۔،۔غزہ پر یورپ کا دوغلا کردار۔عارف محمود کسانہ۔،۔ 0

۔،۔غزہ پر یورپ کا دوغلا کردار۔عارف محمود کسانہ۔،۔

0Shares

۔،۔غزہ پر یورپ کا دوغلا کردار۔عارف محمود کسانہ۔،۔
سویڈن کے سابق وزیراعظم اور یورپی سیاست کے ایک نمایاں رہنما کارل بلدنے حال ہی میں ایک ایسا سچ بیان کیا ہے جسے مغربی دنیا عرصہ دراز سے نظرانداز کر رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ نے مغرب کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ جملہ صرف ایک سیاسی تبصرہ نہیں بلکہ عالمی اخلاقیات پر ایک سنگین سوال ہے — وہی اخلاقیات جن کے نام پر مغرب دنیا کے دیگر ممالک کو انصاف، جمہوریت اور انسانی حقوق کے درس دیتا رہا ہے۔ کارل بلد نے کہا ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک کی خاموشی پر حیران ہیں۔ مغربی حکومتیں یوکرین پر روسی جارحیت کی تو سخت مذمت کرتی ہیں، لیکن جب اسرائیل غزہ میں شہری آبادی پر بمباری کرتا ہے، اسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بناتا ہے، تو وہی مغرب خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔ یہ تضاد — جو عالمی سیاست کا سب سے بڑا المیہ ہے — دراصل مغربی اقدار کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ سویڈن وہ پہلا مغربی یورپی ملک تھا جس نے اکتوبر 2014 میں باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ اس فیصلے کے بعد سویڈن نے اسٹاک ہوم میں فلسطینی سفارت خانہ قائم کیا، اور یورپی برادری میں ایک نئی بحث چھیڑ دی کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنا انصاف کا تقاضا ہے۔تب کارل بلد اگرچہ حکومت میں نہیں تھے، مگر وہ ان رہنماؤں میں شامل تھے جو سمجھتے تھے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے دو ریاستی حل ناگزیر ہے۔گریتا تھون بیری کا تعلق بھی سویڈن ہے جس نے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی متعدد کوششیں کیں اور اسرائلی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ آج سابق وزیر اعظم جب وہ غزہ کی موجودہ صورتِ حال پر بول رہے ہیں، تو ان کے الفاظ سویڈن کے دیرینہ موقف کی توثیق کرتے ہیں۔ سویڈن میں ہمیشہ ایک ایسا سیاسی طبقہ موجود رہا ہے جو اسرائیل کے “دفاع کے حق” کو تسلیم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی پامالی پر بھی آواز اٹھاتا ہے۔یہی وہ توازن ہے جو مغربی دنیا سے غائب ہوتا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے بیشتر ممالک نے حالیہ برسوں میں فلسطین کے حوالے سے محتاط یا خاموش رویہ اپنایا ہے، لیکن سویڈن کا کردار نسبتاً جرات مندانہ رہا ہے — خواہ وہ سیاسی سطح پر ہو، امدادی منصوبوں کے ذریعے، یا انسانی حقوق کے میدان میں۔ کارل ب?لڈ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کو دفاع کا حق ضرور ہے، لیکن جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ یہ جملہ ایک سابق وزیراعظم کی زبان سے آنا معمولی بات نہیں۔ انہوں نے مغربی دنیا کے ضمیر پر ایک آئینہ رکھ دیا ہے، جس میں اب صرف تضاد اور مصلحت نظر آ رہی ہے۔غزہ کے لاکھوں شہریوں پر اجتماعی سزا، اسپتالوں کی تباہی، اور خوراک و پانی کی ناکہ بندی — یہ سب کچھ اگر کسی اور ملک نے کیا ہوتا تو مغرب کی زبان سے“War Crimes”اور“Human Rights Violations”جیسے الفاظ برس رہے ہوتے۔لیکن جب معاملہ اسرائیل کا ہے، تو زبانیں گنگ ہیں۔کارل بلد نے یوکرین کی جنگ پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق مغرب روس پر تو سخت دباؤ ڈالتا ہے، لیکن اسرائیل کے معاملے میں نرمی اختیار کرتا ہے۔یہی رویہ عالمی قوانین کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے، اور دنیا بھر میں یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ“انسانی حقوق”دراصل ایک سیاسی ہتھیار ہیں، جنہیں مغرب اپنے مفاد کے مطابق استعمال کرتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی ساکھ پہلے ہی کمزور ہو چکی ہے۔ بڑی طاقتوں کی ویٹو پالیسی نے انصاف کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ کارل بلدکے الفاظ میں یہ“Rules-Based World Order”— جس پر مغرب فخر کرتا ہے — خود اپنی منافقت کے بوجھ تلے دبنے لگا ہے۔ کارل بلد نے صرف غزہ یا یوکرین تک بات محدود نہیں رکھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے جمہوریت کی بنیادیں بھی متزلزل ہو رہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو ایک نیا عالمی خطرہ قرار دیا — ایک ایسا میدان جہاں طاقت کا توازن پھر سے ایک یا دو ممالک کے ہاتھ میں جا سکتا ہے۔تمام تر تشویش کے باوجود، کارل بلد نے ایک مثبت نوٹ پر گفتگو ختم کی۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اب بھی دنیا کا بہترین خطہ ہے جہاں امن، استحکام اور معیارِ زندگی سب سے بلند ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ امن اور خوشحالی باقی دنیا کے دکھوں سے لاتعلقی کی قیمت پر قائم رہ سکتی ہے؟کارل بلد کا بیان دراصل صرف سویڈن یا یورپ کے لیے نہیں، بلکہ پوری مغربی دنیا کے لیے ایک آئینہ ہے۔ غزہ کی تباہی، یوکرین کی جنگ، امریکہ کی سیاسی تقسیم، اور مصنوعی ذہانت کا بڑھتا خطرہ — یہ سب اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ دنیا کو محض طاقت سے نہیں بلکہ اخلاقی توازن اور انصاف سے سنبھالا جا سکتا ہے۔سویڈن نے جب فلسطین کو تسلیم کیا تھا، تو اس نے تاریخ کے درست پہلو کا انتخاب کیا تھا۔اب وقت ہے کہ باقی مغرب بھی انصاف اور انسانیت کے اس رخ کی طرف پلٹے — ورنہ تاریخ کے فیصلے ہمیشہ خاموش نہیں رہتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں