-,۔    کرسمس مارکیٹ فرینکفرٹ- فوزیہ مغل۔ فرینکفرٹ 0

-,۔ کرسمس مارکیٹ فرینکفرٹ- فوزیہ مغل۔ فرینکفرٹ

0Shares

۔ کرسمس مارکیٹ فرینکفرٹ- فوزیہ مغل۔ فرینکفرٹ

فرینکفرٹ جرمنی کا مالی اور ثقافتی مرکز ہے اور سردیوں کے موسم میں اپنی شاندار کرسمس مارکیٹس کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے ہر سال نومبر کے آخر سے دسمبر کے وسط تک پورا شہر روشن گلیوں خوشبودار کھانوں اور تہوار کی سرگرمیوں سے بھر جاتا ہے کرسمس کی خوشیاں اس شہر کو ایک جادوئی دنیا میں بدل دیتی ہیں جہاں تاریخ روایت اور جدید طرز زندگی ایک ساتھ نظر آتے ہیں فرینکفرٹ کی کرسمس مارکیٹ کی روایت سترھویں صدی سے چلی آ رہی ہے ابتدا میں یہ بازار مذہبی تقریبات اور سردیوں کی خریداری کے لیے لگایا جاتا تھا وقت گزرنے کے ساتھ یہ تہوار ایک بڑی ثقافتی تقریب کی شکل اختیار کر گیا اور آج یورپ کی سب سے دلکش کرسمس مارکیٹوں میں شمار ہوتا ہے یہاں کا ہر علاقہ اپنی مخصوص فضا رکھتا ہے اور ہر مقام تہوار کی روح کو منفرد انداز میں ظاہر کرتا ہےروزمن مارکیٹ اور گوئٹے ہاؤس کے سامنے کا علاقہ یہاں سے فرینکفرٹ کی کرسمس مارکیٹ کا آغاز ہوتا ہے اس مقام سے آگے بڑھتے ہوئے مارکیٹ کتھرینا چرچ لیبے فراوئن چرچ پاول چرچ رومبرگ اور کائزر ڈوم تک پھیل جاتی ہے گوئٹے ہاؤس کی موجودگی اس علاقے کو ادبی حسن عطا کرتی ہے اور کرسمس کی روشنیوں میں یہ منظر مزید دلکش دکھائی دیتا ہےفرینکفرٹ کا کائزر ڈوم شہر کی سب سے اہم اور تاریخی عبادت گاہوں میں شمار ہوتا ہے یہ تیرہویں صدی سے پندرہویں صدی کے درمیان تعمیر ہوا گوتھک طرز تعمیر کا شاہکار ہے اس زمانے میں بادشاہوں کی تاج پوشی اسی گرجا گھر میں ہوا کرتی تھی اسی لیے اسے کائزر ڈوم یعنی شاہی کیتھیڈرل کہا جاتا ہے اپنی تاریخ مقام اور تعمیر کی وجہ سے یہ فرینکفرٹ کی پہلی پہچان ہے کرسمس کے دنوں میں گلووائن سے مہکتی راتوں میں سڑکوں کے دونوں کناروں پر روشنیاں جگمگا رہی ہوتی ہیں جیسے حقیقت میں تارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ رومبرگ فرینکفرٹ کا پرانا دل سمجھا جاتا ہے قرون وسطیٰ کی عمارتیں اور پتھریلے فرش یہاں کی شناخت ہیں کرسمس مارکیٹ کے دوران یہ علاقہ ایک روایتی گاؤں کی طرح دکھائی دیتا ہے جہاں کاریگر اپنی مہارت دکھاتے ہیں موسیقی کی دھنیں گونجتی ہیں اور ہر قدم پر تہوار کی خوشبو پھیلی ہوتی ہے روایتی لکڑی کے اسٹالوں سے بھنی ہوئی بادام دارچینی والی مٹھائی اور گلو وائن گرم مصالحہ دار مشروب کی خوشبو پورے ماحول کو گرم کر دیتی ہے کائزر ڈوم کی اونچی گھنٹیاں جب بجتی ہیں تو لگتا ہے کہ سارا شہر ایک لمحے کو ٹھہر گیا ہے گرجا گھر کے سامنے بڑی کرسمس ٹری رنگین کانچ کے گلوب اور سنہری روشنیوں سے سجی ہوتی ہے جس سے سرد راتوں میں چلتا پھرتا ایک خواب انگیز ماحول بن جاتا ہے بچے ہاتھوں میں چھوٹے لالٹین لیے ہنستے مسکراتے گزرتے ہیں خاندان ایک دوسرے کے قریب آ کر تصویریں لیتے ہیں اور فضاؤں میں کارول گانے والوں کی دلکش آوازیں گونجتی ہیں جس سے ہر طرف ایک پرسکون محبت بھرا احساس چھا جاتا ہےوائین ناخت کی راتوں میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت بھی مائین کی لہروں کی مانند سست روی سے بہہ رہا ہو اور ہر جرمن کی زندگی کے ہر گوشے میں روشنی امن اور امید کا بہاؤ جاری ہو ساتھ ہی ڈوم کی بلند عمارت اس روحانی فضا کو مزید گہرائی بخشتی ہے ڈوم اور رومبرگ دونوں مقامات مل کر کرسمس کی اصل تاریخی روش کو زندہ رکھنے میں پیش پیش ہے۔ اس کے قریب ہی پاول چرچ ہے یہ وہ مقام ہے جہاں اٹھارہ سو اڑتالیس میں پہلی جرمن پارلیمنٹ نے اجلاس کیا تھا یوں یہ جگہ ملک کی جمہوری تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہے کرسمس کے دوران اس چرچ کے گرد سادگی اور وقار سے بھرپور مارکیٹ سجتی ہے جو تہوار کی گہری روح کی نمائندہ ہوتی ہے یہاں پاول چرچ سے جب آپ ہوپٹ واخے کی طرف بڑھتے ہیں تو فرینکفرٹ کی قدیم گلیوں میں چلتے ہوئے راستے میں لیبے فراوئن چرچ Liebe Frauen بھی آتا ہے لیبے فراوئن چرچ فرینکفرٹ کے قدیم ترین گرجا گھروں میں شمار ہوتا ہے یہ خواتین محبت شفقت اور مادریت کی علامت سمجھا جاتا ہے اسی لیے اسے خواتین کی نمائندگی کرنے والا چرچ بھی کہا جاتا ہے قرون وسطیٰ میں یہ چرچ خاص طور پر خواتین کی حفاظت برکت اور دعا کی جگہ سمجھا جاتا تھا چرچ کی تعمیر میں گوتھک طرز تعمیر کا نفیس استعمال ہوا ہے اونچی محرابیں سنگی ستون اور رنگین شیشے کی کھڑکیاں اس چرچ کی شان ہیں کرسمس کے دنوں میں اس کے اطراف میں روشنی اور خوشبو کی محفل اپنے عروج پر ہوتی ہے چرچ کے سامنے واقع چھوٹا سا اسکوائر وائین ناخت کی راتوں میں جگمگاتا ہے درختوں پر لٹکی ہوئی سنہری لائٹس کسی خواب کی مانند لگتی ہیں یہاں ہاتھ سے بنی ہوئی اشیاء لکڑی کے چھوٹے چھوٹے اسٹالوں میں سجی ہوتی ہیں جن میں کھانے پینے کے علاوہ کھلونے رنگین کانچ کے گلوب اور آرائشی لیمپ اس جگہ کو ایک ہی وقت میں قدیم اور جدید حقیقی کرسمس گاؤں اور شہر کا روپ دیتے ہیں۔ یہاں سے چند قدم کے فاصلے پر مین ہوپٹ واخے ہے یہ مقام شہر کا مرکزی دل ہے جہاں سب سے زیادہ چہل پہل دکھائی دیتی ہے روشنیاں مہک دار کھانے ہاتھ کی بنی ہوئی سجاوٹیں اور مصروف اسٹالز ہر آنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں یہاں تحائف مٹھائیاں اور روایتی اشیاء کی خریداری کا لطف اپنی مثال آپ ہے بچوں کے لیے مختلف تفریحی سرگرمیاں موجود ہوتی ہیں جو مارکیٹ کو مزید زندگی بخش بناتی ہیں۔ کیتھرینا چرچ کے اطراف میں اسٹالز مذہبی تھیم والے تحفے اور روایتی سجاوٹوں کے نمونے پیش کرتے ہیں یہاں سے تھوڑا آگے بڑھیں تو آلٹر اوپر فرینکفرٹ کی روشن اور شاندار عمارت سامنے آتی ہے جو یوں تو پورا سال ہی جگمگاتی رہتی ہے کرسمس کی روشنیوں میں اور زیادہ دلکش دکھائی دیتی یہ جرمن آرٹس اور موسیقی کی شناخت ہے یہاں لگنے والے اسٹالز میں ہنر مندوں کی اشیاء اور موسیقی کے پروگرام لوگوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں اور یہ مقام تہوار کی رونق میں مزید حسن بھر دیتا ہے ایک اہم پیش رفت کے تحت آلٹر اوپر اور ہوپٹ واخے کے درمیان مصروف ترین سٹریٹ پر پچھلے دو برسوں سے رمضان المبارک کے مہینے میں جگمگاتے بینرز آویزاں کیے جاتے ہیں جو روشنیوں سے بنا ہوا رمضان مبارک کا دلکش پیغام پیش کرتے ہیں یہ منظر فرینکفرٹ جیسے جدید اور تاریخی شہر کے لیے ایک منفرد واقعہ ہے اور شاید جرمن تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ شہر کے مرکزی حصے میں اسلامی مہینے کی اس قدر خوبصورت علامت کو جگہ دی گئی ہو ان روشن بینرز کو دیکھ کر یہاں مقیم مسلمان اپنے دلوں میں خوشی اور روحانی سکون محسوس کرتے اور یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی مذہبی شناخت کو بھی اسی محبت اور احترام کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے جیسے کرسمس کی روایات کو دیکھا جاتا ہے اور یہ چیز نہ صرف ان کے دل کو تقویت دیتی ہے بلکہ شہر کی ہم آہنگ فضا کو بھی مزید مضبوط کرتی ہے۔ فرینکفرٹ کا ہر مقام اپنی الگ تاریخی و تفریحی پہچان رکھتا ہے اور ہر گلی ایک نیا منظر پیش کرتی ہے نومبر اور دسمبر کا سرد موسم فرینکفرٹ کی وائین ناخت مارکیٹ دیکھنے والوں کے لیے بہترین ہوتا ہے ٹرانسپورٹ کی سہولتیں آسان ہیں اور ہر مقام تک رسائی ممکن ہے فرینکفرٹ کی وائن ناخت مارکیٹ تاریخ ثقافت روحانیت اور خوشیوں کے رنگوں سے سجا ایک ایسا تہوار ہے جو دیکھنے والے کے دل میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتا ہے ہوپٹ واخے روزمن مارکیٹ رومبرگ کائزر ڈوم پاول چرچ لیبے فراوئن چرچ اور آلٹر اوپر سب مل کر ایک ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں جو کرسمس کے جادو کو مکمل اور ناقابل فراموش بنا دیتا ہے یہ مارکیٹ نہ صرف جرمنی کی روایت کی نمائندہ ہے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے بھی زندگی کی سنہری یاد بن جاتی ہے۔ میں بھی یہاں ہر سال باقاعدگی سے الکول فری گلو وائن کا ایک کپ گھونٹ گھونٹ پیتی ہوںاس دوران میں یہ سوچتی ہوں کہ شاید گوئٹے بھی بچپن میں اپنے والدین اور چھوٹی بہن کے ساتھ اسی طرح کرسمس مارکیٹ میں گلو وائن پیتا ہوگا ساتھ ہی تصور میں شوپن ابھرتا ہے جو میری طرح شاید اکیلے کہیں کھڑا یہی گلو وائن گھونٹ گھونٹ حلق میں اتارتا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں