپاکستانیت کی ترجمان ہے۔وہ اپنی علمی لیاقت، انتظامی قابلیت، سیاسی بصیرت اورمنفردصلاحیت کے بل پر کوئٹہ میں طلبہ سیاست کے پلیٹ فارم سے ابھرے اوراب قومی سیاست کے افق پرآفتاب کی مانندچمک رہے ہیں۔انہیں ان کے مخصوص انداز میں سینیٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیکھیں توقائدؒ کے پاکستان کامستقبل روشن اورمحفوظ جبکہ آئین کاپرچم بلند نظرآتا ہے۔ ہمارے جومٹھی بھر نادان اور”بدزبان“ ہموطن بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں ”بدگمان“ اورایک سازش کے تحت مایوسی کاچورن بیچتے ہیں وہ نبض شناس اورفرض شناس سردارسیدال خان ناصر سے مادروطن کے بارے میں خوش گمان، پرامیداورپرجوش رہنا سیکھیں۔ان کی سیاست کاخمیر بلوچستان سے اٹھا ہے لیکن اب وہ سینیٹ میں بلوچستان سے اپنی نسبت کواپنے سینے سے لگائے اور ہاتھوں میں سبزہلالی پرچم اٹھائے پھرتے ہیں۔انہوں نے اپنے انتخاب سے اب تک قدم قدم پراتحاد ویکجہتی کادرس دیتے ہوئے اپنے منصب کاحق اداکردیا ہے۔انہوں نے اسلامیت،انسانیت اور پاکستانیت کے معاملے میں آج تک کبھی کسی مصلحت سے کام نہیں لیا۔سینیٹ میں ریاست،ریاستی اداروں اور بلوچستان کے مفادات کی وکالت کرتے ہوئے ان کی سیاست اور کمٹمنٹ پررشک آتا ہے۔وہ بلوچستان اورپاکستان کے درمیان نہایت احسن انداز سے ایک پائیدارپل کاکرداراداکررہے ہیں۔سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سردارسیدال خان ناصر کی شخصیت میں اعتدال اوراستقلال کاغلبہ ہے تاہم جہاں پاکستانیت کی بات آجائے وہاں ان کی حساسیت اورجذباتیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔وہ بلوچستان سمیت چاروں صوبوں کے نظریاتی سیاسی کارکنان کیلئے مشعل راہ ہیں۔سیاست میں کامیابی وکامرانی اورنیک نامی کیلئے سردارسیدال خان ناصر کی طرح مستقل مزاجی،جہدمسلسل اور استقامت ناگزیر ہے۔مادروطن پاکستان کے ساتھ بلوچستان کادین، خون اورجنون کارشتہ ہے جوگالی یاگولی سے نہیں توڑاجاسکتا۔پاکستان اوربلوچستان کے دشمن ماضی کی طرح آئندہ بھی شرمندہ اور نامراد ہوں گے۔جب تک پاکستان اوربلوچستان کی باگ ڈور سردارسیدال خان ناصر کی صورت میں نظریاتی ارباب اقتدار اورآئینی عہدیدار کے توانا ہاتھوں میں ہے،اس وقت تک مالیاتی مافیا اوراس کے بیرونی آقااپنے مذموم ایجنڈے کوپایہ تکمیل تک نہیں پہنچاسکتے۔اپنے سیاسی نظریات پر”مثالی“ اور”ہلالی“استقامت نے فرزند بلوچستان اورفرزندپاکستان سردارسیدال خان ناصر کوقومی سطح پر میدان سیاست کا قابل رشک شہسوار بنادیاہے۔طلبہ سیاست سے قومی سیاست تک ان کاسفر بہت طویل اورکٹھن تھا،اس دورا ن وہ سودوزیاں کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھتے رہے اوران کی منزل نے انہیں اپنی بانہوں میں لے لیا۔وہ بلندیوں پرجاکر بھی زمین پربیٹھنا اور اپنے پرانے رفقاء سے ملنا پسند کرتے ہیں،ان کی پاک سرزمین کے ساتھ والہانہ محبت نے انہیں زمین سے جوڑدیا ہے۔مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سے مسلم لیگ یوتھ ونگ اورپھر مدرپارٹی مسلم لیگ میں آتے آتے پرویز ی آمریت کے پرآشوب دورنے انہیں سیاسی کندن بنادیا۔میدانوں اورایوانوں میں ”تولنا“ اورپھر”بولنا“ان کاطرہّ امتیاز ہے، وہ اپنی مخصوص سلجھی ہوئی گفتگو سے اپوزیشن کے ساتھ سیاسی تنازعات سلجھاتے ہیں۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہونیوالے باوفااورباصفا سردارسیدال خان ناصراس آئینی منصب کیلئے اپنے محبوب قائدمیاں نوازشریف کاحسن انتخاب ہیں اورانہیں اپنی محبوب قیادت کابھرپوراعتماداورقرب حاصل ہے۔وہ اپنے قائد میاں نوازشریف کی توقعات پرپورااترے ہیں،انہوں نے اپنے قائد کی توقعات کواپنی ترجیحات کاحصہ بنا لیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت سینیٹ میں بحیثیت ڈپٹی چیئرمین سردارسیدال خان ناصر کے آئینی و سیاسی کردار سے بیحد خوش ہے۔وہ اجلاس کی صدارت کے دوران ایوان میں مشتعل اورمضطرب اپوزیشن کوبااحسن ہینڈل کرتے ہوئے انہیں مقررہ حد سے تجاوزنہیں کرنے دیتے۔وہ سینیٹ میں پاکستان کے آئین اورآئینی اداروں کابھرپوردفاع کرتے ہیں۔اگر کسی بھی صوبہ کا کوئی گمراہ فرد پاکستان اورافواج پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرے تواس کا محاسبہ کرتے ہوئے ان کاجذباتی اندازدیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ان کی شخصیت اورسیاست میں پاکستانیت کارنگ نمایاں ہے۔ سردارسیدال خان ناصر کاسیاسی فلسفہ کہتا ہے،”جوگمراہ لوگ کسی روگ کی طرح ماں جیسی ریاست کے ساتھ بے رحمی کے ساتھ پیش آتے ہیں ان درندوں پرہرگزرحم نہیں کیاجاسکتا“۔