
۔،۔ سٹاڈے میں نوجوانوں (ماوُں) کی دیکھ بھال کی سہولت پر فائرنگ کے نتیجہ میں چھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ نذر حسین۔،۔
٭پینتالیس سالہ مجرم پولیس کی حراست میں،فائرنگ کے دوران ماں اور بیٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ یوتھ ویلفیئر آفس میں میٹنگ کے دوران یہ واقعہ پیش آیا٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/سٹاڈے/ہیمبرگ/ہنوور/سیکسن ان ہالٹ۔ مقامی پولیس رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز سٹاڈے میں نوجوانوں (ماوُں) کی دیکھ بھال کی سہولتمیں اس وقت پیش آیا جب ایک پینتالیس سالہ شخص اپنی تین ماہ کی بچی کو حاصل اور دیکھنے کی سہولت کے لئے یوتھ ویلفیئر آفس اور خود سہولت کے عملے کے ساتھ میٹنگ میں بیٹھا ہوا تھا۔این ڈی آر (شمالی جرمن براڈ کاسٹنگ) کی معلومات کے مطابق۔ سرکاری عملے کے ساتھ ملاقات میں پینتالیس سالہ شخص کی تین ماہ کی بیٹی کی تحویل سے متعلق تھی جو اپنی ماں کے ساتھ سٹاڈے سہولت میں رہائش پذیر تھی، پیر کی اس میٹنگ کے دوران نامعلوم وجوعات کی بنا پر پینتالیس سالہ شخص نے مبینہ طور پر اپنے ساتھ لائے ہوئے پستول سے یوتھ ویلفیئر کے عملے پر فائرنگ شروع کر دی جس کی وجہ سے چار خواتین اور ایک مرد جائے وقوعہ پر ہی مر گئے، ایک کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی گئی جس سے اس کی جان نہ بچ پائی جبکہ ایک مرد نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چند گھنٹوں پر اسپتال میں دم توڑ دیا واضح رہے ماں اور ان کی بیٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، واردات قتل کے بعد ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اسے گرفتار کر لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پینتالیس سالہ مجرم جرمن نڑراد ترکی بتایا گیا ہے جبکہ اس کی پیدائش بھی جرمنی میں ہی ہوئی ہے۔ Süddeutsche Zeitung (SZ)? NDR اور WDR کے ذریعہ حاصل کردہ معلومات کے مطابق تقریباََ پانچ ہفتے کے شیر خوار بچے کو اس کے والدین ہنگامی صورت حال کے طور پر ہنوور کے اسپتال میں لائے تھے۔٭بچہ شیکن بیبی سنڈ روم٭ میں مبتلا تھا جو ممکنہ طور پر جان لیوا دماغی چوٹ ہے۔ جو نتیجتاََ بچے کو پر تشدد طریقہ سے جھنجھوڑنے سے ہو سکتا ہے۔ جس والدین نے اختلاف کیا۔ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے بچے کے علاج کے دوران والدین اور ڈاکٹروں کے درمیان اختلاف رائے پیدا ہوا، بچے کے والد نے ہنگامی سرجری کو روکنے کے لئے پولیس سے رابطہ کیا، جبکہ اسپتال والوں نے بچے کے والد کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی جبکہ دیگر چیزوں کے علاوہ اس کے جارحانہ رویئے سے خطرہ محسوس ہونے کا بھی حوالہ دیا یہ واقعہ بائیس اپریل کو پیش آیا۔ اس واقعہ کے بعد ہی یوتھ ویلفیئرآفس نے ماں اور بچے کو حفاظتی تحویل میں لینے کا حکم جاری کیا۔ابتدائی طور پر کلینک سے ڈسچارج ہونے کے بعد یوتھ ویلفیئر آفس نے چند ہفتوں کی بچی کو حفاظتی تحویل میں لینے کا عمل شروع کیا جبکہ ایک فیملی کورٹ نے بالآخر حکم دیا کہ شیر خوار بچی کو اس کی ماں سے ملایا جائے اس کے بعد چھبیس مئی سے ماں اور بچی سٹاڈے کی ایک خصوصی سہولت میں رکھا گیا۔کیونکہ یہ جوڑا پہلے ہنوور میں رہائش پذیر تھا اسی وجہ سے متاثرین میں سے تین ہنوور کے علاقہ میں یوتھ ویلفیئر آفس میں کام کرتے تھے، (لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے)یوتھ ویلفیئر کے ملازمین، دو خواتین اور ایک مرد مبینہ طور پر شوٹر سے ملاقات کے لئے ہنوور گاربسن سے تقریباََ (دو سو کلو میٹر)کا سفر طے کر کے موت کا سامنا کرنے آئے تھے۔ پیتالیس سالہ مجرم کے پاس آتشیں اسلحہ رکھنے کا لائسنس نہیں تھا، خیال کیا جاتا ہے کہ اس شخص نے برلن کے زو ٹرین اسٹیشن سے خریدا تھا، تفتیشی وجوعات کی بنا پر ہتھیار کی قسم بتانے سے انکار کر دیا۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایکس پلیٹ فارم پر لکھا۔ سٹاڈے سے آنے والی خبر گہرا صدمہ پہنچانے والی ہے۔ وفاقی صدر فرینک والٹر سٹائین میئر کا کہنا تھا کہ ایک ایسی جگہ پر تشدد پر حیران ہوں جہاں تحفظ فراہم کیا جانا چاہیئے۔ ریاست لوئر سیکسن کے وزیر صدر اولاف لائفنز نے ان واقعات کو چونکا دینے والا قرار دیا ہے۔ اتنا کچھ سامنے آ جانے کے باوجود پس منظر ابھی تک دھندلا دکھائی دے رہا ہے۔
