
۔،۔امریکی ریاست جارجیامیں چالیس سالہ استاد اپنے طالب علموں کے مذاق میں ہلاک ہو گیا۔ نذر حسین۔،۔
٭پانچ نوجوان طالب علموں نے ایٹلانٹا کے قریب اپنے استاد(جیسن ہوگ) کے گھر گارڈن پر ٹوائلٹ پیپر پھینکے، استاد نے ان کا پیچھا کرنے کی کوشش کی تو (جیسن ہیوگ) کو ایک جان لیوا حادثہ پیش آیا،استاد کو جمعہ کے دن ہی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، وہ وہیں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/امریکا/جارجیا/اٹلانٹا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ امریکی ریاست جارجیا (اٹلانٹا)میں ایک چالیس سالہ استاد کے ساتھ پیش آیا،رپورٹ کے مطابق اس واقعہ میں پانچ طالب علم شامل تھے جنہوں نے جیسن ہیوگ کے گھر اور صحن میں ٹوائلٹ پیپرز پھینک یا درختوں کے ساتھ لٹکائے دیکھنے میں یہ ایک بے ضرر مذاق تھا، کہا جاتا ہے کہ لڑکے رات کو ساڑھے گیارہ بجے اس کے گھر دو گاڑیوں میں پہنچے، یہ سب کچھ دیکھ کر ٹیچر گھر سے باہر نکلا تو نوجوان بھاگ کھڑے ہوئے، ہیوگ ان کا پیچھ کرنا چاہتا تھا جبکہ پاوں پھسل جانے کی وجہ سے سڑک پر گیا اسیدوران اچانک ایک پک اپ ٹرک نمودار ہوا جوو اٹارہ سالہ نوجوان ڈرائیو کر رہا تھا، جس پر قتل کا الزام عائد کیا جا رہا ہے اور یقیناََ اسے تین سے پندرہ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ چار دیگر نوجوانوں کو نجی املاک میں تجاوزات اور کوڑا کرکٹ پھینکنے کے الزامات کا سامنا کرنا ہو گا۔ متوفی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہیوگ نو عمر لڑکوں کو بہت اچھے طرح جانتا تھا اور پسند بھی کرتا تھا، خاندان کا کہنا ہے کہ یہ ایک خوفناک سانحہ تھا، جبکہ ہم حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ تمام الزامات کو ختم کر دیا جائے ہم نوجوانوں کی زندگیوں کو برباد نہیں کرنا چاہتے۔ د(جیسن ہوگ) اٹلانٹا کے شمال مشرق میں تقریباََ (نوے) کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع شہر گائینس ویلے کے نارتھ ہائی اسکول میں دوسرے مضامین کے علاوہ ریاضی پڑھاتے تھے۔ ان کے ایک پڑوسی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ٹوائلٹ پیپر کا واقعہ نارتھ ہال کے طالب علموں کی مقامی روایت کا حصّہ تھا جو پروم سیزن کے دوران اپنے اساتذہ پر مذاق کرتے تھے۔ جبکہ ہیوگ کے اہل خانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہیوگ کو معلوم تھا کہ اس طرح کے مذاق کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، وہ جب گھر سے نکلا تھا تو مقابلہ کی نیت سے نہیں نکلا تھا وہ ان کو حیران کرنے کی امید لے کر ان کا پیچھا کرنے لگا تھا۔




