۔،۔پاکستانی مافیا نے اٹالین مافیا کو شرما دیا۔اجرت کا مطالبہ کرنے والوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ نذر حسین۔،۔ 0

۔،۔پاکستانی مافیا نے اٹالین مافیا کو شرما دیا۔اجرت کا مطالبہ کرنے والوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ نذر حسین۔،۔

0Shares

۔،۔پاکستانی مافیا نے اٹالین مافیا کو شرما دیا۔اجرت کا مطالبہ کرنے والوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ نذر حسین۔،۔

٭اٹلی میں چار مزدوروں کو جو کھیتوں میں کام کرتے تھے بڑی سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زندہ گاڑی میں جلا دیئے گئے،دلدہلا دینے والی ویڈیو وائرل۔چار افراد کو بھڑکتی آگ میں جلا دیا گیا،(فارم لیبرمافیا)گاڑی کے دروازے کو پکڑے رہے۔دونوں حملہ آورگرفتار ٭واضح رہے پاکستانی مافیا اطالوی مافیا کے زیر کام کرتے تھی اور گرفتار ہونے والے دو پاکستانیوں جن کے نام بدستور(اکتیس سالہ) سفیر احمد اور علی رضا جس کی عمر بھی اکتیس سال بتائی گئی ہے رپورٹ کے مطابق یہ افراد ٹھیکے لیتے ہیں اور غیر قانونی بسنے والے افراد کو کھیتوں میں لے کر جاتے ہیں اور واپسی پر انہیں ان کی رہائش پر اتار دیا جاتا تھا تا کہ وہ کسی اور کو کچھ نہ بتا سکیں-

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/اٹلی/امنڈولارا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ جرم دن کی روشنی میں امنڈولارا قصبہ کے قریب ایک پیٹرول پمپ پر پیش آیا، زندہ جلا دیئے جانے والوں کا تعلق پاکستان اور افغانستان سے تھا جو(سٹرابیری فارموں Erdbeerplantagen) کھیتوں میں مزدوری کرتے تھے، مزدوری کے تنازع پر چاروں مزدوروں کو ان کی کار میں زندہ جلا دیا گیا، آگ کے دوران دم گھٹنے اور جلنے کی بنا پر مزدوروں نے پوری کوشش کی جبکہ مجرموں مافیا افراد نے گاڑی کے دروازوں کو کھلنے نہ دیا باہر سہ بند کر دیئے گئے، مرنے والوں کی کوشش سے گاڑی دیر تک ہچکولے لیتی رہی لیکن سنگدل مافیا نے دروازے کھلنے نہیں دیئے جب چاروں مزدور جل گئے تو مافیا افراد موقع سے فرار ہو گئے۔ اس طرح چاروں افراد زندہ جل کر راکھ ہو گئے، مرنے والوں کے نام ٭عصمت ٭فضل٭وسیم اور صفی بتائے گئے ہیں، پٹرول پمپ پر لگے کیمرے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مافیا نے (فیٹ اولوسی Fiat Ulisse) کی ٹینکی میں نہیں جبکہ ڈائریکٹ گاڑی کے اندر پٹرول ڈال کر آگ لگا دی۔ایک رپورٹ کے مطاق جنوبی اٹلی میں تارکین وطن کے ساتھ غیر انسانی سلوک بہت مشہور ہے۔اٹلی کا یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں پھلوں اور سبزیوں کی بہت زیادہ کاشت ہوتی ہے، اس واقعہ کے بعد سارا اٹلی صدمہ میں ہے، بہت سے لوگ بے چینی بھی محسوس کر رہے ہیں۔ سیکورٹی کیمرے کی فوٹیج میں ایک ایسے ظلم کا مظاہرہ کیا گیا، دو آدمیوں کو ٹینک میں ایندھن بھرنے کی بجائے ایک منی وین کے اندرونی حصّہ کو پٹرول سے بھرتے دیکھا جا سکتا ہے،اس کے بعد دروازوں کو بند کر کے گاڑی کو آگ لگا دی جاتی ہے،گاڑی کو لرزتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ گاڑی میں موجود مزدور فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے جس میں وہ ناکام رہے اور زندہ جلا دیئے گئے۔ یہ تصاویر اور ٹی وی فوٹیج پیر سے اطالوی ٹی وی کی خبروں پر مسلسل دکھائی جا رہی ہیں، اس واقع سے پورا ملک صدمے میں ہے۔اٹلی میں کاشت کی گئی پیداوار اکثر جرمن سُپر مارکیٹوں میں بھی بیچی جاتی ہیں۔ واضح رہے۔ Amendalora میں Orangen۔ Mandarinen، Erdbeeren اور اس کے علاوہ ہر قسم کی سبزیاں بھی کاشت کی جاتی ہیں، وہاں پر ہر شخص سیزن کے دنوں میں کام کرنے کی غرض سے جاتا ہے جن میں زیادہ تر۔ ہندوستانی، پاکستانی، بنگلہ دیشی اور افغانی ممالک کے لوگ آتے ہیں۔ جمہوریت کا دعوہ کرنے والے فی گھنٹہ اجرت اکثر تین یورو سے زیادہ نہیں دیتے جبکہ یورپ میں (سترہ یورو فی گھنٹہ آفیشیلی اجرت) ہے۔ اس کو آپ جدید غلامی کا نام بھی دے سکتے ہیں۔٭شک کی بنا پر فارم لیبر مافیا کے دو افراد گرفتار جو کے پاکستانی نکلے٭واضح رہے پاکستانی مافیا اطالوی مافیا کے زیر کام کرتے تھی اور گرفتار ہونے والے دو پاکستانیوں جن کے نام بدستور(اکتیس سالہ) سفیر احمد اور علی رضا جس کی عمر بھی اکتیس سال بتائی گئی ہے رپورٹ کے مطابق یہ افراد ٹھیکے لیتے ہیں اور غیر قانونی بسنے والے افراد کو کھیتوں میں لے کر جاتے ہیں اور واپسی پر انہیں ان کی رہائش پر اتار دیا جاتا تھا تا کہ وہ کسی اور کو کچھ نہ بتا سکیں،ان افراد سے دس بارہ گھنٹے کام بھی لیا جاتا تھا۔۔گاڑی میں چار نہیں پانچ افراد تھے جن میں سے ایک افغانی جو کے ڈگی کو توڑ کر فرار ہو گیا تھا جبکہ مرنے والوں میں ایک پاکستانی تھا جس کا نام وسیم خان تھا جس کی عمر انتیس سال بتائی گئی ہے جبکہ۔اٹھائیس سالہ امین فضل۔ انیس سالہ اسد اللہ، ستائیس سالہ سفی سجاد تینوں افغان شہری تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں