۔،۔عالمی قافلہ صمود فریڈیم فلوٹیلا۔۲ سال۶۲۰۲ء۔میر افسر امان۔،۔ 0

۔،۔عالمی قافلہ صمود فریڈیم فلوٹیلا۔۲ سال۶۲۰۲ء۔میر افسر امان۔،۔

0Shares

۔،۔عالمی قافلہ صمود فریڈیم فلوٹیلا۔۲ سال۶۲۰۲ء۔میر افسر امان۔،۔

وہی ہوا، جواسرائیل پہلے والے فریڈیم فلوٹیلوں کے ساتھ دہشت گردی کرتا رہا ہے۔ ترکی والے فریڈیم فلوٹیلا کے تو کئی رضاکار شہید کردیے تھے۔ اس بار بھی دہشت گرد اسرائیل کے دہشت گرد وزیراعظم نیتن یاہو نے، بین الاقوامی سمندر میں عالمی قافلہ صمود فریڈیم فلوٹیلا۔۲ کے۱۲ جہازوں پر رات کی تاریکی میں اپنی دہشت گرد نیوی فورس کے ذریعے قبضے میں کر کے ناکارہ بنا دیا۔اطلاعات کے مطابق صمودفلوٹیلا۔۲کے بہت سے رضاکاروں کو حراست میں لے لیے گیا۔ گرفتار شدگان کوبعد بھی یونان واپس بھیج دیا۔ فلوٹیلا کے منتظمین نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا پر پُرتشدد چھاپا مارا۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ فوجی اسپیڈ بوٹس نے قافلے کو گھیرے میں لے لیا۔ رضاکاروں پر ہتھیار تانے اور جہازوں پر زبردستی سوار ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے جہازوں کے انجن توڑدیے۔ نیوی گیشن سسٹم تباہ کر دیا۔مواصلات میں خلل ڈالا۔جس سے رضاکار خراب موسمی حالات کے درمیان سمندر میں پھنس کر رہ گئے۔ جہازوں میں لدھے امدادی سامان جس میں ادویات، پانی،خوراک شامل ہے غزہ تک پہنچنے سے پہلے ہی دہشت گردی کرتے ہوئے اپنے قبضے میں لے لیے۔سترہ ”‘۷۱‘ جہاز فرار ہو کر یونانی پانیوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ترکی اور اسپین نے اسے بحری قزاقی قرار دیا ہے۔ترکی اور اسپین نے ایک مربوط سفارتی اقدام سے بین الاقوامی مؤقف کی ضرورت پر زور دیا۔ البانیہ نے اسرائیلی اقدام کو سرحدوں بغیر نسل پرستی قراردیا۔فرانسکاالبانیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرلکھا”الارم! یہ آخر کیسے ممکن ہے کہ اسرائیل کو یونان/یورپ کے بلکل قریب بین الاقوامی پانیوں میں بحری جہازوں پر حملہ کرنے اور اُنہیں قبضے میں لینے کی اجازت دی جائے؟نسل پرست اسرائیل اور اس کے نسل کش لیڈران کے بارے میں آپ کی جو بھی رائے ہو، اس واقعے سے یورپ میں صدمے کی لہر دوڑ جانی چاہیے“ ا س سے قبل ۵۲۰۲ء میں بھی غزہ کا محاصرہ توڑنے اور غزہ کے مظلوم شہریوں کی مدد کے لیے جانے والے عالمی قافلہ صمود فریڈیم فلوٹیلا کو فوجی مداخلت کر کے روک لیا گیا تھا۔ اس کے رضاکاروں کو اسرائیل کی جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔اس وقت بھی وہی کچھ کرنے جا رہے ہیں۔فریڈیم فلوٹیلاکوالیشن”FFC“ نے بین الاقوامی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ انسانی حقوق کے رضاکاروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ امداد غزہ کے مظلوم محصورین تک پہنچائی جا سکے۔ فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا ڈبلن میں اجلاس منعقد ہوا تھا۔جس میں ۶۲۰۲ء میں غزہ کے لیے بحری جہازوں کے بیڑے کا اعلان کیا گیا۔ اسرائیل کے خلاف کاروائی کی دنیا سے اپیل بھی کی گئی۔ جنگ بندی کے باوجود آج تک دہشت گردی کیوں کی جا رہی ہے۔ سیکڑوں بچے خواتین اسرائیلی بمباری سے شہید کر دیے گئے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن میں ہونے والے اجلاس میں فلوٹیلا کے منتظمین نے کہاکہ اس دفعہ پہلے سے زیادہ بڑی منظم کوشش کریں گے۔ اجلاس میں نیلسن کے پوتے مانڈالامنڈیلا بھی شریک تھے۔ جسے ۵۲۰۲ء مشن میں گرفتار کیا گیاتھا۔مانڈالا نے دنیا کے انسانی حقوق کے رضاکاروں کو مشن ۶۲۰۲ء میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ ۵۲۰۲ء کی طرح اس دفعہ بھی قافلہ صمود فلوٹیلا۔۲ سال ۶۲۰۲ء میں بھی سابق سینیٹ ممبرپاکستان مشتاق احمد بھی شریک ہیں۔ مشہور عالمی انسانی حقوق کی علمبردار”گریٹا تھم برگ“ جو اس مہم میں شریک ہیں نے کہا کہ دنیا اسرائیل کو جبراً مجبور کرنا چاہیے کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کرے۔غزہ کے شہریوں تک خوراک اور ادویات پہچانے کا انتظام ہونا چاہیے۔۳۲۰۲ء کی جنگ کے بعد اسرائیل نے آدھی غزہ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ غزہ کی آبادی ایک تنگ ساحلی پٹی پر محصور کر دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہودی اسرائیلی فوج ان خیموں میں رہنے والوں کو تنگ کر رہے ہیں کہ یہ غزہ چھوڑ جائیں اور یہودی آباد کار غزہ میں بستیا ں بنا لیں۔عالمی قافلہ صمود فلوٹیلا۔ ۲ جمعہ کے روز دنیا کے مختلف ممالک سے غزہ کی پٹی کا محا صرہ ختم کرنے غزہ کے شہریوں تک خوراک، پانی اور ادویات پہنچانے کے لیے روانہ ہوا تھا۔اس بحری بیڑے میں ستر”۰۷“ سے زائد کشتیاں اور بحری جہاز شامل ہیں۔ جو بحیرہ روم کے مختلف مقامات بالخصوص بارسلونا اور تیونس کی بندگاہوں سے روانہ ہوئے تھے۔اس انسانی ہمدردی کی مہم میں سو”۰۰۱“ سے زائد ملکوں کے تقریباً تین ہزار”۰۰۰۳“ انسانی حقوق کی علمبردار شریک ہیں،جن میں اراکین پارلیمنٹ، انسانی حقوق کے کارکنان کئی بین الاقوامی شخصیات بھی شامل ہیں۔اس فلوٹیلا میں ایک طبی یونٹ بھی شامل ہے۔ جس کے پاس غزہ کے شہریوں کے لیے جدید طبی آلات بھی ہیں۔منتظمین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تحریک صرف بحری سے نہ ہو بلکہ زمینی قافلے بھی شامل ہو، جو الجزائر سے روانہ ہو کر تیونس اور لیبیا سے ہوتا ہوا،مصر میں رفح سرحد تک پہنچے گا۔اس کامقصد پائیدار سویلین بحری بری راہداری قائم کرناہے جو فوجی رکاوٹوں سے بالا تر ہوکر ادوایات،پانی اور خوراک اور تعمیراتی سامان کو غزہ تک بلا تعطل فراہمی یقینی ہو جائے۔ایمنسٹی انٹر نیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ صمود فلوٹیلا کو محفوظ راستہ دیا جائے۔ مگر عالمی دہشت گرد اسرائیل کسی کی سننے کے لیے تیار ہی نہیں۔ قابض اسرائیل ا ٹھہتر سالوں سے فلسطینیوں پرمظام ڈھا رہا ہے،۔بلفور معاہدے کے تحت فلسطین میں قدم جمائے۔ آتے ہی فلسطینیوں کو ان کے گھروں زمنیوں سے بے دخل کر دیا۔ ساری دنیا سے یہود کو لا کر آباد کیا۔ دہشت گرد اسرائیل نے روز مرہ کے مظالم کے علاوہ، دو دفعہ ناقابل یقین مظالم ڈھائے۔ ان مظالم کی یاد میں دنیا بھر میں فلسطینی سال میں دو دفعہ ایام ”نکبہ“مناتے ہیں۔ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر اُن کی زمینیوں یہودی آبادرکاری کرنے پر اقوام متحدہ نے درجنوں قرادادیں پاس کیں۔ مگر کسی پر بھی آج تک اسرائیل نے عمل نہیں کیا۔ اللہ امریکا والوں سے ڈے آف ججمنٹ میں ضرور پوچھے گا۔ تم نے انسانیت کا کچھ خیال نہیں کیا؟۔ ظالم دہشت گرد اسرائیل کا ساتھ دیا۔ اسرائیل کے خلاف ہر قرارداد کو تم نے ویٹو کر کے اسرائیل کی ناجائز ریاست کو پالا۔ اسرائیل کو مہلک اسلحہ دیا۔ آج جو غزہ کا حال ہے۔ اس پرتو ساری دنیا اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ہو گئی ہے۔ دونوں تنہا ہو چکے ہیں۔عالمی قافلہ صمود فلوٹیلا۔۲ کے ساتھ جو رویہ اسرائیل نے اپنایا،اس پر لگتا ہے اب جلد ایک بین الا قوامی فوج بننے والی ہے۔ جو اسرائیل کو فلسطین سے طاقت کی بنیاد پر بے دخل کر کے اسے مہذب دنیا میں اکیلا کرے گی۔یہ مطالبہ آزاد دنیا نے کرنا شروع کر دیا ہے۔اس کو پھر اُسی پوزیشن میں لایا جائے گاجس طرح اسرائیل ڈھائی ہزار سالوں تنہا تھا،اکیلا تھا، بے وطن تھا۔ ظالم کاایسا ہی حشر ہونا چاہیے۔مہذب دنیا نے یہود کو ایک موقعہ دیا تھا مگر اس نے انسانیت کو اپنی ظالم قدموں تلے روندھ ڈالا۔ فلسطین کو آگ کا گھڑا بنا دیا۔ ظالم امریکہ نے دہشت گرد اسرائیل کو ایسا اسلحہ دیا۔ جس کو غزہ کے سیکڑوں شہریوں پر استعمال کیا گیا۔ شہری اس کی تپش سے جل کر ہوا میں تحلیل ہو گئے۔غزہ کودیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا، یہاں کبھی کوئی ہستی کھیلتی بستی تھی۔اب ہر طرف کھنڈرات ہیں۔ انسان نہیں بکریوں کے ریوڑکی شکل میں، تنگ جگہ پر اکٹھے ہیں۔ ان پر بھی جنگ بندی کے باوجود بمباری کی جاتی ہے۔ ٹوٹے پھوٹے خیمے جن میں بارش کا پانی داخل ہو جاتا ہے۔ محصوم بچے ہاتھوں میں کشکول لیے خوراک کے لیے دوڑتے ہیں۔خشک نلکوں کی ٹوٹیوں سے کہیں پانی کاقطرہ ٹپکتا نظر آتا تو پیاسے بچے اس کی طرف دوڑتے ہیں۔ قطروں سے خشک زبانیں تر کرتے نظر آتے ہیں۔ گلیوں میں زمیں پر لیٹے مریضوں کو ڈرپیں لگیں نظر آتی ہیں۔علاج کرنے والے ڈاکٹر مار دیے۔ خبر دینے والے صحافی مار دیے۔خوراک دینے کے لیے موت کے اڈے بنائے۔خوراک کے لیے لائینوں میں لگے غزہ کے بھوکھے لوگ مار دیے۔ظالم اسرائیل نے محاصرہ کیا ہوا ہے کچھ بھی غزہ کے اندر نہیں جاسکتا۔ان حالت میں انسانی حقوق کے کچھ لوگ انسانی ہمدردی کے تحت خوراک،پانی ادویات لے کر غزہ جانا چاہتے تھے۔ ان کے قافلہ پر بین الاقوامی پانیوں میں دہشت گرد اسرائیل نے حملہ کر دیا۔ انہیں قید کر دیا۔ ان کے جہازوں کو ناکارہ بنا دیا۔ دیکھنے والو! بھک مری کو جنگی ہتھیار بنانے والا اسرائیل ایک طرف! اور تباہ شدہ انسانیت غزہ کی شکل میں دوسری طرف موجود! غزہ کوخوراک، پانی، ادویات پہنچانے والاعالمی قافلہ صمود فریڈیم فلوٹیلا۔۲ سال۶۲۰۲ء کی تباہی ایک طرف! آپ کس کے ساتھ ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں