۔،۔تبصرہ کتاب:دی روڈ ٹو مکہ،(شاہراہِ مکہ)۔از۔علامہ محمد اسدؒ۔،۔ 0

۔،۔تبصرہ کتاب:دی روڈ ٹو مکہ،(شاہراہِ مکہ)۔از۔علامہ محمد اسدؒ۔،۔

0Shares

۔،۔تبصرہ کتاب:دی روڈ ٹو مکہ،(شاہراہِ مکہ)۔از۔علامہ محمد اسدؒ۔،۔

میری لائبریری میں کافی عرصہ پہلے کتاب ”شاہراہِ مکہ“ کا اضافہ ہوا تھا، مگر تبصرہ لکھنے کا آج موقعہ ملا۔میں جناح مارکیٹ اسلام آباد”مسٹر بک“کی دکان پر گیا، جہاں میری کتابیں مارکیٹنگ کے لیے رکھی ہوئی ہیں۔اسی دوران میں نو مسلم”علامہ اسدؒ کی یہ کتاب خریدی۔تین سو اکیاون (۱۵۳)صفحات کی کتاب جس کااُردو ترجمہ”یاسر جواد“ نے کیا ہے۔بارہ مختلف عنوانات پر مشتمل کتاب ہے۔کہانی یا ناول کے انداز میں اپنی زندگی کے حالات، ایک ربی یہودی خاندان کافرد ہوتے ہوئے اسلام قبول کرنے،ہندوستان سمیت ساری اسلامی دنیا کے سفر، تجربات کے دوران دین اسلام کو مغرب تک پہنچانے کافریضہ انجام دیا۔کتاب کے گہرائی سے مطالعہ کے دوران معلوم ہواکہ علامہ محمد اسدؒ ۲ جولائی ۰۰۹۱ء میں لیمبرگ، آسٹریا میں پیدا ہوئے۔والدین نے leaopold weiss نام رکھا۔چھوٹی عمر میں ہی عمرانی اورآرا می زبانیں سیکھیں۔ عہد عتقیق اور تالمود کی تفاسیر مطالعہ کیا۔ ویانا یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔پھرامریکی نیوز ایجنسی میں ٹیلیفون آپریٹر کی نوکری کی اور صحافی بن گئے۔برطانیہ کے زیر انتظام فلسطین اپنے ماموں ڈوڑیان کے ہاں قیام کیا۔صف اوّل کے جرمن اخبار”فرینکفر ٹرزئیتوک“ کے نامہ نگار بن گئے۔ایک سعید روح والےweiss leaopold (علامہ محمداسدؒ) نے فلسطین میں ”یہودی وطن“ کے تصور کا تنقیدی انداز میں جانچ پڑتال شروع کی تو اسے نہایت غیر منطقی اور ظالمانہ پایا۔اپنے مضامین میں صہیونی منصوبے کومسترد کر دیا۔اخبار کا نامہ نگار ہونے کے وجہ سے عرب دنیا کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔عرب انداز حیات اور روایات کے علاوہ مذہب اسلام کے کچھ اصولوں نے اپنی جانب متوجہ کیا اورکافی سوچ وبچار کے بعد۶۲۹۱ء برلن کی ایک مسجد میں امام کے ہاتھ اسلام قبول کرکے اپنا نام محمد اسد رکھا۔مصر،سعودی عربیہ،ایران،افغانستان،جنوبی سویت جمہوریاؤں کے سفر کیے۔مزے کی بات ہے جس بھی کسی اسلامی ملک گئے سرکاری مہمان بنائے گئے۔۲۳۹۱ء میں برطانوی ہندوستان آ گئے۔علامہ اقبالؒ سے ملاقات کی۔علامہ اقبالؒ کی اسلامی ریاست کے حامی بنے۔علامہ اقبالؒ نے علامہ اسدؒ کو چوھدری نیاز علی سے متعارف کرایا۔ہندوستان میں قیام کے دوران چوھدری نیاز علی کے ساتھ دارالسلام ٹرسٹ انسٹی ٹیوٹ میں کام کیا۔۹۳۹۱ء میں ہندوستان کی برطانوی حکومت نے جاسوسی کے الزام میں علامہ محمد اسد ؒکو گرفتار کر کے تین سال کے لیے قید کر دیا۔پاکستان بننے کے بعد انہیں شہریت دی گئی۔ایک ”محکمہ اسلامی تعمیر نو“ء‘جو قائد اعظم نے بنایا تھا،اس کا علامہ اسدؒ کوچیف بنایا گیا۔پاکستان کے آئین بننے میں علامہ اسدؒ نے مدد کی تھی۔۹۴۹۱ء میں پاکستان کی خارجہ امورکی وزرات مڈل ایسٹ ڈویژن کا سربراہ تعینات کیے گئے۔۲۵۹۱ء پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ میں نمائندہ مقرر ہوئے۔اپنی عمر کے ۳۲ سال تک کے حالات اس کتاب”شاہراہ مکہ“ میں بیان کیے۔علامہ اسد ؒ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔دیباچہ میں خود لکھتے ہیں میری کہانی محض ایک یورپی کی جانب سے اسلام کی دریافت اور مسلم کیمونٹی کا حصہ بن جانے کی کہانی ہے۔میں اقوام متحدہ میں اسلام کی نمائندگی کر رہا تھا۔ میں سوچا اسے تو کوئی بھی پاکستانی سرانجام دے سکتا ہے۔ میں کیوں نااسلام پرکتاب لکھ کر مغرب کو جواب دوں کہ اسلام اور مغرب میں تفیہم ضروری ہے۔ اس کتاب میں یہی کچھ ہے۔
عنوان نمبر۔1”پیاس“ میں لکھتے ہیں عہد عتیق میں بیان کردہ تیما کے کنویں دیکھنے کی خاطر زیادہ لوگ صحرا الفودکو پار کرنے کی ہمت نہیں کرتے ہوں گے۔ مگر میں سعودیہ قیام کے دوران میں زید کے ساتھ تیما پہنچ گیا۔اس دورکے اسلام کے حالات لکھے۔
عنوان نمبر۔11”راستے کاآغاز“ میں لکھتے ہیں کہ میں بائبل کا قصہ یادا ٓتا ہے۔میں اُس جگہ ٹہراجس جگہ عورتیں پانی بھر رہی تھیں۔ اسی جگہ حضرت اسحاق کے لیے رشتہ تلاش کیا گیا تھا۔
عنوان نمبر۔111”ہوائیں“ میں لکھتے ہیں ۲۲۹۱فلسطین یوروشلم سے میرے ماموں نے مجھے اپنے پاس کچھ وقت گزانے کی دعوت دی۔وہ یہودی ہونے کے بوجود صہیونیت کو پسند نہیں کرتے تھے۔میں یروشلم پہنچ گیا۔یہ وہ یوروشلم ہے جس میں یسعیاہ نے تبلیغ کی۔ جہاں صلاح الدین ایوبی کی عبارت کندہ تھی۔ جسے ۷۱۹۱ء برطانوی استعمار میں بلفور ڈیکلریشن کی ظالمانہ چال سے صہیینوں کے وطن کا عہد کیا گیا۔

عنوان نمبرv.۱”آوازیں“ میں لکھتے ہیں۔۲۲۹۱ء تا ۶۲۹۱ء مشرق وسطی میں گزرے دنوں میں محسوس کیا کہ مسلمان جب بھی اپنے حق میں کوئی اقدام کرتے ہیں تو یورپی ہمیشہ اسے رد کر دیتے ہیں۔فلسطین میں جب بھی عربوں صہیونیوں میں تصادم ہوا برطانیہ نے صہیونیت کا ساتھ دیا۔
عنوان نمبرv”روح اور جسم“ میں فرماتے ہیں ۳۲۹۱ء میں کچھ مہنیے ترکی میں گزارے۔مصطفےٰ کمال ابھی پوری طرح تبدیل نہیں ہوا تھا۔یہاں جلتی پہاڑی سے موسیٰؑ کوخدا کی آواز سنائی دی،یسوحؑ کوصحرا میں خدا کی بادشاہت کا پیغام ملا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو غار حرا سے پہلی آیت نازل ہوئی۔پھرمیں نے دیکھا کہ اتاترک نے ترکی معاشرہ کس قدر گرا دیا ہے۔
عنوان نمبر۔v1”خواب“ میں عبدالعزیزابن سعودکے ساتھ دنوں کا واقعہ لکھتے ہیں۔ابن سعود نے کہا کوئی کہتا ہے کہ علامہ محمد اسد انگلش جاسوس تو نہیں؟میں نے کہا نہیں وہ سچا مسلمان ہے۔میں نے کہا آپ کوکیسے یقین ہوا۔کہتے ہیں، میں نے خواب میں ایسا ہی دیکھا ہے۔
عنوان نمبر۔v11 ”بیچ کی راہ“ لکھتے ہیں ہم مدینہ کی طرف جا رہے تھے۔منصور ہمارے ساتھ کسی کام سے شریک ہوگیا۔مجھ سے معلوم کرتاہے آپ عربوں میں رچ بس گئے۔ بتائیں مسلمان کیسے ہوئے۔میں نے کہا بہت سال پہلے عرب آیا تو مجھے عربوں کا انداز حیات میں کشش محسوس ہوئی۔مسلمانوں کے اندر حیات کی تفہیم مجھے دن بدن بہتر تفہیم کی طرف لائی۔ کچھ مدت بعد اسلام قبول کر لیا۔
عنوان نمبر۔v111”جنات“ میں فرماتے ہیں۔سورج غروب ہو رہاتھا کہ سانپ ہماری طرف آرہا تھا۔ میں نے فائر کر اسے مار دیا۔منصورنے کہاآپ نے سانپ کو نہیں مارنا تھا۔ جن سانپ کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں۔زید نے بھی ایسا کچھ کہا۔منصور ایسا نہیں۔ تم پرانی کہانیوں پریقین رکھتے ہو۔اسی دوران ابن سعود نے مجھے اپنے دشمن الدویش کو اسلحہ کہاں سے ملتا ہے کی انکواری کے لیے بھیجا۔ الدویش کے ساتھی جنوں جیسے تیزمشہورتھے۔لمبے سفر اور تحقیق کے بعد پتہ لگاکہ الدیش کویت سے اسلحہ ملتا ہے۔
عنوان نمبر۔1x”فارس سے خط“ میں لکھتے ہیں کہ میں مدینہ میں تھا کہ فارس سے خط آیا تو مجھے رضاخان دوست کے ساتھ گزرے دن یاد آئے۔ مگر خط میں اس کا نہیں،بلکہ بادشاہ رضاشاہ پہلوی کاذکر تھا۔ جو ۵۲۹۱ء تخت طاؤس پر بیٹھا تھا۔اس بادشاہ نے انسانیت کی تمام حدیں پار کر لیں۔ کمال اتاترک کی تقلید میں اس قدیم ایشیائی سرزمین کو مغربی روپ دے دیا۔
عنوان نمبر۔x ”دجّال“ میں لکھتے ہیں میں اپنے پرانے دوست شیخ عبداللہ ابن بلیہد کے پاس بیٹھا اس کے ہاتھ میں کتاب دیکھ رہا ہوں۔دجال کے بارے میں شیخ سے گفتگوکی
۔یہودیوں پر مظالم کاکرتے ہوئے والد اور بہن کا بتایا کہ برلن سے انہیں نکال دیا گیا۔ کنٹرکشن کیمپ ان کی زندگی کا خاتمہ ہوا۔
عنوان نمبر۔x1”جہاد“اس میں اپنے دوست سید احمد بارے لکھتے ہیں کہ پورے عربیہ میں اس کو زیادہ چاہتا ہوں۔ اس نے ساری عمر جہاد کیا اور اسلام کا نام بلند کیا۔اتاترک کی اسلام خلاف اقدام سے متنفر ہو کرکنارہ کش ہو گیاتھا۔سید عمر مختیار سے ملاقات کا بھی ذکر کرتا ہے۔
عنوان نمبر۔x11”راستے کا اختتام“ میں فرماتے ہیں کہ مکہ کے لیے مدینہ سے اسی راستے ہم نکلے جس راستے سے رسولؐاللہ آخری حج کے لیے نکلے تھے۔لگتا ہے اس کتاب کا نام بھی اسی لیے”دی روڈ ٹو مکہ“ (شاہراہِ مکّہ) رکھا۔ساری کتاب میں دین اسلام کے واقعات بیان فرمائے۔کہیں سفر میں کہیں قیام میں، ایک کہانی یا ناول کی شکل میں۔حضرت ؑعاجرہ، حضرت ابراہیم ؑاورحضرت اسماعیل ؑاور مکہ کے حالات بیان کیے۔
اس مشہورکتاب”دی روڈ ٹو مکہ“ کی نیویارک پوسٹ،سینٹ لوئس پوسٹ ڈسپیچ،کرسچیئن سائنس مانیٹراور ٹسائسمسذ لٹریسی سپلیمنٹ جیسے مشہور معروف صحافتی اداروں اپنے اپنے انداز میں تعریف کی۔کہانی کی شکل میں پورے دین اسلام اور تاریخ اسلام کو مغرب تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں