
-,-جرمنی کے شہر لِمبرگ کے قریب A3 موٹروے پر المناک حادثہ، دو پاکستانی بہنیں جاں بحق: نذر حسین-,-
: جرمنی کے شہر لِمبرگ کے قریب A3 موٹروے پر پیش آنے والے ایک المناک ٹریفک حادثے میں دو پاکستانی جاں بحق ہو گئیں۔
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/لِمبرگ -مقامی پولیس کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک خاندان اپنی گاڑی خراب ہونے کے باعث انٹرچینج سے کچھ فاصلے پر ہائی وے کے کنارے کھڑا تھا۔ اسی دوران ایک ووہن موبیل (کاروان) کا ڈرائیور اچانک درمیانی لین سے دائیں جانب ایگزٹ کی طرف مڑا۔ کاروان پہلے دو مرتبہ گارڈ ریل سے ٹکرایا اور پھر ایک چھوٹی گاڑی سے جا ٹکرایا، جو بظاہر خرابی کے باعث سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں اور ریسکیو ہیلی کاپٹر موقع پر پہنچ گئے۔ ایک خاتون موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں، جبکہ دوسری خاتون کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ اتوار کے روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں۔پولیس کے مطابق کاروان کے ڈرائیور کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ بدھ کی شام تقریباً پانچ بجے پیش آیا، جبکہ پولیس واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات کر رہی ہے۔حادثے میں جاں بحق ہونے والی دونوں بہنیں فائرہ ادریس اور نمرہ ادریس پاکستان کے علاقے ڈھل کھمبا سے تعلق رکھتی تھیں۔ وہ چوہدری محمد ادریس کی جواں سال بیٹیاں، چوہدری عبدالمناف، چوہدری عبدالغفار، چوہدری نثار احمد اور عبدالجبار کٹاریہ کی بھانجیاں، جبکہ حاجی محمد اقبال کی بھتیجیاں تھیں۔بروز جمعرات جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کی جامع مسجد غوثیہ میں مرحومہ بہنوں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں پاکستانی کمیونٹی سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں بروز ہفتہ ان کی میتیں پاکستان پہنچنے پر ڈھل کھمبا میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔نمازِ جنازہ کی امامت خطیبِ مسجد حضرت مولانا ملک محمد صدیق پتھروی نے کرائی۔ اس موقع پر قائم مقام قونصل جنرل فہد الرحمٰن سمیت پاکستانی کمیونٹی کی کاروباری، سماجی، مذہبی اور سیاسی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔اس المناک حادثے نے جرمنی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور مرحومہ بہنوں کے اہلِ خانہ کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ واقعے کی خبر دیکھتے ہی دیکھتے جرمنی، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں میں پھیل گئی، جبکہ ہر طرف مرحومہ بہنوں کے لیے مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعائیں کی جاتی رہیں۔
