
۔،۔الکرم گروپ سے متعلق مرینہ حسین نے فرینکفرٹ سے چند کلو میٹر کے فاصلہ پر (ڈیٹزن باخ) میں بچوں اور والدین کی خوشیوں کے لئے عید ملن کا خوبصورت اہتمام کیا۔ نذر حسین۔،۔
٭الکرم گروپ سے متعلق مرینہ حسین نے فرینکفرٹ سے چند کلو میٹر کے فاصلہ پر (ڈیٹزن باخ) میں بچوں اور والدین کی خوشیوں کے لئے عید ملن کا خوبصورت اہتمام کیا جس میں بچوں کی تقاریر کا مقابلہ، سوال و جواب کا مقابلہ اور ٹیبلو کا بہت ہی اچھا پروگرام پیش کیا گیا، جس میں فیملیز نے بہت دور دور سے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیئے،جبکہ بچے، بچیاں اور ان کی ماوُں نے عیدین کے سوٹ پہنے ہوئے تھے جس سے عید کا پورا ماحول بنا ہوا تھا۔مارینہ حسین جرمنی میں ہی پیدا ہوئیں، جس علاقہ میں وہ رہائش پذیر ہیں، اسی مرکزی میونسپل کمیٹی کے تعاون سے انہوں نے یہ جگہ حاصل کی ہوئی ہے اور صرف اس مقصد کے لئے کہ وہ بچوں کو ٭اُردو زبان اور دینیات ٭ کی تعلیم دے سکیں جس میں وہ کامیاب ہیں ٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ڈیٹزن باخ۔ آفن باخ کے ضلع(ڈیٹزن باخ۔ Dietzenbach) میں الکرم گروپ سے متعلق مرینہ حسین نے فرینکفرٹ سے چند کلو میٹر کے فاصلہ پر (ڈیٹزن باخ) میں بچوں اور والدین کی خوشیوں کے لئے عید ملن کا خوبصورت اہتمام کیا جس میں بچوں کی تقاریر کا مقابلہ، سوال و جواب کا مقابلہ اور ٹیبلو کا بہت ہی اچھا پروگرام پیش کیا گیا، جس میں فیملیز نے بہت دور دور سے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیئے،جبکہ بچے، بچیاں اور ان کی ماوُں نے عیدین کے سوٹ پہنے ہوئے تھے جس سے عید کا پورا ماحول بنا ہوا تھا۔مارینہ حسین جرمنی میں ہی پیدا ہوئیں، جس علاقہ میں وہ رہائش پذیر ہیں، اسی مرکزی میونسپل کمیٹی کے تعاون سے انہوں نے یہ جگہ حاصل کی ہوئی ہے اور صرف اس مقصد کے لئے کہ وہ بچوں کو ٭اُردو زبان اور دینیات ٭ کی تعلیم دے سکیں جس میں وہ کامیاب ہیں تقریب میں عید اور رمضان المبارک پر تقاریر،رمضان کی اہمیت، عید کی اہمیت اور یورپ میں رہتے ہوئے اسلام کی اہمیت پر بھی بات چیت ہوئی، مرینہ حسین نے نظامت کے فرائض نبھاتے ہوئے سب کی آمد کا شکریہ ادا کیا جبکہ مہمان خصوصی شبانہ ہارون جو باویریا سے تشریف لائیں اور عبیرہ ضیاء کو خوش آمدید کہا،، انہوں نے نذر حسین اور اظہر کیانی کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، ان کا کہنا تھا کہ الکرم گروپ ان دو افراد کے بغیر کچھ بھی نہیں کیونکہ یہ ہمارا ہر پروگرام کور کر کے پاکستانی کمیونٹی تک پہنچاتے نہ صرف یہ ان کے ٹیلی ویثرن کے ذریعہ یہ پروگرام پوری دنیا میں دیکھا جاتا ہے جو ہمارے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ بچوں نے تلاوت قرآن پاک پیش کی جس کا شرف ٭حسن نیئر ٭فروہ شاہ ٭حبیب اللہ نیئر اور ارسل سلطان نے حاصل کیا۔بچوں نے عید کے متعلق خوبصورت ٹیبلو پیش کر کے خوب داد حاصل کی۔ ارسل سلطان نے رمضان المبارک پر خوبصورت تقریر فرمائی۔بے زبانوں کو جب وہ زبان دیتا ہے۔پڑھنے کو پھر وہ ان کو قرآن دیتا ہے بخشنے پہ جب وہ آئے امت کے گناہوں کو۔تو پھر وہ گناہگاروں کو رمضان دیتا ہے۔ مہین امیر نے روزہ رکھنے کی فضیلت اور روزہ کے بارے میں کہا کہ اس مہینہ میں تمام بالغ افراد پر روزہ فرض ہے۔٭ فائظہ فاطمہ شاہ فروہ نے روزہ کی فضیلس بیان کرتے ہوئے کہا کہ فرمان مصطفیﷺ ہے کہ جس نے ایک روضہ رکھا،اللہ کی رضاء حاصل کرنے کے لئے اللہ اس کو جہنم سے بہت دور کر دیتے ہیں۔ثنائیہ سلطان نے عید الفطر پر مکمل بیان فرمایا۔ جیوری کے فیصلہ کے مطابق ثنائیہ سلطان نے پہلا انعام حاصل کیا،مہین امیر نے دوسرا، ارسل سلطان نے تیسرا اور فروہ شاہ نے چھوتھا انعام حاصل کیا۔عبیرہ ضیاء نے اپنے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں اس وقت جرمنی میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہوں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ میری کوشش ہوتی ہے کہ عالمی پلیٹ فارم پر پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر کروں، بچوں نے شبانہ ہارون اور عبیرہ ضیاء کو پھولوں کے گلدستے پیش کئے۔ نذر حسین نے عبیرہ ضیاء کو ان کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایوارڈ پیش کیا۔ بچوں نے مہمان خصوصی کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ہال عید مبارک اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ اس کے بعد سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا جس میں بچوں نے رمضان المبارک اور عید سے منسلک سوالوں کے بڑی خوبصورتی سے بڑھ چڑھ کر جواب دیئے۔ گروپ کی صورت میں کیک کاٹا گیا جو ثنائیہ سلطان بنا کر لائی تھی، اس کے بعد بچوں میں لائے گئے بے شمار تحائف تقسیم کئے گئے،شبانہ ہارون نے دنیا نیوز،جذبہ نیوز اور شان پاکستان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ باویریا سے پہلی دفعہ پروگرام میں شرکت کے لئے آئی ہیں، ماشا اللہ بچوں اور والدین کی محنت کا جیتا جاگتا نتیجہ دیکھنے کو ملا، جرمنی میں اردہ کی کلاس کا پروگرام،رمضان المبارک،عید الفطر اور بچوں کا ٹیبلو دیکھ کر اپنا بچپن یاد آ گیا،پروگرام میں یہ محسوس بھی نہیں ہوا کہ ہم دیار غیر میں ہیں جس کا سارا کریڈٹ مرینہ حسین کو جاتا ہے، ان کی بہت بڑی کاوش اور کامیابی ہے۔ مرینہ حسین کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ الکرم کے بچوں نے بہت خوبصورت انداز میں پروگرام کی تیاری کی ان کا شوق ہے ان کو پاکستان کے بارے میں بڑی معلومات دی جاتی ہے،میرا فوکس ہوتا ہے کہ بچوں کو اردو،پاکستان اور دینیات سکھاوں، ان کا ٹارگٹ انعام ہوتا ہے اسی چکر میں میری کوشش ہے کہ جیسا کہ مجھے ڈیٹزن باخ کے ضلع کی میونسپل کمیٹی(گورنمنٹ) نے جگہ مہیا کی ہوئی ہے میرے پاس باقاعدہ طور پر ایک کلاس روم بھی ہے جسے میں پاکستانی کمیونٹی کے بچوں کے لئے استعمال کرتی ہوں۔مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے اس نیک کام کے لئے چنا ہے۔میرا انعام بچوں کی ترقی ہے وہ دیار غیر میں رہتے ہوئے اپنے وطن پاکستان اور دینی و دنیاوی تہواروں کے بارے میں آگاہ رہیں اور منسلک رہیں۔














































