۔،۔ چاقو بردار شخص کے خلاف آپریشن،چاقو بردار پولیس کی گولی کا نشانہ  موقع پر ہلاک۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔ چاقو بردار شخص کے خلاف آپریشن،چاقو بردار پولیس کی گولی کا نشانہ موقع پر ہلاک۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔ چاقو بردار شخص کے خلاف آپریشن،چاقو بردار پولیس کی گولی کا نشانہ موقع پر ہلاک۔ نذر حسین۔،۔

٭چند دنوں میں پولیس کے ہاتھوں دو ہلاکتیں، پہلے ایک ڈورٹمنڈ کے اپارٹمنٹ میں آپریشن کے دوران پولیس کی گولی کا نشانہ بنا، جبکہ چند دنوں بعد ایک آپریشن کے دوران گھر کے دالان میں چاقو بردار پولیس کی گولی سے ہلاک ہو گیا٭

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ڈورٹمنڈ/ہرنے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جرمن پولیس افسران کے لئے آتشیں اسلہے کا سہارا لینا اور کاروائی کے دوران فوراََ گولی کا چلنا شاذ و نارد ہی ہے، جبکہ چند دنوں میں دو بار آتشیں اسلحہ کا استعمال نے دو چاقو بردار افراد کی جان لے لی۔ چند دنوں کے اندر دو بار ملتی جلتی اخباروں کی سرخی پریشان کن ہے، دو بار چاقو بردار فسادی ہی پولیس کی گولی کا نشانہ بنتے دکھائی دیئے، دونوں ہی صورتوں میں کہا جاتا ہے کہ چاقو بردار اشخاص نے پولیس افسران کو چاقو کی دھمکی دی تھی یا چاقو سے حملہ کی صورت میں گولی چلائی گئی تھی۔ تازہ ترین کیس میں ایک جرمنی کے شہر(ہرنے) میں اکیاون سالہ شخص معمول کے مطابق جب کام پر نہیں پہنچا تو پولیس کی مدد مانگی گئی پولیس جیسے ہی دیئے گئے پتہ پر نمودار ہوئی تو پہلے اس شخص نے کھڑکی سے گھر کے برتنوں کو پولیس پر پھینکنا شروع کیا ایک گلاس سے گاڑی کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا، جب پولیس نے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اچانک اکیاون سالہ شخص نے پولیس پر چاقو سے حملہ کر دیا پولیس نے اپنے بچاوُ کے لئے گولی چلا دی، گولی لگنے کے بعد وہ گر گیا رپورٹ کے مطابق دوبارہ زندہ نہ ہو سکا وہ وہیں پر ڈھیر ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز جرمنی کے شہر ڈوٹمنڈ میں ایک (ستر سالہ) شخص پولیس کی گولی کا نشانہ بن گیا، ایمرجنسی سروسز نے پولیس افسران کو الرٹ کیا کہ ایک مریض نے جارحانہ طور پر کچن کی چھری اُٹھا لی ہے، پولیس افسران کی آمد پر ہاتھ میں چھری لئے جیسے ہی پولیس کی طرف بڑھا ایک (چوبیس سالہ) پولیس افیسر نے اسے پیٹ میں گولی مار دی، یا دوسرے الفاظ میں گولی مار کر روکنا چاہا جو اس کے لئے مہلک ثابت ہوئی۔ ٭میگزین۔سول رائٹس اینڈ پولیس٭ کی ایک دستاویزی فلم کے مطابق جرمنی میں پولیس افسران نے گذشتہ سال مختلف کاروائیوں میں (بائیس افراد) کو گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ اس سال کی پہلی سہہ ماہی میں ہی پولیس کی کاروائیوں کے نتیجہ میں سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سائنسدان تھامس فیلٹس جو کئی سالوں سے پولیس کی کاروائیوں پر تحقیق کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ، حالیہ دنوں میں چاقو کے جان لیوا حملوں جیسا کہ ٭من ہائیم اور اشافن برگ٭ میں چاقو بردار افراد نے پولیس اور ننھے بچوں کی جان لے لی تھی۔پولیس افسران کے ذہن میں محتاط یا احطیاتی تدابیر کے لئے آتشیں اسلحہ کا سہارا لینے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر معاشرہ جو تیزی سے سفاکیت پر اترتا نظر آتا ہے ک۔ خلاف خاص طور پر سخت موقف اختیار کرنا ہو گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق چاقو۔خنجر اور چھری سے حملے بڑھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں بشمول پولیس افسران کے خلاف۔ایک رپورٹ کے مطابق خنجر سے لیس شخص اگر پانچ اور چھ میٹر کا فاصلہ برقرار نہیں رکھتا تو پولیس کو اپنی اور ساتھیوں کی حفاظت کے لئے اور جان بچانے کے لئے آتشیں اسلحہ کا کوئی حقیقی متبادل نہیں رہ جاتا۔ گذشتہ سال نارتھ رائن ویسٹ فیلیامیں جرائم کے اعداد و شمار۔چھری چاقو کے جرائم میں (اکیس فیصد) اضافہ سے ٭ سات ہزار تین سُو ٭ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں