۔،۔ جرمنی کے شہر مَن ہائیم کے قریب جنگل میں نوجوان عورت کی لاش ملی،تھوڑی ہی دیر بعد مشتبہ شخص گرفتار۔نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ جرمنی کے شہر مَن ہائیم کے قریب جنگل میں نوجوان عورت کی لاش ملی،تھوڑی ہی دیر بعد مشتبہ شخص گرفتار۔نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ جرمنی کے شہر مَن ہائیم کے قریب جنگل میں نوجوان عورت کی لاش ملی،تھوڑی ہی دیر بعد مشتبہ شخص گرفتار۔نذر حسین۔،۔

٭مَن ہائیم کے قریبی جنگل(ایک مشہور تفریحی علاقہ) سے انیس سالہ خاتون کی لاش برآمد،قتل کے شبہ میں ایک سترہ سالہ ملزم کی گرفتاری، قاتل کا تعلق ملک شام سے ہے ٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/من ہائیم۔ مقامی پولیس اور میڈیا رپورٹ کے مطابق، چہل قدمی کے نکلی ایک خاتون نے مَن ہائیم کے قریبی جنگل(ایک مشہور تفریحی علاقہ) میں انیس سالہ لڑکی کی لاش ملی، خاتون نے پولیس کو مطلع کیا جنہوں نے کچھ ہی دیر بعد ایک سترہ سالہ شامی لڑکے کو حراست میں لے لیا، تفتیش کے مطابق مبینہ مجرم اور اس کا شکار کچھ عرصہ سے ایک دوسرے کو جانتے تھے، پولیس رپورٹ کے مطابق سترہ ساہ اور انیس سالہ جوڑا ایک دوسرے کو ایک سال سے زیادہ عرصہ سے تعلقات میں تھے، یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا یہ فعل نسوانی حقتل تھا، جس کے متعلق ابھی تک کوئی ٹھوس معلومات فراہم نہیں کی جا سکیں، براسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق فی الحال جنسی جرم کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ دونوں کی ملاقات منگل کی شام کو ہوئی جبکہ اس کے بعد دونوں اکٹھے ایکساتھ مقامی تفریحی علاقہ میں گئے نامعلوم وجوعات کی بنا پر اس شخص نے مبینہ طور پر خاتون پر حملہ کیا جو اپنا دفاع کرنے سے قاصر تھی، تفتیش کے مطابق اس نوجوان نے مبینہ طور پر اپنے ہاتھوں سے قتل کر ڈالا غالباََ ایک شاخ سے، پولیس رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز صبح صبح آٹھ بجے ایک راہگیر خاتون نے لاش دریافت کی، جس پر فوجداری تحقیقاتی محکمے نے تقریباََ (ساٹھ افران) پر مشتمل ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی،جس مقام (ایک مشہور تفریحی علاقہ) سے لاش دریافت کی گئی اس کے آس پاس کے علاقہ کی بڑے پیمانے پر تلاشی لی گئی، ابتدائی فرانزک تفتیش کے نتائج نے پر تشدد جرم کے شبہ کی تصدیق کی ہے، پولیس کے مطابق سترہ سالہ نوجوان کو بدھ ہی کی شام کو گرفتار کر لیا تھا۔واضح رہے جس منگل سے لاش ملی ہے وہ ایک مشہور تفریحی علاقہ ہے، جو کہ ایک رہائشی محلے کے قریب ہے، اس علاقہ میں ایک تالاب، جنگلی حیات کا احاطہ، ایک کھیل کا میدان اور کئی ریستورانں اور کیفے شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں